کالم کی سرخی بہت بے دلی کے ساتھ اخباروں اور ٹی وی کی خبروں میں سے نکالی ہے، ورنہ پشاور میں31بچوں اور دو ٹیچرز کے اوپر پوری چھت گری اور شام جب ان پھول سےبچوں کے جنازے اٹھے تو سارے پشاور ہی کےلوگ، لگتا تھا دکانیں بند کرکے، تنور بند کرکے اور چھولے بٹورے والے سب ان جنازوں کو غصے کے عالم میں کندھا دیتے دکھائی دیے، ٹی وی پر گورنر راج والے صاحب بھی اس غصہ بھرے مجمع میں کوئی جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہے، البتہ کیمرے کے سامنے ان کی گردن کی جو جھلک دکھائی دی، وہ بھی سہمی، ڈری ہوئی نظر آئی۔
کیا ہوا، مالک مکان کو گرفتار کرلیا اور کارندے گھر گھر تعزیت نما چیک دیتے دکھائی دیے، اب کوئی ذی عقل بندہ مجھے یہ بتادے کہ کمرہ کتنا بڑا تھا کہ اتنے سارے بچے اور دو استانیاں کیا یہ دو کلاسیں اکٹھی تھیں، بچے بھی4سے 6 سال کے، ایک دو شاید دس سال کے تھے، ایسی چھت گری کہ ان سب کو موت کی وادی میں لے گئی ، سب شہید ہونے پر سرکار اپنی طرف سے ہمدردی اور محبت کا اظہار ان چیکس کے ذریعے کرتی ہے، مجھ جیسے پاگلوں کے کلیجے پر پتھر لگتے ہیں، سرکار بھی کیا کرے کہ ہر چند اس غم کا مداوا تو نہیں کرسکتی، اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں سوائے چیک بک کے۔
معلوم ہوا ہے کہ 134غریب ملکوں کی سربراہی پاکستان کو ملی ہے، ایک اور اہم بات، اس زمانے میں جب پاکستان کو تمغہ صدارت مل رہا تھا، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس، غربت کے حوالے سے ہوئی، اس میں جنوبی ایشیا کی نمائندگی نیپال کی خاتون چاندنی جوشی کررہی تھی، وہ چونکہ میری چالیس سال سے دوست تھی تو پھر کانفرنس کے بعد وہ اپنی ساری پرانی دوستوں سے ملی، ساتھ میں وہ اپنی کتاب بھی لائی تھی جس پر حارث خلیق نے تبصرہ کیا اور میں نے اس کتاب کے ماخذ پر نظم لکھی، بہت دن سے میں شعر لکھنے سے بیزار ہو رہی تھی، بالکل اس طرح جیسے ویف کی پاکستان لیول پر ایک تجزیاتی سہ روزہ کانفرنس منعقد ہورہی ہے کہ ہم خواتین نے ان پچاس برسوں میں کیا کھویا اور کیا حاصل کیا، سامنے کی مثال ہے کہ حنا جاوید کو قتل کرنے والے کو رہائی دئے جانے کی خبریں ہیں اور لائبہ جس کے باپ نے دودھ بیچ کر لائبہ کو گریجویٹ بنایا تھا، اس کو سعودی حکومت نے آگے پڑھنے کی اور سعودیہ آنے کی دعوت بھی دی تھی، مگر غریب گھر کی بچی کسی فراڈیے کے ذریعے امریکہ جانا چاہتی تھی اور 93 لاکھ ماں باپ کی زمین اور زیور بیچ کر جس فراڈیے کو پیسے دیے تھے، وہ راز ایسا کھلا کہ شرمندگی اور غیرت کے مارے لائبہ نے خود اپنے دوپٹے کو پھانسی کا پھندہ بناکر زندگی سے شرمندگی مٹانے کی کوشش کی،اب وہ فراڈیا زندہ رہے یا نہیں۔اس نے تو ہماری بچی کی جان لے لی، ایسے ہی باہر نوکریوں پر بھیجنے والے فراڈیے ہر مہینے کبھی ڈبوں میں بند کرکے اور کشتی کے ذریعے مغربی ممالک میں پہنچانے کے دعوے کرکے بہت سے معصوم گھرانوں کو رونے اور زندگی بھر افسوس کرنے کیلئے چھوڑ جاتے ہیں۔
اب ذرا کراچی کی طرف نکلتے ہیں کہ بلدیہ ٹائون کی آگ جس نے دو سو بندوں کو زندہ جلا دیا، کئی سال مقدمہ چلا اور پھر سارے ’’بڑے‘‘ رہائی پاگئے، کئی کو تو وفاقی حکومت میں حصہ مل گیا ہے، مگر یہ کراچی کی فیکٹریوں جس میں آتش بازی کے سامان کی فیکٹریاں بھی شامل ہیں، ہر دوسرے دن کوئی فیکٹری جل رہی ہوتی ہے، کیا یہ طریقہ ان کو انشورنس کمپنیاں دکھاتی ہیں، اب تو میر رضا کا غائب ہونا، قتل یا اغوا یا کچھ اور مہینے ہوچکے معلوم ہی نہیں ہورہا کہ خودکشی کی ہے کہ کسی نے قتل کیا، ہوا آخر کیا کہ ہر طرح نئے نئے آلات اور انکوائری کی گئی، ایسا قاتل تھا کہ سندھ کی پوری سرکار ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہی ہے۔
اب ان حالات کو دیکھ کر مصنوعی ذہانت اور ایٹمی آلات کے خطرناک استعمال پر ہر صوبے میں ان کے استعمال پر بندش لگائی جارہی ہے، کب اور کون کون اس بندش کو تسلیم کرے گا کہ نئی اور جدید گاڑی ایک سینئر سینیٹر کے کم عمر بیٹے نے ایسی چلائی کہ گاڑی مکمل تباہ ہوئی، کئی لوگوں کو زخمی کیا، پولیس نے پکڑ کر اسے کچھ نہیں کیا، گاڑی اور صاحبزادے کو لے کر ان کے سرکاری گھر پہنچی تو شرمندگی کے مارے منہ سے نکلا ’’بس شور مت مچائیں، گاڑی ہم اپنے پیسوں سے ٹھیک کروالیں گے۔‘‘
ایسے ماحول میں جبکہ قلات کے قریبی علاقوں میں بھی دہشت گردی زور پکڑ رہی ہے، ہم سب کیا گورنر راج لگانے کے علاوہ کچھ اور نہیں کرسکتے، پشاور سے خبریں بہت محدود اور محتاط آرہی ہیں، مگر فورسزکی موجودگی وہ بھی منتخب گیارہ اضلاع میں، بظاہر امن دیکھ کر ہم جیسے بڈھے بھی ہر وقت کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے ڈر رہے ہیں، ساتھ میں خبریں افغانستان سے ہیں، طالبان جو افغانستان پر قابض ہیں وہ پانچویں کلاس کے بعد بچیوں کو پڑھانے سے گریزاں ہیں، ہر چند ایران میں بھی خواتین پر سختیاں اب تک قائم ہیں مگر تعلیمی شعبے میں علم حاصل کرنے کی آزادی ہے، یہ بھی غنیمت ہے۔