• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زمین کا مرکز اب بھی مادّے خارج کر رہا ہے؟ سائنسدانوں کو اہم شواہد مل گئے

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

سائنسدانوں کو ایسے شواہد ملے ہیں جن سے اشارہ ملتا ہے کہ زمین کا انتہائی اندرونی حصّہ یعنی اس کا مرکز، آج بھی ہائیڈروجن، ہیلیئم اور ٹنگسٹن جیسے مادّوں کو اوپر کی تہوں کی جانب منتقل کر رہا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق زمین کے مرکز اور اس کی درمیانی سطح کے مابین اربوں سال سے مادّوں کا تبادلہ جاری ہے۔

حالیہ تحقیق کا یہ نتیجہ سامنے آنے کے بعد زمین کی ابتدائی تشکیل کے بارے میں موجود سائنسی نظریات پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

یہ تحقیق چین کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے کی ہے اور اسے سائنسی جریدے ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کے لیے محققین نے کمپیوٹر سیمولیشنز اور مشین لرننگ کی مدد سے زمین کی گہرائیوں میں انتہائی بلند دباؤ اور درجۂ حرارت کے تحت ہائیڈروجن کے رویے کا جائزہ لیا۔

محققین کے مطابق تقریباً 4.5 ارب سال قبل زمین انتہائی گرم، بڑی حد تک پگھلی ہوئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ بھاری عناصر نیچے کی جانب جمع ہو کر زمین کا مرکز بن گئے جب کہ نسبتاً ہلکے مادّوں سے زمین کی درمیانی اور بیرونی سطح تشکیل پائی۔

سائنس دان طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا زمین کی گہرائیوں میں موجود کیمیائی آثار صرف اس ابتدائی دور کی باقیات ہیں یا زمین کے مرکز اور اس کی درمیانی سطح کے مابین مسلسل تبادلے کے نتیجے میں ان کی ساخت تبدیل ہوتی رہی ہے۔

نئی تحقیق میں ہائیڈروجن کی دو اقسام عام ہائیڈروجن اور اس کی بھاری قسم ڈیوٹیریم کے تناسب کا مطالعہ کیا گیا۔ 

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ ہائیڈروجن کی دونوں اقسام کی تقسیم میں بہت بڑا فرق ہے یعنی مضبوط امکان ہے کہ ہائیڈروجن کا کچھ حصہ زمین کے مرکز سے اوپر کی تہوں تک پہنچ رہا ہے۔

تحقیق کے دوران آئس لینڈ اور کینیڈا کے بافن جزیرے سمیت مختلف مقامات سے ملنے والی آتشی چٹانوں نے اہم سراغ فراہم کیے ہیں جو زمین کے اندرونی حصّوں سے آنے والے مادّوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

محققین نے تحقیق کے دوران ہائیڈروجن، ہیلیئم اور ٹنگسٹن کے آئسوٹوپس کا بھی مطالعہ کیا ہے، ان آئسوٹوپس کا تناسب سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ چٹانوں میں موجود مادّے کہاں سے آئے اور زمین کی تاریخ میں ان کی نقل و حرکت کیسے ہوئی۔

محققین کے مطابق ہیلیئم کی ایک قدیم قسم ہیلیئم 3 نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل سے وابستہ ہے، جب کہ ہیلیئم 4 زمین میں تابکار عناصر کے ٹوٹنے سے مسلسل پیدا ہوتا رہتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ بعض آتشی چٹانوں میں ان دونوں کا غیر معمولی تناسب اس امکان کی حمایت کرتا ہے کہ قدیم ہیلیئم زمین کی گہرائیوں سے اس کی درمیانی سطح تک پہنچ رہا ہے۔

اسی طرح ٹنگسٹن زمین کی ابتدائی تشکیل کے دوران بڑی حد تک مرکز میں جمع ہو گیا تھا۔

آتشی چٹانوں میں اس کے مخصوص آئسوٹوپک آثار بھی زمین کے مرکز اور درمیانی سطح کے مابین مادوں کے تبادلے کا ممکنہ ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ 

تحقیق کے نتائج اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ زمین کے مرکز سے کچھ مادّے آہستہ آہستہ اس کی درمیانی تہہ میں منتقل ہو رہے ہیں، جہاں سے گرم مادّے کے اوپر اٹھنے اور آتش فشاں جیسی سرگرمیوں کے ذریعے ان کے آثار سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ زمین کے مرکز میں کوئی کھلا شگاف موجود ہے یا وہاں سے مادّے براہِ راست سطح پر نکل رہے ہیں، یہاں ’لیک‘ ہونے سے مراد زمین کی انتہائی گہری تہوں سے کیمیائی عناصر کی بتدریج منتقلی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ تبادلہ کس طریقۂ کار سے ہوتا ہے، کتنی مقدار میں مادے مرکز سے باہر نکلتے ہیں اور زمین کے طویل مدتی ارتقاء پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید