• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال درمیانی عمر میں فالج کے خطرے سے منسلک

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں زیادہ مقدار میں استعمال کرنے والے درمیانی عمر کے افراد میں دماغی نقصان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو مستقبل میں فالج اور یادداشت کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ تحقیق کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی اور پاپولیشن ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دانوں نے کی۔ 

اس دوران 35 سے 69 سال کی عمر کے تقریباً 9 ہزار کینیڈین افراد کے دماغ کے اسکین کیے گئے، تحقیق کے نتائج کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذائیں زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں دماغی نقصان کے ایسے آثار زیادہ پائے گئے جنہیں ’خاموش فالج‘ کہا جاتا ہے۔ 

ان غذاؤں میں سافٹ ڈرنکس، پیک شدہ اسنیکس، شکر سے بھرپور ناشتے کے سیریلز، فوری تیار ہونے والے نوڈلز اور تیار شدہ کھانے شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق ان غذاؤں کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں دماغی غیر معمولی تبدیلیوں کے آثار ظاہر ہونے کا امکان کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ تھا، یہ تبدیلیاں بظاہر کوئی علامات پیدا نہیں کرتیں، تاہم مستقبل میں فالج یا یادداشت کے مسائل سے کئی سال پہلے سامنے آسکتی ہیں۔

یہ رجحان خواتین میں زیادہ نمایاں تھا، الٹرا پروسیسڈ غذائیں سب سے زیادہ استعمال کرنے والے گروپ کی خواتین میں سب سے کم استعمال کرنے والے گروپ کے مقابلے میں دماغی نقصان کے آثار ظاہر ہونے کا امکان تقریباً دوگنا تھا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں زیادہ کھانے والے افراد کے جسم اور اندرونی اعضا کے گرد چربی کی مقدار زیادہ تھی، جو سوزش اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر شرکا کی خوراک کا 25 فیصد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں پر مشتمل تھا، جبکہ ان غذاؤں کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والوں میں یہ شرح 45 فیصد تھی، سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا کہ ایسی غذائیں صحت بخش خوراک کی جگہ لے رہی تھیں۔

صحت سے مزید