• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ واقعات محض خبریں نہیں ہوتے، وہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے ایک ایسا سوال بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں رہتا۔ ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کے ساتھ پیش آنے والا المناک واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ ایک معصوم بچہ، جسے تعلیم حاصل کرنے، ہنر سیکھنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے تھا، مبینہ طور پر کام سے انکار اور وہاں سے جانے کی کوشش پر اس قدر سفاکانہ سلوک کا نشانہ بنا کہ اپنی جان ہی گنوا بیٹھا۔وسیم کوئی طاقتور شخص نہیں تھا۔ اس کے پاس نہ دولت تھی، نہ اثرورسوخ اور نہ ہی اپنی حفاظت کیلئے کوئی مضبوط سہارا۔ وہ ایک یتیم خانے میں رہتا تھا، اور شاید یہی اسکی سب سے بڑی محرومی تھی کہ جس معاشرے اور نظام سے اسے تحفظ ملنا چاہیے تھا، اسی کے سامنے اسکی بے بسی ایک بڑا سوال بن گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وسیم کو الیکٹریشن کا کام سیکھنےکیلئے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔ وہ وہاں چند ہی روز سے کام کر رہا تھا۔ مبینہ طور پر بدسلوکی کے بعد جب اس نے وہاں سے جانے کی کوشش کی تو اس کا تعاقب کیا گیا اور گاڑی سے کچل دیا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے بھی اس المناک سانحے کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ اب اس مقدمے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یہ تصور ہی روح کو زخمی کر دیتا ہے کہ ایک پندرہ سالہ بچہ اپنی جان بچانےکیلئے بھاگ رہا ہو اور ایک طاقتور شخص گاڑی کے ذریعے اس کا تعاقب کرے۔ اگر تفتیش میں سامنے آنیوالے یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض غصے میں ہونیوالی زیادتی نہیں بلکہ انسانی جان کی حرمت، قانون اور اخلاقیات، تینوں کی سنگین پامالی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بچے کو ٹکر لگنے کے بعد فوری طبی امداد دینے کے بجائے اسے ایک طرف گھسیٹ کر لٹادیا گیا۔ اگر یہ تفصیل درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری انسانیت بھی اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ ایک مرتے ہوئےبچے کو دیکھ کر مدد کیلئے ہاتھ بڑھانے کےبجائے ہم تماشائی بن جائیں؟ کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کے طاقتور لوگوں کی شان و شوکت نہیں بلکہ کمزور انسان کے ساتھ اس کا برتاؤ ہوتا ہے۔ وسیم کی والدہ کے دکھ کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟ ایک ماںکیلئے اپنے بچے کی موت ہی ناقابل برداشت ہوتی ہے، لیکن جب اسے معلوم ہو کہ اس کا بچہ بے بسی کی حالت میں اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا رہا اور اسے بچانے والا کوئی نہ تھا تو اس کا غم الفاظ میں کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟ اس ماں کے آنسوؤں کا مداوا محض تعزیتی بیانات، سرکاری اعلانات یا چند روزہ میڈیا کوریج سے نہیں ہو سکتا۔

اس سانحے کے بعد ملزم کی ہلاکت کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی ملزم توقیر نذیر پولیس تحویل سے فرار ہوا اور بدھ کو ملتان میں محکمۂ کرائم کنٹرول کے مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ حکام کے مطابق اسے روکنے کی کوشش کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے: اگر ملزم پولیس کی تحویل میں تھا تو وہ فرار کیسے ہوا؟ اس کی ہلاکت کے حالات کیا تھے؟ کیا فرار اور مقابلے کے حوالے سے تمام شواہد کی آزادانہ جانچ ہوگی؟ ہمارے ہاں عام طور پر یہ شک کیا جاتا ہے کہ ایسے پولیس مقابلے اکثر جعلی ہوتے ہیں جن کا مقصد سنگین جرائم میں شریک ملزمان کو فوری انصاف دینا ہوتاہے کیوں کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کو اپنی عدالتوں اور کریمنل جسٹس سسٹم پر یقین نہیں ہوتا اور یہ شکایت کی جاتی ہے کہ بڑے بڑے جرائم میں شریک افراد کو عدالتیں سزا نہیں دیتیں اور پکڑے گئے ملزموں کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف عدالتیں کہتی ہیں کہ پولیس اور قانون کا نفاد کرنیوالے دیگر اداروں کی تحقیقات اور استغاثہ کمزور ہوتا ہے جس کا فائدہ ملزمان کو ملتا ہے۔ سنگین جرائم کے مجرم کسی رعایت کے قابل نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم اور عدالتی نظام مظلوم کی بجائے ظالم کے حق میں زیادہ نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ انصاف صرف ملزم کی موت کا نام نہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ حقائق سامنے آئیں، ذمہ داری کا تعین ہو، ریاست اور معاشرےکی کمزوریاں سامنےآئیں۔ کسی ملزم کی ہلاکت سے مقدمے کے تمام سوالات خودبخود ختم نہیں ہو جاتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نظام ِ انصاف میں جو خرابیاں ہیں اُنہیں دور کیا جائے تاکہ مظلوم کو انصاف ملے اور ظالم اپنے کیے کی سزا بھگتے۔ وسیم کے قتل کی کہانی صرف ایک ملزم تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یتیم خانے کی انتظامیہ کے کردار کی تحقیقات بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ اگر بچوں کو تعلیم اور ہنر سکھانے کے نام پر ایسے افراد کے حوالے کیا جاتاہے جہاں ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے، بدسلوکی کی جاتی ہے یا ان کی نقل و حرکت پر غیر قانونی پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو یہ ایک فرد کی نہیں، پورے نگرانی کے نظام کی ناکامی ہے۔ وسیم کس کے اعتماد پر وہاں بھیجا گیا؟ کیا اس کی عمر، تحفظ، کام کے حالات اور تعلیم کے حق کو مدنظر رکھا گیا؟

کیا اس کی باقاعدہ نگرانی ہوتی تھی؟ کیا دوسرے بچوں کو بھی اسی طرح کام پر بھیجا جاتا ہے؟ ان سوالات کے جواب کیلئے یتیم خانے کا مکمل آڈٹ، مالی ریکارڈ کی جانچ، بچوں کے بیانات اور انتظامیہ کی جواب دہی ناگزیر ہیں۔ اگر کسی کی غفلت، مجرمانہ سہولت کاری یا قانون شکنی ثابت ہو تو اسے بھی کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔ یتیم بچے کسی ادارے کی ملکیت نہیں ہوتے۔ وہ ریاست اور معاشرے کی امانت ہوتے ہیں۔ انہیں محفوظ رہائش، تعلیم، صحت، عزت اور مستقبل کے مواقع فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہنر سکھانا یقیناً اچھی بات ہے، لیکن ہنر کے نام پر کسی بچے کو استحصال کے حوالے کر دینا تربیت نہیں، ظلم ہے۔ وسیم اب واپس نہیں آ سکتا۔ اس کی ماں کا گھر اس کی آواز سے محروم ہو چکا ہے۔ لیکن اس کی موت کو محض ایک اور افسوس ناک خبر بن کر نہیں رہ جانا چاہیے۔ اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں، یتیم خانے کی جواب دہی یقینی بنائی جائے، بچوں سے جبری مشقت کے خلاف قوانین پر عمل درآمد کیا جائے۔ ہر متعلقہ ادارے کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی ورنہ وہی ہوگا جس کا خوف ہمارے معاشرے کو مسلسل کھوکھلا کر رہا ہے۔ یعنی کمزور مرتے رہیں گے، طاقتور اپنی راہیں نکالتے رہیں گے اور انصاف کے منتظر خاندانوں کے حصے میں صرف آنسو آئیں گے۔

تازہ ترین