• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک انصاف کی اندرونی سیاست اور مستقبل کی حکمت عملی ایک امتحان بن چکا ہے اور اب اس کے بعض پہلو زیادہ نمایاں ہورہے ہیں۔ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی، لانگ مارچ کے مقاصد اور حکمت عملی پر اختلافات، صوبائی حکومت کی معطلی اور ایمرجنسی کے نفاذ نے پی ٹی آئی کے سامنے ایک نئی صورت حال پیدا کردی ہے۔ تحریک انصاف کیلئے خیبر پختونخوا محض ایک صوبہ نہیں تھا بلکہ اسکی حکومتی کارکردگی، سیاسی قوت اور عوامی حمایت کا ایک اہم مرکز بھی تھا۔ اب اس صوبے میں اقتدار سے محرومی نے پارٹی کیلئے سیاسی اور تنظیمی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صوبائی حکومت کے خاتمے سے تحریک انصاف کی عوامی حمایت بھی لازماً ختم ہوجائیگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف اس بحران کا جواب کس حکمت عملی سے دیتی ہے: سیاسی مکالمے سے، قانونی جدوجہد سے، احتجاجی سیاست سے یا ان تمام راستوں کے کسی متوازن امتزاج سے؟ محمود خان اچکزئی کا کردار بھی اسی پس منظر میں اہم ہے۔ وہ اپوزیشن کی سیاست میں مذاکرات، مزاحمت اور سیاسی اتفاق رائے کے حوالے سے ایک نمایاں آواز رہے ہیں، لیکن کسی بھی سیاسی اتحاد میں مختلف جماعتوں کے مقاصد ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ تحریک انصاف کی ترجیحات، اچکزئی کی سیاسی سوچ اور دوسرے اتحادیوں کے مفادات میں فرق پیدا ہوا تو مشترکہ حکمت عملی برقرار رکھنا مشکل ہوجائیگا۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت یہ محسوس کرتی ہے کہ اتحادی سیاست اس کے بنیادی فیصلوں پر اثرانداز ہورہی ہے تو اسے اپنے تعلقات اور سیاسی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا پڑسکتا ہے۔ دوسری طرف اچکزئی کیلئے بھی یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی کردار کو واضح کریں اور اس بات کا تعین کریں کہ ان کی کوششوں کا بنیادی مقصد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی راہ کھولنا ہے، پارلیمانی سیاست کو مضبوط کرنا ہے یا کسی ایک جماعت کے احتجاجی مو قف کی حمایت کرنا ہے۔ البتہ موجودہ بحران نے تحریک انصاف کیلئے یہ ضرورت ضرور پیدا کردی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں، اتحادیوں اور احتجاجی حکمت عملی کے بارے میں زیادہ واضح مو قف اختیار کرے۔ لانگ مارچ کے معاملے میں بھی یہی بنیادی سوال سامنے آتاہے کہ احتجاج کا مقصد کیا تھا؟سہیل آفریدی کیلئے بھی یہ صورتحال ایک اہم سیاسی امتحان تھی۔ جس میں وہ ناکام رہے۔ اس میں قیادت کے فیصلوں، مذاکرات کی شرائط، وفاقی حکومت کے ردعمل، سکیورٹی انتظامات اور جماعت کی داخلی حکمت عملی سب کو شامل کرنا ہوگا۔ کسی ایک شخص کو تمام ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دینا آسان ضرور ہے، مگر سیاسی مسائل کی اصل وجوہات عموماً اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں۔

وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی نے اس بحران کو مزید سنگین بنادیا ہے۔ دونوں کےمو قف کے درمیان اختلافات کو صرف سخت بیانات سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی محاذ آرائی کا مستقل ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔ اسی طرح سیاسی حقوق کے مطالبے کو بھی عوامی سلامتی اور شہریوں کی مشکلات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد مزید تصادم کا راستہ دونوں جانب سیاسی نقصان، عوامی بے چینی اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔ اس لئے سیاسی قیادت کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اختلافات کے باوجود ایسے نکات تلاش کرے جن پر اتفاق ممکن ہو، خصوصاً امن و امان، شہریوں کے تحفظ، سیاسی حقوق اور آئینی طریقہ کار کے حوالے سے۔

آج خیبر پختونخوا ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اور مو ثر اقدامات کی ضرورت ہے دوسری طرف عوامی نمائندگی، آئینی تسلسل اور سیاسی اعتماد کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ گورنر راج کے بعد وفاقی حکومت کے پاس اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع ہے، لیکن یہ موقع کسی سیاسی جماعت کو نیچا دکھانے سے نہیں بلکہ صوبے کے عوام کو ریلیف دینے سے کامیاب ہوگا۔ اگر امن بہتر ہوتاہے، اسکولوں میں تعلیم کا معیار بلند ہوتاہے، ہسپتالوں میں سہولتیں بڑھتی ہیں، صفائی کا نظام اچھا ہوجاتاہے، نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے اور سیاحت کے نئے راستے کھلتے ہیں تو اسکے مثبت نتائج پورے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے۔پنجاب کے تجربات سے فائدہ اٹھانا دانش مندی ہوسکتی ہے، لیکن اصل کامیابی خیبر پختونخوا کے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے میں ہوگی۔

دوسری طرف تحریک انصاف کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کو صرف ایک رہنما کی رہائی اور احتجاجی تحریک کے گرد محدود رکھے گی یا صوبے اور ملک کیلئے ایک قابلِ عمل سیاسی و انتظامی پروگرام بھی سامنے لائے گی۔ محمود خان اچکزئی اور دوسرے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات، لانگ مارچ کے تجربات اور مذاکرات کی ناکامی سے جماعت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرناپڑسکتی ہے۔ سیاست میں دروازے بند کرنے سے بحران مزید گہرا ہوتا ہے، جبکہ مکالمہ کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بلوغت کی علامت ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں انتظامی تبدیلی عوامی زندگی میں کتنی تبدیلی لاتی ہے اور تحریک انصاف اس نئی صورتحال کا مقابلہ کس طرح کرتی ہے۔ کیا صوبے میں امن قائم ہوگا، کیا عوامی محرومیوں میں کمی آئیگی، کیا ترقیاتی منصوبے رفتار پکڑیں گے اور کیا سیاسی قیادت اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرئیگی؟ ان سوالات کے جواب آنیوالے مہینوں میں صوبائی اور قومی سیاست کا رُخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ایک طرف وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا فیصلہ صرف سیاسی انتقام نہیں بلکہ عوامی تحفظ اور ترقی کیلئے ایک مو ثر اقدام ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اقتدار سے باہر رہ کر بھی عوامی مسائل، سیاسی حقوق اور جمہوری عمل کیلئے ایک منظم اور قابلِ عمل حکمت عملی رکھتی ہے۔ پنجاب ماڈل کو خیبر پختونخوا میں اپنانے کی بحث اسی وقت بامعنی ہوگی جب اس سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچے۔ عوام کو محض نعروں سے غرض ہے، نہ سیاسی وفاداریوں کی جنگ سے۔ انہیں امن، تعلیم، علاج، روزگار اور باعزت زندگی چاہیے۔ حکومتیں بدلنے سے تاریخ کا ایک باب بند ہوسکتا ہے، لیکن عوام کے مسائل کا باب اس وقت تک کھلا رہتا ہے جب تک ان کا حل سامنے نہ آجائے۔ اب اصل امتحان بھی یہی ہے کہ سیاست اقتدار کی کشمکش سے نکل کر عوامی خدمت کی طرف آتی ہے یا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب خیبر پختونخوا کے عوام بھی مانگ رہے ہیں اور پورا پاکستان بھی۔

تازہ ترین