جب کسی صوبے میں ماں بچے کو اسکول روانہ کرتے ہوئے اس کی واپسی کی فکر میں دروازے پر کھڑی رہ جائے، پولیس اہلکار اور فوجی جوان گھر سے ڈیوٹی پر نکلیں تو اہلِ خانہ کے دل اندیشوں سے بھر جائیں، اور روزی کمانے جانے والا شہری شام کو خیریت سے گھر پہنچنے کی دعا کرے، تو حکمرانی کا پہلا امتحان عوام کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ ایسے میں روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہوں، تعلیمی ادارے دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہوں، بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہو اور مسلح گروہ دیہات سے شہروں تک بھتہ مانگ رہے ہوں، حتیٰ کہ پردیس میں بسنے والے پاکستانیوں کو بھی اپنے اہلِ خانہ کی سلامتی کے بدلے رقم دینے کی دھمکیاں ملنے لگیں، تو حکومت کی کوئی ترجیح امن سے بڑی کیسے ہوسکتی ہے؟ لیکن اگر صوبائی قیادت پر یہ الزام ہو کہ اس کی توجہ ان مسائل کے بجائے اپنے گرفتار رہنما کی رہائی پر مرکوز ہے، سرکاری وسائل عوام کے تحفظ کے بجائے دھرنوں اور مارچوں پر صرف ہو رہے ہیں اور وفاق سے سیاسی کشمکش دہشتگردی کیخلاف ضروری تعاون میں رکاوٹ بن رہی ہے، تو سوال محض سیاست کا نہیں رہتا، حکومت کی بنیادی ذمہ داری کا بن جاتاہے۔ پھر ریاست کب تک انتظار کرے، اور شہریوں کی حفاظت کیلئے اس کے پاس کون سا مؤثر آئینی راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو اسی سوال کے ساتھ، اس کے شواہد اور نتائج کی روشنی میں پرکھنا ہوگا۔
یہ کہنا تاریخی طور پر غلط ہوگا کہ دہشتگردی 2013 میں پیدا ہوئی۔ صوبہ اس سے پہلے بھی خونریزی برداشت کر رہا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے والوں نے ورثے میں ملنے والے بحران سے نکلنے کیلئے کیا کیا، حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کیسے محفوظ رکھا اور بعد میں خطرے کی واپسی پر کیا حکمتِ عملی اختیار کی؟
نواز شریف کی وفاقی حکومت کے دور میں جون 2014 ءمیں آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا۔ فوج، ایف سی، پولیس اور دوسرے اداروں کے جوانوں نے جانیں قربان کیں۔ لاکھوں شہریوں نے نقل مکانی اور گھروں سے جدائی برداشت کی۔ دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ ہوئے، بہت سے مارے گئے اور بڑی تعداد افغانستان فرار ہوئی۔ امن کسی تقریر کا تحفہ نہیں تھا۔ اس کی قیمت گھروں، بازاروں اور فوجی چوکیوں نے ادا کی۔ ان کارروائیوں کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی۔
اعداد بھی اس بہتری کی گواہی دیتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کا ریکارڈ مرتب کرنے والے ادارے کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے متعلق واقعات 2013ءمیں 504سے کم ہو کر 2018 ءمیں 73رہ گئے۔ صوبائی حکومت کو اس بہتری کا حصہ تسلیم کرنا چاہیے، لیکن پھر یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ اتنی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن دوبارہ ہاتھ سے کیوں نکلنے لگا؟
2018ء میں وفاق میں بھی عمران خان کی حکومت قائم ہوگئی۔ اب مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت تھی۔ پھر 2021ء میں افغانستان کا نقشہ بدلا اور پاکستان نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور مشروط معافی کا راستہ اختیار کیا۔ عمران خان نے بعد میں دوبارہ آبادکاری کے منصوبے کا دفاع کیا، جبکہ تحقیقی جائزوں میں جنرل فیض حمید کا مذاکراتی کردار بھی سامنے آیا۔ سوال مفاہمت کے لفظ پر نہیں، اس کی شرائط پر ہے:جن جنگجوؤں سے لڑتے ہوئے پاکستانی خاندان اجڑے، ان کی واپسی سے پہلے ہتھیار، جواب دہی اور نگرانی کی کیا ضمانتیں حاصل کی گئیں؟
عمران خان کی اس پالیسی پر اعتراضات بھی ہوئے لیکن عمران اپنے فیصلے پر قائم رہے اور یوں صوبے میں دہشت گردی بڑھتی رہی ، پھر دنیا نے دیکھا کہ دہشتگردی سے متعلق واقعات 2020ء میں 99، 2021ء میں 169، 2022ءمیں 225، 2023 ء میں 472، 2024 ء میں 702 اور 2025ء میں 766ہوئے۔ 2026ء میں 13اکتوبر تک 851 رونما ہوئے۔
خودکش حملوں کی الگ تصویر بھی خوفناک ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2020ءمیں 1، 2021 میں 2، 2022ءمیں 8، 2023ءمیں 28اور 2024 ءمیں 15حملے ہوئے۔ فوجی ترجمان کے مطابق 2025ءمیں صوبے میں 16خودکش حملے ہوئے، جبکہ 2026ءکی دستیاب جدول میں 13 درج ہیں۔ ہر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا کسی بچے کا باپ، کسی ماں کا بیٹا اور کسی خاندان کی پوری دنیا ہے۔
خوف اب بیرونِ ملک پاکستانیوں کے دروازے بھی کھٹکھٹا رہا ہے۔ 9اکتوبر کو جنگ میں میری شائع شدہ رپورٹ میں جاپان کے پشاور، صوابی اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے بھتے اور قتل کی دھمکیوں کی شکایت کی۔ ان کے مطابق کال کرنے والے خود کو ٹی ٹی پی سے وابستہ ظاہر کرتے اور پاکستان میں موجود گھروں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ پردیس میں محنت کرنے والا پاکستانی اپنے وطن میں خاندان کے تحفظ کیلئے آخر کس دروازے پر جائے؟یہیں صوبائی حکمرانی کا سوال فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ وفاقی حکومت کا الزام ہے کہ صوبائی قیادت نے انسدادِ دہشتگردی میں ضروری تعاون کے بجائے عمران خان کی رہائی اور سیاسی محاذ آرائی کو ترجیح دی۔
وزیراعظم شہباز شریف سے گزارش ہے کہ اب وفاق نے غیرمعمولی اختیار لیا ہے تو غیرمعمولی ذمہ داری بھی قبول کرے۔ دہشت گردی کا خاتمہ، مضبوط پولیس، محفوظ اسکول، فعال اسپتال اور نوجوانوں کیلئے روزگار ترجیح بنائیں۔ پنجاب میں مریم نواز کی حکومت جن ترقیاتی اور عوامی خدمت کے اہداف کو آگے بڑھانے کا دعویٰ کرتی ہیں، خیبرپختونخوا کیلئے بھی ویسے ہی قابلِ پیمائش اہداف مقرر ہوں۔ تیرہ برس سے بہتر مستقبل کے منتظر عوام کو اب تقریر نہیں، روزمرہ زندگی میں فرق چاہئے۔ ماں بچے کو اسکول بھیجے تو اسے یقین ہو کہ شام کو اسکا بچہ واپس آئیگا۔ حکومت کی اصل پہچان یہی ہونی چاہئے۔