• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فالج، ڈیمنشیا، بڑھاپے میں ڈپریشن سے منسلک خطرے کون سے ہیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

تحقیق کاروں نے فالج، ڈیمنشیا اور بڑھاپے میں ڈپریشن سے منسلک 17 مشترکہ خطرے کے عوامل کی نشاندہی کر دی۔

تحقیق کے مطابق طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور پہلے سے موجود بیماریوں کے بہتر علاج کے ذریعے دماغی صحت کو محفوظ بنانے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ نتائج امریکا کے ادارے میساچوسٹس جنرل بریگھم کے سائنس دانوں کی جانب سے سابقہ تحقیقات کے جائزے پر مبنی ہیں۔

محققین نے ایسے عوامل کا جائزہ لیا جن میں طبی مداخلت اور روز مرہ عادات میں تبدیلی کے ذریعے بہتری لائی جا سکتی ہے، جبکہ ان کے معیارِ زندگی اور اموات پر ممکنہ اثرات کا بھی مطالعہ کیا گیا۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل آف نیورولوجی، نیورو سرجری اینڈ سائیکائٹری میں شائع ہوئی۔

تحقیق کے مطابق دماغی صحت سے منسلک خطرے کے عوامل میں ہائی بلڈ پریشر، گردوں کی بیماری، خالی پیٹ خون میں شکر کی سطح، کولیسٹرول، الکحل کا استعمال، غیر متوازن غذا، سماعت میں کمی، دائمی درد، جسمانی سرگرمی کی کمی، زندگی میں مقصد کا فقدان، نیند کے مسائل، تمباکو نوشی، سماجی میل جول اور ذہنی دباؤ شامل ہیں، تاہم دستیاب تفصیلات میں تمام 17 عوامل الگ الگ درج نہیں کیے گئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ بعض عوامل کا تعلق 3 میں سے کم از کم 2 بیماریوں سے سامنے آیا، تاہم تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ہر عامل کا تینوں بیماریوں کے ساتھ یکساں تعلق ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور میساچوسٹس جنرل اسپتال کی برین کیئر لیبز سے وابستہ محقق ڈاکٹر سنجولا سنگھ کے مطابق مشترکہ خطرے کے عوامل کی نشاندہی دماغی امراض کی روک تھام کے لیے اہم مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو طرزِ زندگی کی تمام عادات بیک وقت تبدیل کرنے کے بجائے ابتداء میں 1 سے 3 قابلِ عمل اقدامات کرنے چاہئیں، ان میں بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے جانچ، نمک کا استعمال کم کرنا، پھل اور سبزیاں زیادہ کھانا، مناسب نیند لینا، جسمانی طور پر متحرک رہنا اور سماجی روابط برقرار رکھنا شامل ہیں، ضرورت کے مطابق خون میں شکر اور کولیسٹرول کی سطح کو قابو میں رکھنا بھی مجموعی صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

محققین نے واضح کیا ہے کہ کسی خطرے کے عامل اور بیماری کے درمیان تعلق سامنے آنے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ وہ عامل براہِ راست بیماری کا سبب بنتا ہے، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سابقہ تحقیقات کے جائزے کے دوران بعض متعلقہ عوامل کی نشاندہی نہیں ہو سکی ہو گی۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید