• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں ان دنوں یورپ کے دورے پر ہوں لیکن یہاں اس مرتبہ مختلف مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔طلبہ،مزدور،ملازمین اور عام شہری سڑکوں پر ہیں حکومتیں ششدر ہیں بعض تجزیہ نگار ان مظاہروں کو آئندہ انتخابات سے بھی جوڑ رہے ہیں لیکن میرا خیال قدرے مختلف ہے۔یورپ کو دنیا بھر میں جمہوریت، انسانی حقوق، سماجی تحفظ، قانون کی حکمرانی اور خوش حالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اکتوبر 2026ء کے وسط میں یورپ کے مختلف ممالک میں احتجاجی لہر نے ایک اہم سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا ترقی یافتہ معیشتیں اپنے عام شہریوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں؟ فرانس، بلجیم، اٹلی اور پرتگال میں مہنگائی، رہائش، تعلیم اور عوامی خدمات کے مسائل پر مظاہرے ہوئے، جبکہ البانیہ میں بدعنوانی اور حکومت مخالف تحریک نے زیادہ پُرتشدد شکل اختیار کر لی۔

فرانس اس وقت ان احتجاجی سرگرمیوں کا سب سے نمایاں مرکز ہے۔ 17اکتوبر کو پیرس سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد نے شرکت کی۔بعض اطلاعات میں سرکاری اندازہ تقریباً دو لاکھ، جبکہ منتظمین کی جانب سے پانچ لاکھ سے آٹھ لاکھ تک شرکا کا دعویٰ سامنے آیا۔ مظاہرین کے مطالبات میں مہنگائی پر قابو پانا، ایندھن کے اخراجات میں کمی، قوتِ خرید کی بحالی اور عوامی خدمات میں بہتری اور تعلیمی اخراجات میں کمی شامل تھے۔ بعض مقامات پر احتجاج پرتشدد ہوا، پولیس نے آنسو گیس استعمال کی، کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے،گرفتاریاں ہوئیں اور دکانوں و سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا۔مظاہرین نے کئی معروف برانڈز کی دکانیں لوٹ لیں، یوں ایک سماجی احتجاج نے فرانسیسی حکومت کیلئے سیاسی اور انتظامی چیلنج کی صورت اختیار کر لی۔ بلجیم میں احتجاج کا تعلق بھی اسی وسیع تر سماجی بے چینی سے ہے، تاہم وہاں تعلیمی اخراجات اور حکومتی بجٹ میں مجوزہ کٹوتیاں بھی اہم موضوع بن گئیں۔ 9اکتوبر کو برسلز میں مزدور تنظیموں کے احتجاج کے دوران دسیوں ہزار افراد نے حکومتی اقدامات پر اعتراض کیا، جبکہ 17 اکتوبر کو طلبہ کے مظاہروں میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی اطلاعات سامنے آئیں۔ طلبہ کو خدشہ ہے کہ تعلیمی اصلاحات اور بڑھتے اخراجات اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیں گے۔

اٹلی میں میلان اور بولوگنا سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف آواز اٹھائی، جبکہ بعض مقامات پر احتجاج کے دوران پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔پرتگال میں رہائش کا بحران احتجاج کی ایک نمایاں وجہ بن کر سامنے آیا۔ لزبن سمیت مختلف شہروں میں مظاہرین نے بلند کرایوں، کم اجرتوں، مہنگائی اور گھروں کی عدم دستیابی کے خلاف آواز اٹھائی۔ یورپی شماریاتی ادارے یوروسٹیٹ کے مطابق 2015ء کی تیسری سہ ماہی سے 2025ء کی تیسری سہ ماہی تک یورپی یونین میں گھروں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 63.6 فیصد اضافہ ہوا،۔ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ رہائش کا مسئلہ کسی ایک شہر یا طبقے تک محدود نہیں رہا۔بلکہ پورے یورپ کا ہر طبقہ اس سے متاثر ہے۔

البانیہ کی صورت حال ان ممالک سے کچھ مختلف ہے۔ دارالحکومت تیرانا میں طلبہ کی قیادت میں ہونیوالے احتجاج نے وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کے مطالبے کی شکل اختیار کر لی۔ 17 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے پانچ روز سے جاری احتجاج کے دوران سیکڑوں گرفتاریوں کی اطلاع دی، جبکہ جھڑپوں میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔

ان واقعات کے معاشی پس منظر میں رہائش کا بحران خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ یوروسٹیٹ کی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے گھرانوں نے 2024ء میں اپنی قابلِ استعمال آمدن کا اوسطاً 19 فیصد رہائش پر خرچ کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ میں تعلیمی اخراجات میں اضافے کے بعد گھروں کی دستیابی ایک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ جمہوری معاشرے میں احتجاج بذاتِ خود ریاست کی ناکامی کا ثبوت نہیں ہوتا۔بعض اوقات یہ جمہوریت کی صحت کی علامت بھی ہوتا ہے، کیونکہ شہریوں کو اپنی شکایات بیان کرنے اور حکومت سے جواب طلب کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اصل امتحان حکومت کے ردعمل میں ہے۔ اگر حکومت شہریوں کی شکایات سننے، شفاف اعدادوشمار پیش کرنے اور قابلِ عمل اصلاحات کرنے کے بجائے ہر اختلاف کو سازش قرار دے، تو بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم پُرامن احتجاج اور تشدد کے درمیان حد برقرار رکھنا حکومت اور مظاہرین دونوں کی ذمہ داری ہے۔یورپ کے موجودہ واقعات پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک سبق رکھتے ہیں۔ معاشی استحکام صرف مجموعی قومی پیداوار، زرمبادلہ کے ذخائر یا سرمایہ کاری کے اعدادوشمار سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ عام آدمی کو روزگار، مناسب اجرت، سستی رہائش، معیاری تعلیم، علاج اور محفوظ مستقبل میسر ہے یا نہیں۔ اگر ترقی کے ثمرات چند طبقات تک محدود رہیں تو عوامی بے اطمینانی کسی بھی معاشرے میں جنم لے سکتی ہے، خواہ اس کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتی ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یورپی حکومتیں محض امن و امان کی بحالی پر اکتفا نہ کریں، بلکہ ان معاشی اور سماجی مسائل کا بھی حل تلاش کریں جنہوں نے شہریوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔ اسی طرح سیاسی قیادت کو چاہیے کہ احتجاج کے پیغام کو سنے، حقائق کی روشنی میں فیصلے کرے اور عوامی اعتماد کی بحالی کو ترجیح دے۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت صرف اس کی پولیس، پارلیمان یا معیشت نہیں ہوتی، اصل طاقت شہریوں کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ریاست ان کی مشکلات کو سمجھتی اور ان کے حل کیلئے سنجیدہ ہے، تو اختلاف بھی مکالمے میں بدل سکتا ہے۔ لیکن جب روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات مسلسل ناقابلِ برداشت ہوتی جائیں تو خوشحالی کے بڑے بڑے دعوے بھی عوامی بے چینی کو خاموش نہیں کر سکتے۔

تازہ ترین