• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی آئینی عدالت کا عدالتی نظرثانی اور انتظامیہ کے اختیارات کی حدود سے متعلق فیصلہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو 

وفاقی آئینی عدالت نے عدالتی نظرثانی اور انتظامیہ کے اختیارات کی حدود سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹس انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ تو لے سکتی ہیں، تاہم عام حالات میں انتظامیہ کی جگہ خود فیصلے نہیں کرسکتیں۔

دو رکنی بینچ نے پولیس افسر منیر سامو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ سرکٹ کا 30 جون 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس روزی خان بریچ کے تحریر کردہ 10 صفحات کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر قائم ہے۔ کسی ادارے کو دوسرے کے آئینی اختیارات میں مداخلت کی اجازت نہیں۔

ہائیکورٹ نے منیر سامو کو فوری طور پر اسپیشل برانچ سے ہٹانے کا حکم دیا تھا، ہائیکورٹ نے افسر کو ایک سال کراچی میں رکھنے اور آپریشنل یا فیلڈ ڈیوٹی نہ دینے کی ہدایت کی تھی، منیر سامو کے خلاف تادیبی کارروائی کرکے عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ کی ہدایت پر ہوئی انکوائری میں افسر کا مبینہ چھاپے میں کردار ثابت نہیں ہوا، منیر سامو کا کردار بطور گروپ افسر انٹیلی جنس رپورٹس جاری کرنے تک محدود پایا گیا، عدالت کی اپنی ہدایت پر ہوئی انکوائری کے نتائج نظرانداز کرنا اہم قانونی معاملہ ہے، آئینی عدالت کا اختیار قیاس آرائیوں، مفروضوں یا ریکارڈ سے غیر متعلق بنیادوں پر استعمال نہیں ہوسکتا۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ ملازم کی تعیناتی، ڈیوٹی اور تادیبی امور کا فیصلہ قانون کے تحت مجاز انتظامی حکام نے کرنا ہے، ہائیکورٹ کے احکامات محض قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت تک محدود نہیں تھے۔

مزید کہا گیا کہ مقدمے کے حالات میں ہائیکورٹ کے احکامات عدالتی نظرثانی کی جائز حدود سے تجاوز کرتے ہیں، قانون سازی مقننہ، قوانین پر عمل درآمد انتظامیہ اور قانون کی تشریح عدلیہ کا کام ہے، ریاست کا کوئی ادارہ دوسرے ادارے کے آئینی دائرۂ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتا، پالیسی سازی، قواعدِ کار اور روزمرہ انتظامی معاملات انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی اختیار نگرانی اور غیر قانونی اقدامات کی اصلاح کے لیے ہے، عدالتی نظرثانی عام حالات میں انتظامی حکام کے فیصلہ سازی کے اختیارات سنبھالنے کی اجازت نہیں دیتی، انتظامی افسر اختیار سے تجاوز کرے یا قانونی ذمہ داری ادا نہ کرے تو عدالتی مداخلت ہوسکتی ہے، قانون میں مقررہ طریقۂ کار سے نمایاں انحراف بھی عدالتی مداخلت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ آرٹیکل 199 کا صوابدیدی اختیار ٹھوس قانونی بنیاد کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا، منصفانہ انکوائری اور مؤثر حقِ سماعت کو آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے کا تحفظ حاصل ہے، آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کا تحفظ اور قانون کے مطابق سلوک کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 9 کے تحت حقِ زندگی میں روزگار کا حق بھی شامل ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری ملازم کو قانون کے مطابق ملازمت کے حق سے محروم کرنا حقِ روزگار کو متاثر کرتا ہے، آرٹیکل 14 انسانی وقار اور آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات کا تحفظ دیتا ہے، انتظامی اور تادیبی اقدامات قانونی، منصفانہ اور متناسب ہونے چاہیے۔

قومی خبریں سے مزید