• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرشد جیسا بھی ہو، مرید کو اسی کے راستے پر چلنا پڑتا ہے، خواہ اس راستے کے اختتام پر اقتدار کی منزل ہو یا جیل کی کوٹھڑی۔ سیاست میں مرشد سے محبت، وفاداری اور نظریاتی وابستگی اپنی جگہ، مگر جب یہی وابستگی سیاسی بصیرت، زمینی حقائق اور حالات کے تقاضوں پر غالب آجائے تو فیصلے جذبات کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کی قیمت پوری جماعت، اس کی قیادت اور بالآخر اس کے ووٹر کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی سیاست اور سہیل آفریدی کے طرزِ عمل کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عمران خان کی ضد اور مفاہمت سے مسلسل گریز کی سیاست نے اپنے ہی سیاسی ساتھیوںکیلئے مشکلات کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ مرشد کی محبت میں سہیل آفریدی اقتدار سے محرومی کے بعد جیل تک پہنچ گئے تو یہ محض ایک فرد کی سیاسی آزمائش نہیں بلکہ تحریک انصاف کی اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس میں مزاحمت کو سیاست کا لازمی جزو اور مفاہمت کو کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر کسی تحریک کے پاس مطالبات تو ہوں لیکن ان مطالبات کو حاصل کرنے کی قابل عمل حکمت عملی نہ ہو،ایسی تحریک آہستہ آہستہ اپنی توانائی خود ہی ختم کرنے لگتی ہے۔ ایک حساس صوبے کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سہیل آفریدی کی بنیادی ذمہ داری صوبے کے انتظامی، معاشی اور امن و امان کے مسائل حل کرنا تھی۔ تاہم جب انکی سیاست کا محور صوبے کے مسائل کے بجائے وفاق سے تصادم اور اپنے قائدکیلئے سڑکوںپر طاقت کا مظاہرہ بن جائے تو حکمرانی کا اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ جب سیاسی جماعتیں مذاکرات کی بات کر رہی تھیں، مختلف حلقوں سے مفاہمت کے مشورے سامنے آ رہے تھے اور یہ امید پیدا ہو رہی تھی کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے کوئی راستہ نکل سکتا ہے، اس وقت کنٹینر پر کھڑے ہو کر لانگ مارچ کی سیاست جاری رکھنا کیا واقعی دانش مندی تھی؟ سہیل آفریدی کے معاملے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا لانگ مارچ نے تحریک انصاف کے مطالبات کو مضبوط کیا یا اس نے حکومت اور ریاستی اداروں کو سخت اقدامات کیلئے مزید سیاسی گنجائش فراہم کر دی؟ اس تمام صورتحال میں محمود خان اچکزئی کے کردار پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

مذاکرات کے آخری مرحلے میں یہ مو قف سامنے آیا کہ پہلے عمران خان سے ملاقات ہوگی، کیا ملاقات اور مذاکرات کے دوسرے معاملات کو بیک وقت آگے بڑھانے کی کوئی صورت نہیں نکالی جا سکتی تھی؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب مذاکراتی عمل فیصلہ کن مرحلے میں تھا تو کیا تمام فریقوں کو کسی درمیانی راستے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی؟ اب گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے غیرمعمولی اقدامات کے بعد کیا صورتحال ہوگی؟ جیسی بحث میں اُلجھ چکی ہے۔ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے انتظامی کنٹرول قائم کر لیاگیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی مسئلہ حل ہو گیا۔ انتظامی اختیار حاصل کرنا ایک مرحلہ ہے، عوامی اعتماد حاصل کرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔ اگر اقدامات کو آئینی حدود کے اندر، واضح وجوہات اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق نافذ کیاگیا تو حکومت اپنے موقف کا دفاع کر سکتی ہے، لیکن اگر تا ثر سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے یا کسی جماعت کو انتخابی میدان سے باہر رکھنے کا پیدا ہوا تو معاملات الجھ بھی سکتے ہیں۔

گورنر راج کی مدت، اس کے تسلسل اور مستقبل کے انتخابی عمل پر اس کے اثرات بھی اہم سوالات ہیں۔ اگر یہ سلسلہ طویل ہو جائے اور اگلے انتخابات تک سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا تاثر پیدا ہوا تومعاملہ مزید پیچیدہ ہو سکتاہے۔ ایسی صورت میں تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے، امیدواروں، انتخابی مہم اور ووٹ بینک پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہو گا کہ گورنر راج نافذ ہوتے ہی تحریک انصاف کی عوامی حمایت ختم ہو جائے گی۔ تحریک انصاف کیلئے سب سے بڑا خطرہ صرف گرفتاریوں یا حکومتی اقدامات کا نہیں بلکہ اپنی سیاسی حکمت عملی کے اندر موجود تضادات کا ہے۔ مرکزی قیادت پہلے ہی قانونی مقدمات اور سزاؤں کا سامنا کر رہی ہے، صوبائی قیادت بھی جیلوں میں پہنچ چکی ہے ، ایسے حالات میں جماعت کیلئے سیاسی سرگرمیوں کو موثر انداز میں جاری رکھنا یقینا ً مشکل ہو گا۔ اس خلا میں نئے سیاسی گروپ سامنے آ سکتے ہیں، پرانے ساتھی الگ راستہ اختیار کر سکتے ہیں اور مقامی سطح پر نئی قیادتیں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ زوال کا حقیقی آغاز اس وقت ہوتا ہے جب جماعت اپنے ووٹر کے مسائل سے کٹ جائے، سیاسی فیصلے چند افراد کی ضد کے تابع ہو جائیں اور اختلافِ رائے کی گنجائش ختم ہوجائے۔ تحریک انصاف کو اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اب سوال صرف یہ نہیں کہ گورنر راج کب ختم ہوگا، ایمرجنسی کا معاملہ کس سمت جائے گا یا تحریک انصاف اپنے قائد کیلئے کیا حاصل کر سکے گی۔ اس پورے سیاسی بحران کے بعد پاکستان کی سیاست کس سمت آگے بڑھے گی۔ کیا سیاسی جماعتیں اس تجربے سے سبق سیکھ کر مذاکرات اور آئینی راستے کو ترجیح دیں گی یا ایک بار پھر تصادم کی اسی دلدل میں اتر جائیں گی؟ تحریک انصاف اور متحدہ اپوزیشن، دونوں کےپاس ایک اہم موقع تھا کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو کسی بامعنی نتیجے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتیں۔ اگر یہ موقع ضائع ہوگیا ہے تو اب محض الزام تراشی سے کوئی راستہ نہیں نکلے گا۔ عمران خان کی قیادت کا بھی تقاضایہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی ساتھیوں کو ایسی حکمت عملی دیں جس سے ان کی مشکلات کم ہوں، نہ کہ ہر نیا قدم انہیں مزید تنہائی کی طرف دھکیل دے۔ تاریخ شاہد ہے کہ نہ احتجاج ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، نہ طاقت ہمیشہ فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ بالآخر وہی سیاسی قوت آگے بڑھتی ہے جو حالات کو سمجھنے، وقت پر فیصلہ کرنے اور اپنے مخالف کے ساتھ بھی قومی مفاد کیلئے بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد اب سب کا امتحان شروع ہو چکا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمےکیلئے کیا فیصلہ کن اقدامات کئے جاتے ہیں اور اس کے نتائج کیا نکلیں گے۔

تازہ ترین