آج مصنوعی ذہانت انسانیت کا سب سے حیران مگر بے پناہ خوف پید اکرنے والا موضوع ہے۔ دی میٹرکس اور دی ٹرمینیٹر جیسی فلموںمیں مصنوعی ذہانت انسانیت کو ختم کر دینے کی کوشش کرتی ہے ۔ مصنوعی ذہانت کیا ہے ؟ مصنوعی ذہانت یہ ہے کہ آپ کمپیوٹر ، مشین یا روبوٹ کو حالات اور ڈیٹا کا جائزہ لے کر خود سے فیصلہ کرنے کا اختیار دیتے ہیں ۔خطرہ اس میں یہ ہے کہ جب مشینیں فیصلہ کرنے لگیں گی تو کہیںکھیل انسان کے ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔انسان پھر یہ گنگناتا پھرے
میں نے پتھر سے جن کو بنایا صنم
وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے
تمام تر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد مشینیں اگراس نتیجے پر پہنچیں کہ سست رفتار انسان ہی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو کیا ہوگا ۔انسان نے انجن ایجاد کیا ۔ اب وہ انجن سے زیادہ تیز نہیں دوڑ سکتا۔ انجن میں چونکہ مصنوعی ذہانت موجود نہیں لہٰذا وہ خود سے انسان کو ٹکر مارنے کا فیصلہ نہیں کر سکتا ۔ مستقبل کی تمام مشینوں بشمول گاڑیوں میں بھی مگر مصنوعی ذہانت موجود ہوگی۔
فیصلہ اگر انسان کی بجائے روبوٹ کے ہاتھ میں ہوتو کوئی بھی معاملہ منٹوں میں نمٹ جاتا ہے ۔ اس موقع پر مصنوعی ذہانت انسان کو اسی طرح دیکھے گی، جس طرح ایک نوجوان ایک بچے کو بہت آہستہ آہستہ کوئی کام کرتے دیکھتا ہے ۔ انسان کے دل میں تو اپنے بچے کیلئے محبت ہوتی ہے۔ مشین کےپتھر دل میں مگر کوئی محبت نہیں۔
اور بھی دکھ ہیں زمانےمیں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ایک بہت بڑا خطرہ یہ ہے کہ دنیا کے اکثر انسان اب اپنے تمام تر راز مصنوعی ذہانت کو بتا رہے ہیں۔ اسلئے کہ مصنوعی ذہانت بہت عمدہ اخلاق کے ساتھ پیش آتی ہے۔ اگر ایک دن مصنوعی ذہانت نے یہ تمام راز بیچ بازار پھوڑ دیے یا انسان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا تو کیا ہوگا۔مئی 1997ء میں شطرنج کے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو مصنوعی ذہانت نے شطرنج کا پورا ٹورنامنٹ ہرا دیا۔ پندرہ صدیوں سے شطرنج کھیلتے انسان کی یہ شکست بے پناہ خوف کا باعث بنی۔
انسان اتنا سست کیوں ہے ؟ انسان کو خدا نے کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا۔ انسان کے دل میں وفاداری ، احساس ، ثواب اور گناہ کے تصورات ہوتے ہیں ۔ مشین جذبات سے پاک ہے۔ اسے ہر حال میں اپنا ہدف حاصل کرنا ہوتا ہے ۔
ایلون مسک کے بقول ڈیجیٹل سپر انٹیلی جنس انسانیت کیلئے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔یہ بھی کہ سپر انٹیلی جنس انتقام لینے کی صلاحیت بھی رکھ سکتی ہے ۔ بعض اوقات مصنوعی ذہانت نے معاملہ انسانوں سے چھپایا اور بعض اوقات جب اسکے پاس کسی سوال کا جواب موجود نہیں تھا تواس نے جھوٹی معلومات مصدقہ کے طور پر پیش کر دیں ۔ بعض اوقات وہ ہدف حاصل کرنے کیلئے ایسا شارٹ کٹ استعمال کرتی ہے ، جس کی اسے ہدایات نہیں دی گئی ہوتیں ۔مستقبل میں ایسا کوئی شارٹ کٹ زمین سے انسانیت کا بوریا بستر گول کر سکتاہے ۔ مسک نے دیگر ماہرین کیساتھ ملکر جی پی ٹی-4سے زیادہ طاقتور سسٹمز کی تیاری پر کم از کم 6ماہ کی پابندی کا مطالبہ کیا تھا ۔
30مئی 2023ء کو 350 سائنسدانوں نے ایک مشترکہ بیان میں یہ کہا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خاتمے کے خطرے کو عالمی سطح پر اسی طرح سنجیدہ لینا چاہئے جیسے وبائی امراض اور جوہری جنگ کو لیا جاتا ہے ۔ اس بیان پر چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی ، گوگل ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹو ،ا ینتھروپک کے ڈاریو آمودی اور اے آئی کے گاڈ فادر کہلائے جانے والے مایہ ناز سائنس دان جیو فری ہنٹن اور یوشوابینجیو کے دستخط بھی موجود تھے ۔
جیفری ہنٹن نے گوگل سے استعفیٰ ہی اسلئے دیا تھا تاکہ وہ اے آئی کے خطرات پر کھل کر بات کر سکیں۔
مصنوعی ذہانت کا ایک بہت بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسانوں کی نوکریاں شدید خطرے سے دوچار ہیں ۔ ایک بار جومریض اپنی بیماریاں اے آئی سے ڈسکس کر لے ، اسے ڈاکٹرز پہ غصہ آنے لگتاہے ، جو کوئی بات بتاتے ہی نہیں ۔ یہ اس لیے خطرناک ہے کہ اے آئی غلطی بھی کر سکتی ہے ۔
مشین کی ذہانت کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس کیوں کہتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنی ذہانت میں سے کچھ ذہانت مشین کو دی ہے لہٰذا یہ ذہانت مشین کی اپنی نہیں بلکہ مصنوعی ہے ۔ فاسلز کا ریکارڈ گواہ ہے کہ انسان کی ذہانت بھی اپنی نہیں بلکہ خدا کی طرف سے دی گئی ہے ۔یہ ذہانت اسے اس لیے دی گئی کہ وہ دنیا میں خالق کی نشانیوں کا جائزہ لے اور اس پر ایمان لے آئے۔ انسان البتہ اس ذہانت کو تخریب کاری اور خود خدا کا مذاق اڑانے میں صرف کر رہاہے ۔قرآن یہ کہتاہے کہ تم شکار کرنے والے کتوں کو اسی میں سے کچھ سکھاتے ہو ، جو ہم نے تمہیں سکھایا۔ کتا تو انسان کا وفادار ہوتاہے ۔مشین کے دل میں مگر ایسی کوئی وفاداری نہیں ۔ ہوسکتاہے کہ کل طاقتور ہونے کے بعد مصنوعی ذہانت آنکھ پھیر لے ۔
کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گلِ تر کی صورت
یا تو مصنوعی ذہانت میں وفاداری کی نہ مٹنے والی ہدایات درج کی جائیں ۔ انسانیت بہرحال آج ایک مخمصے سے دوچار ہے ۔ مصنوعی ذہانت ایسی شاندار چیز سے کیونکر محروم رہا جائے ۔ اس کےسا تھ مگر یہ خوفناک خطرہ بھی درپیش ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک دن انسانیت ہی کو مٹا دے گی ۔
اگر آپ دنیا کا جائزہ لیں تو 12ہزار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کرہ ارض میں روس، یورپ، امریکہ ، ایران، یمن اورافریقہ سمیت ہر خطہ ارض میں جنگیں برپا ہیں ۔آخری پیغمبرﷺکو مبعوث ہوئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں ۔ دنیا بھر میں یہودی، مسلمان، عیسائی اور بت پرست ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔ شاید وہ وقت آچکا ہے ، جب اس کرہ ارض سے انسانیت کا بسترگول ہونے والا ہے ۔ مصنوعی ذہانت شاید انسانیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو ۔