ہاں وہ اتوار کا دن ہی تھا وزیر اعظم نے صبح 6 بجے مولانا صاحب سے مشورہ کیا، آسمان بالکل صاف تھا کہ عادتاً صبح 6بجے کی خبروں میں بہت کچھ آگیا۔ پھر اخبار آئے، پھر خبر آئی مولانا سے پھر مشورہ کیا گیا۔ ساڑھے نو بجے میرے گھر میں میری ملازمہ کی پہلی بیٹی کی سالگرہ کا شور شروع ہوا۔ آوازیں ہنسی اور قہقہوں کی، بچوں کے رونے کی ،ادھر ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے بہت سنجیدہ اور مفہوم سے شہباز شریف صاحب کابینہ کی صدارت کرتے نظر آئے۔ توقع ہوئی کہ مولانا سے پھر مشورہ کیا گیا ہے۔ کچھ بہتر نتیجہ نکلے گا۔ کہیں سے دور سے آواز آئی نعروں کی، صحیح سے سنائی نہیں دیا۔ گھر میں ملازمہ کی ساری رشتہ دار جوڑے پہنے اور خوشبو لگائے، گھر بھر میں پکوڑوں کی خوشبو اور ٹیلی وژن پہ دیکھا گیا کہ محسن نقوی، صدر صاحب سے اعلان نامے پہ دستخط کروا رہے ہیں ۔مولانا صاحب خوش نہیں ہوئے۔ صوابی میں وزیر اعلیٰ جلوس کی قیادت کر رہے ہیں۔ ٹیلی فون آتا ہے۔ ’’پھپھو آپ پہنچی نہیں نکاح ہو رہا ہے ‘‘۔اعلان نامہ ٹی وی پر سنایا جا رہا ہے ’’ایمرجنسی، گورنر راج، فوج تعینات‘‘۔ اب آواز آئی بیرسٹر گوہر کچھ بول رہے ہیں۔ ناراض لگتے ہیں۔ آواز آئی ریڈ زون سیل کر دیا گیا… میری ملازمہ بولی ’’آنٹی ٹیلی وژن بند کریں آئیں ہمارے ساتھ نینا کا کیک کاٹیں‘‘ ٹی وی پہ دیکھا، مشرف کے حکومت سنبھالنے پہ لڈو کھلائے گئے تھے اب ن لیگ والے گلیوں میں لڈو کھلاتے دکھائے جا رہے تھے۔ پھر فون بجا۔ ’’خالد بول رہا تھا‘‘۔ پھپھو مبارک ہو نکاح ہو گیا۔ جلدی آؤ…! ٹی وی پر بتایا جا رہا تھا ’’حالات قابو میں ہیں۔ بہت لوگ ٹرانسفر کر دیئے گئے ہیں۔ اب صوبے کے گورنر بہت اونچی آواز میں بول رہے تھے۔ میں غصے میں مگر غور کرتے ہوئے سننا چاہتی تھی۔ میری ملازمہ نے ٹی وی بند کر دیا۔ میں خالی آنکھوں سے سارے مہمانوں کو ہنستا دیکھ رہی تھی۔
ٹی وی نے بتایا لوگ گرفتار نہیں کیے جا رہے۔ ان کو حفاظتی تحویل میں لیا جا رہا ہے۔ سب دفتر کھلے ہیں۔ کوئی پیچھے سے بول رہا ہے PTI حکومت بچانے اور عمران کیلئےریلیف حاصل کرنے کاموقع گنوا بیٹھی۔ سہیل وڑائچ نے مجھے بلھے شاہ یاد کراتےہوئے کہا ’’سچیاںنو پئے ملدے دھکے‘‘۔ تحریک انصاف 13برس حکومت کر کے، ناک آؤٹ کے درجے پہ پہنچ کر ذمہ داری سے فارغ ہو گئی۔ آپریشن کےبعد اب وفاقی حکومت اس کھچڑے کو کیسے سنبھالےگی۔ سکون سے دیکھتے جائیے ویسے بھی سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی چین کی سیر کو موقع غنیمت جان کر روانہ ہوتے ہوتے رہ گئے۔
لائبہ! تم نےکیوں پوری قوم کا دل دکھایا ہے۔ اچھی بھلی گولڈن ڈگری ابھی بی اے کی لی تھی۔ کسی فریبی سے تمہاری ملاقات ہوئی اور پھر وہی تمہارا رہنما بن گیا۔ ابا سے ضد کر کے پلاٹ فروخت کروایا۔ اماں کے سونے کے زیور گروی رکھوائے۔ اس غارت گر کو 93 لاکھ دے دیے تو لائبہ کو اپنی ذہنی شکست نظر آئی۔ بی اے میں اول اور امریکہ پڑھنے کو جانے کا خواب دیکھنے والی کو فراڈ کا پتہ چلا تو لائبہ تمہاری غیرت جاگی، تم خودکو مجرم قرار دیتے ہوئے، جذبات میں بھری گھر سے نکل کر درخت کیساتھ جھول گئیں،ماموںکے ذریعےمعافی مانگی۔ سارے ملک کی تمہاری ہم عمر بہنیں اور تمہارے کالج کی دوستوں، سارے اخبار والے اور تو اور محسن نقوی بھی تمہارے گھر پہنچے۔ اتنے بھرے گھر میں سسکیوں کے علاوہ سناٹا تھا۔ وہ منحوس گرفتار بھی ہو گیا مگر لائبہ ٹی وی ڈراموں کا کردار بن کر چلی گئی۔
تمہیں خبر تھی کہ غزہ اور دوسری جنگوںمیں لوگ یتیم ہوئے بچوں کو جو کہ 63ملین ہیں۔ ساری دنیا کے لوگ گود لینے کیلئے درخواستیں دے رہے ہیں۔ فرانس تک میں غربت کا یہ حال ہے کہ لوگ پرانے کپڑوں اور جوتوں کو مرمت کر کے سردیوںکے لئے تیار کر رہےہیں۔ ورلڈ بینک او رآئی ۔ ایم۔ ایف نے کہا ہے کہ پاکستان میں 48فیصد آبادی اتنے امدادی فنڈز کے باوجود غریب ہے۔ تھر میں خشک سالی کے باعث مور مر رہے ہیں۔ ان اداروں نے اندازہ لگایا ہے کہ فی کس 3ڈالرمیں گزر اوقات ہو رہی ہے۔ ہم لوگ اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ مہنگائی۔ اف یہ ذکر مت کریں۔ اسپین میں لوگ گھر مانگ رہے ہیں۔ ناروے کا وزیر اعظم خود دفتر سائیکل پر جاتا ہے۔ ضیاء الحق نے بھی اس کی نقل کی تھی اور افسروں نے دیکھا دیکھی سائیکلیں خریدلی تھیں۔ اب یوں تو نوجوان بچیوں کو اسکوٹر دیئے جا رہےہیںمگر پیٹرول ہاتھ نہیں لگنے دیتا۔اب جبکہ خیبر پختون خوا میں کوئی میڈیا کھلا نہیں ہے۔ جگہ جگہ کنٹینرکھڑے ہیں۔ لوگ چپ مگر سڑک پر ہیں۔ مولانا صلاحب ’’بار بار میں نے منع کیا تھا، ایمرجنسی مت لگاؤ‘‘۔ صدر زرداری دستخط کرتے ہوئےیہ سوچ رہے ہونگے’ کتنی بڑی ذمہ داری لےرہا ہوں‘۔
انڈیا کا مستقبل بھی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کرے پاکستانی نوجوان بھی جاگ اٹھیں۔ اتنے قرضے گھروں کے ، نوکری کے ،بچوں کو پڑھانے کے، حکومت اعلان کر رہی ہے۔ کیا یہ سب اعلان عملی شکل بھی حاصل کریں گے۔ یہ آبادی جو پچاس فی صد ہے۔ کیوں باہر جانے کو غنڈوں کے فریب میں آ رہی ہے۔ اب تو ملایشیا نے بھی کہا ہے ’’انڈیا پاکستان مل کر مسائل حل کریں۔ یہ بھی غریب کی آواز لگتی ہے ایمرجنسی ختم ہو، تو ہم سب جمہوریت کیلئے بولیںگے۔