آج کل سوشل میڈیا پر بعض نام نہاد دانشور یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ سندھ شروع سے غلام رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ کا مطالعہ کیے بغیر چند جملوں کو حقیقت بنا کر پیش کرنا ہی دانشوری سمجھ لیا گیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے، جس میں ایک عظیم تہذیب، منظم شہری زندگی، مختلف حکمران خاندانوں، خودمختار ریاستوں، بیرونی حملوں کے خلاف مزاحمت اور سیاسی اقتدار کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ سندھ کو ابتدا ہی سے غلام قوم قرار دینا نہ صرف تاریخی حقائق سے ناواقفیت ہے بلکہ اس خطے کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ کو نظرانداز کرنے کے مترادف بھی ہے۔
سندھ کی عظمت کا آغاز کسی جدید ریاست کے قیام سے نہیں ہوتا، بلکہ اسکی جڑیں وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب میں پیوست ہیں۔ تقریباً پانچ ہزار سال پہلے موہن جو دڑو جیسا شہر اس سرزمین پر آباد تھا، جہاں منظم سڑکیں، پکی اینٹوں کے مکانات، کنویں، غسل خانے اور نکاسیٔ آب کا مربوط نظام موجود تھا۔ یہ کوئی غیر منظم آبادی نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، تجارت، دستکاری اور اجتماعی نظم کی حامل ایک ترقی یافتہ تہذیب تھی۔یونیسکو نے بھی موہن جو دڑو کو جنوبی ایشیا کے قدیم ترین منصوبہ بند شہری مراکز میں شمار کیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس سرزمین پر ہزاروں سال پہلے منظم شہری زندگی موجود تھی، اسے تاریخ کے مطالعے کے بغیر ہمیشہ سے غلام قوم کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ کسی قوم کی تاریخ میں بیرونی حملے ہو سکتے ہیں، حکومتیں تبدیل ہو سکتی ہیں اور سیاسی اقتدار چھن سکتا ہے، لیکن ان واقعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ قوم اپنی پوری تاریخ میں غلام رہی ہے۔
موہن جو دڑو کی تہذیب کے بعد سندھ میں مختلف سیاسی اور حکومتی ادوار آئے۔ قدیم سندھ کی تاریخ میں رائے خاندان کی حکومت اہم مقام رکھتی ہے۔ اس کے بعد برہمن خاندان کا اقتدار قائم ہوا، جس کے آخری معروف حکمران راجہ داہر تھے۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخری حصے میں سندھ ایک باقاعدہ سیاسی اقتدار کے تحت تھا، جسکی اپنی حکمرانی، فوج اور انتظامی ڈھانچہ موجود تھا۔ یہ صورتِ حال خود اس دعوے کی نفی کرتی ہے کہ سندھ کی تاریخ میں کبھی آزاد سیاسی اقتدار موجود ہی نہیں رہا۔
711ء اور 712ء عیسوی کے دوران اموی خلافت کے سپہ سالار محمد بن قاسم کی قیادت میں عرب فوج نے سندھ پر حملہ کیا۔ راجہ داہر نے عرب لشکر کے خلاف مزاحمت کی اور جنگ میں مارے گئے۔ اس کے بعد سندھ کے بڑے حصوں پر عرب اقتدار قائم ہوا۔ اس واقعے کو تاریخ میں سندھ کی فتحِ عرب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم اس کے بعد بھی سندھ کی سیاسی تاریخ ختم نہیں ہوئی۔ مختلف مقامی اور بیرونی خاندانوں نے مختلف ادوار میں یہاں حکومت کی، نئی ریاستیں قائم ہوئیں اور اقتدار کی صورتیں بدلتی رہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی سلطنت کا بیرونی حملے میں شکست کھا جانا اور کسی قوم کا ہمیشہ سے غلام ہونا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔ اگر کسی ملک پر کسی دور میں بیرونی طاقت قابض ہو جائے تو اس سے اس ملک کے سابقہ آزاد سیاسی وجود کی نفی نہیں ہوتی۔ تاریخ میں ایسی مثالیں دنیا کے بے شمار خطوں میں موجود ہیں۔
سندھ کی تاریخ میں سومرا اور سمعہ خاندانوں کے ادوار بھی قابلِ ذکر ہیں۔ ان ادوار میں مقامی سیاسی اقتدار نے اہم کردار ادا کیا۔ بعد کے زمانوں میں ارغون، ترخان اور مغل حکمران بھی سندھ پر قابض ہوئے۔ پھر کلہوڑا خاندان کا اقتدار قائم ہوا اور اس کے بعد تالپور حکمران سندھ کی سیاست میں نمایاں ہوئے۔ ان تمام ادوار سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ کی تاریخ مختلف سیاسی قوتوں، مقامی حکمران خاندانوں، بیرونی حملوں اور اقتدار کی تبدیلیوں سے عبارت ہے۔ اسے ایک ہی لفظ، یعنی غلامی، میں محدود کر دینا تاریخی مطالعے کے بجائے تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
سندھ کی جدید قبل از نوآبادیاتی تاریخ میں تالپور حکومت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ 1783ء میں میاں عبدالنبی کلہوڑو کی حکومت کے خاتمے کے بعد میر فتح علی خان تالپور نے اقتدار حاصل کیا اور تالپور حکمرانی کا آغاز ہوا۔ اس دور میں سندھ کے مختلف حصوں پر تالپور خاندان کی مختلف شاخوں کی حکومت تھی۔ حیدرآباد، خیرپور اور میرپورخاص اہم سیاسی مراکز تھے۔ ان ریاستوں کے درمیان اختیارات اور تعلقات کی اپنی پیچیدگیاں تھیں، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ سندھ کا اپنا کوئی حکومتی نظام یا سیاسی اقتدار موجود نہیں تھا۔پھر 1843ء آیا، جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سندھ پر قبضہ کر لیا۔ 17 فروری 1843ء کی جنگِ میانی میں تالپور حکمرانوں کی فوج کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد 24 مارچ 1843ء کو حیدرآباد کے قریب جنگِ دُبّہ میں میر شیر محمد خان تالپور نے بھی برطانوی فوج کے خلاف مزاحمت کی۔ بالآخر سندھ کو برطانوی ہندوستان میں شامل کر لیا گیا اور اس کی آزاد تالپور حکمرانی ختم ہو گئی۔یہ واقعہ سندھ کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس سے پہلے سندھ پر مختلف مقامی اور بیرونی خاندان حکومت کرتے رہے تھے، لیکن 1843ء میں برطانوی قبضے کے ذریعے اس کی خودمختار تالپور حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا تاریخ کا مطالعہ ہے، مگر اس واقعے کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ سندھ ہمیشہ سے غلام تھا، تاریخی شعور نہیں۔
سندھ نے برطانوی دور میں بھی اپنی سیاسی شناخت اور حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھی۔ اسی تاریخی تسلسل میں تحریکِ پاکستان کے دوران سندھ کا کردار سامنے آتا ہے۔ 3 مارچ 1943ء کو سندھ اسمبلی نے پاکستان کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کی۔ یہ برصغیر کی کسی صوبائی قانون ساز اسمبلی کی جانب سے پاکستان کے قیام کے حق میں منظور ہونے والی پہلی قرارداد تھی۔ اس قرارداد کو جی ایم سید نے پیش کیا تھا۔البتہ تاریخ کو سمجھنے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم سندھ کے مختلف ادوار کو ایک دوسرے سے الگ رکھیں۔ موہن جو دڑو کی تہذیب کے لوگ جدید معنوں میں آج کے قومی تشخص کے حامل تھے یا نہیں، اس بارے میں قطعی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح قدیم سلطنتوں اور جدید قومی ریاستوں کے تصورات میں بھی فرق ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ سندھ میں قدیم شہری تہذیب، منظم حکمرانی، مقامی سیاسی اقتدار اور بیرونی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی تاریخی مثالیں موجود ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تاریخ کو اکثر سیاسی بحث جیتنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی پسند کے واقعات منتخب کرتے ہیں اور باقی تاریخ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ کوئی قوم صرف اس لیے عظیم نہیں ہوتی کہ اس نے کبھی شکست نہیں کھائی، اور نہ ہی کوئی قوم صرف اس لیے غلام کہلا سکتی ہے کہ اس پر مختلف ادوار میں بیرونی حملے ہوئے۔ قوموں کی تاریخ میں عروج بھی ہوتا ہے، زوال بھی۔ آزادی بھی ہوتی ہے، قبضہ بھی ۔مزاحمت بھی ہوتی ہے اور سیاسی تبدیلیاں بھی۔
تاریخ کا فیصلہ نعروں سے نہیں، شواہد سے ہوتا ہے۔ سندھ پر بیرونی حملے ہوئے، اس کی خودمختاری مختلف ادوار میں ختم ہوئی، لیکن یہ کہنا کہ سندھ شروع سے غلام قوم تھا، ایک غیر محتاط اور تاریخی طور پر گمراہ کن دعویٰ ہے۔ سندھ ایک قدیم تہذیب، مختلف ادوار میں قائم ہونے والی ریاستوں اور حکمران خاندانوں، سیاسی جدوجہد اور منفرد ثقافتی شناخت کی سرزمین ہے۔ اسکی تاریخ کو سمجھنے کیلئے تعصب نہیں، مطالعہ اور تاریخی دیانت درکار ہے۔