• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی کبھی تاریخ کے بڑے دروازے کسی عظیم الشان معاہدے سے نہیں بلکہ ایک معمولی سی ملاقات، چند خوش گوار جملوں اور برسوں بعد دوبارہ قائم ہونے والے رابطے سے کھلتے ہیں۔ سفارتکاری کی دنیا میں ایسے لمحات بظاہر مختصر ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر امکانات کی ایک طویل راہ پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے قومی رابطہ کاروں کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی اور بھارتی وفود کے درمیان پیدا ہونے والا نسبتاََ خوش گوار ماحول بھی اسی نوعیت کا ایک لمحہ ہے۔

2 برس کے وقفے کے بعد کسی بھارتی وفد کی پاکستان آمد محض ایک انتظا می سرگرمی نہیں ،بلکہ ایسے وقت میں رابطے کی بحالی کا اشارہ ہے جب دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات طویل عرصے سے سیاسی بداعتمادی اور سفارتی تعطل کے حصار میں ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جتنی پرانی ہے، اتنی ہی پرانی یہ حقیقت بھی ہے کہ جغرافیہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ ہونے نہیں دیتا۔ سرحدیں سیاسی فیصلوں سے کھینچی جاسکتی ہیں مگرد ریا ،پہاڑ ،موسم ، منڈیاں، تہذیبی اثرات اور انسانی رشتے کسی نقشے کی لکیر کے پابند نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 2ہمسایہ ریاستوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا راستہ بند ہو جائے تو بھی کثیر الجہتی اداروں کے اجلاس انہیں ایک میز کے گرد لا کھڑا کرتے ہیں۔

شنگھائی تعاو ن تعظیم کا فورم اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہاں باہمی اختلافات کو نظر انداز کئے بغیر مشترکہ مفادات پر گفتگو کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ اسلام آباد میں28سے 30ستمبر تک ہونے والے قومی رابطہ کاروں کے اجلاس میں تنظیم کے آئندہ پروگراموں، رابطہ کاری، تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر غور کیا گیا۔ پاکستان اس وقت ایس سی او کی سربراہی کر رہا ہے اور اس کی ترجیح ویژن کو عملی اقدام میں تبدیل کرنا، رابطہ کاری ، جدت اور مشتر کہ خوشحالی قراردی گئی ہے۔ اس ترجیح میں دراصل اس پورے خطے کے مستقبل کا ایک اہم سوال پوشیدہ ہے کہ کیا ایشیا کے ممالک سیاسی اختلافات کے باوجود اقتصادی، تجارتی ، ثقافتی اور سفارتی تعاون کے ایسے راستے پیدا کر سکتے ہیں جو خطے کو مسلسل محاذ آرائی کے بجائے مشترکہ ترقی کی طرف لے جائیں؟ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں تلاش کرنا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطوں کی بحالی کو بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ بھارتی ایس سی او قومی رابطہ کار آلوک دیمری کا یہ کہنا کہ پاکستان کا پہلا دورہ کر کے انہیں خوشی ہوئی اور وہ لاہور، سیالکوٹ اور فیصل آباد بھی دیکھنے کے خواہش مند ہیں، بظاہر ایک معمولی سفارتی بیان معلوم ہو سکتا ہے، مگر عوامی سطح پر رابطے کی اہمیت کو سمجھنے والوں کیلئے اس میں ایک مختلف پہلو موجود ہے۔

اب بات کرتے ہیں ملکی سیاسی منظر نامے کی،وفاقی حکومت نے خیبر پختو نخوا کے نامز د اضلاع میں امن وامان ، شہریوں کے تحفظ ، بہتر طرز حکمرانی اور ترقی کو یقینی بنانے کیلئے ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ (اے ڈی ایس) کے فوری قیام کا حکم دیدیا ہے۔ وفاقی حکمنامے کے مطابق ایر یا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ ایریاریپرپزنٹیٹو ڈیویلپمنٹ کونسل کی نگرانی میں کام کرے گا ، اے آرڈی کی نامز د اضلاع کی معزز شخصیات پر مشتمل پر ہوگی جس کی سربراہی چیئر مین کریں گے، چیئر مین، وائس چیئر مین، ترجمان اور ارکان کی تقرری مقررہ طریقہ کار اور مدت کے مطابق کی جائے گی۔ نامزد اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک ،لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا(نامزد اضلاع )ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کی سربراہی کریں گے اور یہی اہلکار ان اضلاع کے ایڈ منسٹر یٹر بھی ہوں گے۔

نامزد اضلاع میں تعینات صوبائی حکومت کے افسران اور دیگر اداروں کے اہلکار اپر یا ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے انتظامی اور آپریشنل کنٹرول میں ہوں گے، مزید تعیناتیوں اور تبادلوں کا حکم ایڈ منسٹریٹر کی سفارش پر وزیر اعظم وقتافوقتا دے سکیں گے۔ ایڈمنسٹریٹر نامز د اضلاع میں صوبائی حکومت کے تمام انتظامی، انتظامیاتی اور قانون نافذ کرنے سے متعلق اختیارات استعمال کریں گے، انہیں گورننس ، سکیورٹی اور ترقی کیلئے تنظیمی ڈھانچے قائم کرنے اور ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی نگرانی کا اختیار حاصل ہوگا ۔ اسی طرح ایڈ منسٹر یٹر سول انتظامیہ، پولیس اور فوجی حکام کو ہدایات جاری کر سکیں گے اور ایر یا ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے آپریشنل تنظیمی و انتظامی امور کے ساتھ فنڈز کی تقسیم و منتقلی کے احکامات بھی جاری کر سکیں گے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے فاٹا کونسل کی تشکیل کیلئے ہوم ورک مکمل کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ فاٹا کونسل کی تشکیل کیلئے وفاقی حکومت نے قبائلی عمائدین سے مشاورت کی جس میں قبائلی عمائدین نے اپنی تجاویز بھی پیش کر دیں۔پاکستان کے ارد گرد جاری کشیدگی اور مشرقی و مغربی سرحدوں پر پہنچنے والی سازشوں کے تناظر میں حالات اس نکتے پر پہنچ چکے ہیں کہ غلطی یا کسی سیاسی ایڈونچر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ صرف ایسے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جن میں صرف ملکی مفاد کو پیش نظر رکھا جائے ، نہ کہ کسی کا سیاسی مفاد یا انتظام۔ اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے بالغ نظری کا مظاہرہ کیا جاتا اور سیاست کے بجائے ملکی مفاد کو اولیت دی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور امن و امان کی صورتحال اس قدر خراب نہ ہوتی ۔ اب جبکہ ریاست نے اپنی قوت کے ذریعے حالات کا کنٹرول سنبھالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور پہلا قدم اٹھا لیا گیا ہے تو لازم ہے کہ اسے کسی بھی فریق کے سیاسی مفاد یا انتظام سے بالاتر رکھا جائے ۔ صرف وہی اقدام قابل قبول ہے جو ملک کے مفاد میں ہو۔ دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کا قیام اسی سلسلے کی کڑی ہے، مگر اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ انتظامی کنٹرول قانون کی رٹ قائم کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ دہائیوں سے دہشتگردی اور بدامنی کا شکار ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں اور معاشی بحالی پر بھی توجہ دی جائے۔

تازہ ترین