آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
مجھے اسپین میں رہتے گیارہ سال کاعرصہ بیت گیا ہے، اس عرصے میں مجھے اسپین کے تاریخی مقامات پر جانے کا یا تو موقع نہیں ملا اور اگر ملا تو مصروفیت کے باعث میں وہاں جا نہ سکا۔ اسپین کے شہروں سوّیا، قادریس، علی کانتے، ثارا غوثا، قرطبہ، غرناطہ اور طرطوسہ کو مسلمانوں کے جدید طرز حکومت کی وجہ سے تاریخی اہمیت حاصل ہے اور اس اہمیت کو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں بسنے والے مذاہب کے پیروکار اور اقوام تسلیم کرتی ہیں۔ ان تاریخی مقامات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاح اسپین کا رخ بھی کرتے ہیں۔ سیاحوں کی آمد سے ہر سال اسپین کی معیشت سیراب ہوتی ہے اور یہاں کے معاشی حالات میں بہتری آتی ہے۔ اسپین زیتون اور زعفران کی کاشت میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیاحت، زعفران اور زیتون کی کاشت کا ہسپانوی خزانے کو بڑھانے میں بڑا کردار ہے۔
غرناطہ میں موجود مسلمان دور حکومت کا قائم کردہ الحمرا محل دیکھنے کے لئے کئی ہفتے پہلے ٹکٹوں کی بکنگ کرانی پڑتی ہے۔ جون، جولائی اور اگست کے مہینے یورپ کے ممالک میں چھٹیوں کی وجہ سے بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں لہٰذا ان مہینوں میں غرناطہ اور قرطبہ کی جانب جانے والے ذرائع آمدورفت جن میں بس اور ٹرین قابل ذکر ہیں کی ٹکٹیں بھی بہت پہلے خرید لی جاتی ہیں۔
غرناطہ میں ایک

چھوٹا ائیرپورٹ بھی ہے لیکن ان مہینوں میں وہاں جانے اور آنے کی ٹکٹیں بھی بہت پہلے خریدنی بہتر ہیں، میں نے قرطبہ اور غرناطہ کی طرف سفر کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا کہ یکایک پاکستان سے کچھ دوست بارسلونا پہنچے جنہوں نے قرطبہ اور غرناطہ جانے کا پروگرام پہلے سے ترتیب دیا ہوا تھا انہوں نے مجھےبھی تیار کرلیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ سفر کا کرلیا ، بارسلونا سے قرطبہ کے لیے ٹرین کے سفر کو ترجیح دی گئی اور چار گھنٹے چالیس منٹ ٹرین کا سفر طے کر کے ہم قرطبہ اسٹیشن پرپہنچے، ٹرین 250سے 290میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فراٹے بھرتی ہوئی ہمیں قرطبہ لائی تھی، اسٹیشن پر ہمیں لینے کے لئے ضیاء سعید بلوچ اور حبیب اللہ وڑائچ موجود تھے جو ہمیں دو کاروں میں سوار کر کے قریبی ہوٹل میں لے گئے جہاں کمروں میں لگے بستر ہمیں ’’لوری‘‘ سنانے کے لئے ہمارے منتظر تھے۔ سفر کی تھکاوٹ اور صبح جلدی اٹھ کر مسجد قرطبہ کی سیر کرنے کے پروگرام نے ہمیں جلد ہی نیند کی وادیوں میں اتار دیا۔ صبح اٹھے تو اعجاز احمد بٹ بھی اپنی کار لیے ہوٹل کے دروازے پر ہمارا انتظار کررہے تھے، صبح جلدی اٹھنے کا پروگرام بنانے کی وجہ قرطبہ میں گرمی کی شدت تھی اگست میں یہاں درجہ حرارت 39سے 46 ڈگری تک جاتا ہے اور مسجد قرطبہ کے اندر جانے کیلئے کافی پیدل چلنا ہوتا ہے۔ کاریں مسجد سے تقریباً ایک سے ڈیڑھ فرلانگ دور کھڑی کرنی ہوتی ہیں۔ اعجاز احمد بٹ، ضیاء سعید بلوچ، حبیب اللہ اور تنویر لاہوری کے ساتھ ہم مسجد کے احاطے کی طرف چل پڑے۔ کیا خوبصورت منظر تھا مسجد کے اندر داخل ہوتے ہی دل کے کسی گوشے سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی یوں لگا جیسے ہم صدیوں پہلے یہاں مسلمانوں کے دور حکومت میں پہنچ گئے ہیں۔ مسجد کے محراب، نقش و نگار، منبر اور باغ اپنی مثال آپ تھے۔ ہم نے وہ جگہ خصوصی طور پر دیکھی جہاں 1931میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اذان دی اور نماز ادا کی تھی، یہاں یہ بتانا بھی لازم ہے کہ مسجد قرطبہ میں یہ آخری اذان اور نماز تھی جو ادا ہوئی۔ مسجد قرطبہ میں اذان دینا اورنماز ادا کرنا سختی سے منع ہے لیکن علامہ اقبال نے یہ اجازت خصوصی طور پر لی تھی۔ مسجد قرطبہ کو چرچ کی شکل میں تبدیل کردیا گیا ہے، قرآنی آیات بھی لکھی ہوئی ہیں اور حضرت عیسیٰ سے متعلق تصاویر بھی اس جگہ نمایاں نظر آتی ہیں۔ سب کچھ دیکھتے اور ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے مسجد قرطبہ سے تھوڑے سے فاصلے پر ہم ایک ایسی گلی میں گئے جہاں ابن رشد یونیورسٹی سے ملحقہ ایک مسجد موجود ہے۔ جسے سیاح دیکھنے نہیں آتے شاید انہیں اس مسجد سے متعلق معلومات نہیں ہیں۔ یہ مسجد مسلمانوں کے دور حکومت میں ہی بنائی گئی تھی اور اس مسجد میں ایک وقت میں 5 سے چھ افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مسجد کا انتظام مراکش کے مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے، مسجد میں لائوڈ اسپیکر لگا ہے جہاں اذان بھی دی جاتی ہے۔
مسجد قرطبہ اور ابن رشد مسجد کے ساتھ ساتھ ’’دریائے کبیر‘‘ آج بھی اسی آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے جو قرطبہ شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے جس دور میں قرطبہ شہر آباد کیا گیا اس وقت کے بادشاہ کی بیوی کا نام ’’سارہ‘‘ تھا بادشاہ نے ایک اونچے مقام پر ’’مدینۃ السارہ‘‘ کے نام سے جگہ آباد کی جس کے بارے میں روایت ہے کہ بادشاہ چاہتا تھا کہ اوپر سے نیچے کی طرف اپنی ملکہ کو دیکھا کرے، سارہ کے ہسپانوی اسپیلنگ ZARA ہیں یعنی ہم مدینۃ الذھرہ پڑھیں گے مگر ہسپانوی زبان میں زیڈ ’’ث‘‘ کی آواز دیتا ہے اس لئے یہاں کے مقامی لوگ اس مقام کو مدینۃ الزھرہ کی بجائے ’’مدینۃ السارہ‘‘ کہتے ہیں۔ 4 بجے سہ پہر ہم نے قرطبہ میں ایک پاکستانی ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا اور پھر ہم علامہ اقبال کے نام سے بنائی گئی گلی (اسٹریٹ) دیکھنے چلے گئے پاکستان کے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے نام سے قائم اسٹریٹ دیکھی تو فخر سے سینہ چوڑا ہوگیا اورساتھ ہی ہسپانوی قوم کو بھی داد دی جنہوں نے علامہ اقبال کی شاعری اور ولولہ انگیز نظموں کو سٹریٹ کا نام رکھ کر خراج تحسین پیش کیا تھا، علامہ اقبال سٹریٹ کے کچھ فاصلے پر قرطبہ اور پاکستانی شہر لاہور کو جڑواں شہر قرار دیئے جانے کی وجہ سے قائم کیا گیا لاہور چوک دیکھا جہاں مقامی گورنمنٹ نے ’’لاہور چوک‘‘ (PLAZA LAHORE) کی تختی بھی لکھ کر لگائی تھی۔ ہمارے میزبانوں نے ہمیں بتایا کہ قرطبہ شہر میں تقریباً 170پاکستانی رہتے ہیں جو مزدوری کے ساتھ ساتھ ڈونر کباب، شوارمے اور ریسٹورنٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ہمارے میزبان آصف بٹ نے بتایا کہ قرطبہ سے 35کلومیٹر دور ایک ایسا گائوں ہے جہاں ہسپانوی مسلمانوں کے 25 سے 30 کے قریب گھر ہیں ان ہسپانوی مسلمانوں نے مقامی حکومت کو درخواست دی تھی کہ ہم ان مسلمانوں میں سے ہیں جو سرعام اپنی عبادت نہیں کرسکتے تھے۔ ڈر اور خوف سے اپنا مذہب چھپائے ہوئے تھے لہٰذا ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم اپنے آپ کو بلاخوف و خطر مسلمان کہلوا سکیں اور اپنی عبادت کرسکیں۔ حکومت نے یہ درخواست مان لی تھی لہٰذا اب وہ ہسپانوی مسلمان آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہسپانوی مسلمانوں کے اس گائوں کودیکھنے کے بعد ہم غرناطہ روانہ ہوئے جہاں ہمیں الحمرا محل دیکھنا تھا۔ قرطبہ سے غرناطہ کافاصلہ 160 کلومیٹر ہے۔ اگلے دن ہم اپنے میزبانوں کے ساتھ غرناطہ کیلئے روانہ ہوگئے۔ غرناطہ میں ہمیں بلال ہنجرا صاحب ملے جو غرناطہ میں اپنا کاروبار کرتے ہیں۔

.