آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
سندھ ایک قدیم تہذیب اور سندھی ایک قدیم زبان ہے۔ یہ تاریخ کے طلبہ کیلئے ایک سوال ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ دنیا کے تمام خطوں کی طرح سندھ بھی ایک قدیم تہذیبی، تمدنی ارتقاء رکھتا ہے اوراسکی ایک تاریخ رکھتاہے۔ سندھ کی جغرافیائی حیثیت پر اگر بحث کی جائے تو ہم برہمن آباد تک چلے جاتے ہیں جو سندھ کے اندر ایک علیحدہ انتظامی یونٹ تھا اورا سکے آثار آج بھی شہداد پور کے قریب پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک دقیق موضوع ہے جس پر ان چند صفحات پر بحث ممکن نہیں ہے لیکن جب بھی مملکت پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام یا باالفاظِ دیگر نئے انتظامی یونٹس کی بات ہوتی ہے تو سندھ کا ایک مخصوص طبقہ سندھ کو ماں بنا کر اور ناقابل تقسیم بنا کر پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اسکی تقسیم ہم خون کا آخری قطرہ بہنے تک نہیں ہونے دینگے۔ وہ اپنے دعوے میں کس قدر سچے ہیں اس کا فیصلہ تو آنیوالا وقت کریگا۔ سردست ہم اس دعوے سمیت اس دعوے کی جراحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو بار بار فرماتے ہیں کہ مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں۔ سب سے پہلے تو سندھ کے اہل زبان افراد کے لئے سوال یہ ہے کہ یہ جملہ جو بلاول بھٹو زرداری ادا کرتے ہیں، یہ سندھی زبان سے تعلق رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ کیونکہ بظاہر یہ سرائیکی زبان کی ترکیب نظر آتی ہے۔

سندھ میں جب کلہوڑوں کی حکومت تھی تو ٹالپوروں نے ان سے یہ حکومت طویل لڑائی کے بعد 1783ء میں حاصل کی اور 1843ء تک وہ سندھ پر حکمران رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وقت سندھ 3انتظامی یونٹوں یا ریاستوں میں تقسیم تھا۔ ایک کا دارالحکومت حیدر آباد، دوسرے کا میر پور خاص اور تیسرے کا خیرپور تھا۔ یہ تینوں ریاستیں آپس میں اختلاف رکھتی تھیں۔ گو کہ تینوں انتظامی یونٹوں پر تالپوروں کی حکومت تھی لیکن پھر بھی یہ علیحدہ انتظامی حیثیت کے حامل تھیں۔ تو کیا سندھ تقسیم ہوگیا؟ سندھ ماں کو کوئی توڑ سکا؟ یہ سوال ان لوگوں کیلئے ہے جو سندھ کو ناقابل تقسیم سمجھتے ہیں۔ سندھ بحیثیت تہذیب و ثقافت تقسیم نہیں ہوسکتا۔ ہاں، البتہ ترقی و خوشحالی کیلئے انتظامی بنیادوں پر اسے تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انگریزوں نے 1843ء کے بعد جب سندھ پر اپنا تسلط قائم کیا تو انہوں نے بھی سندھ کو 3حصوں میں منقسم رکھا اور 1936ء تک سندھ 3انتظامی یونٹوں میں بٹا رہا ۔تو کیا سندھ دھرتی ماں کو کوئی نقصان پہنچا؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی قوتیں اور سیاسی اکائیاں ہیں جو سندھ کی تقسیم کو بنیاد بنا کر اپنی سیاست چمکانا چاہتی ہیں؟ یہ وہ عناصر ہیں جو طاقت اور وسائل کے ارتکاز کی بنیاد پر نہ صرف اپنی جاہ و حشمت برقرار رکھنا چاہتے ہیں بلکہ وہ عوام کو فرسودہ بھوک اور افلاس کا شکار رکھنا چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جب تقسیم پاکستان کے بعد پاکستان کے دانشوروں نے 22ڈویژنز کی بنیاد پر ملک کو 22انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی بات کی تو اسی سوچ نے اس کا راستہ روکا اور سندھ کے عوام کو ترقی اور خوشحالی کا ایک اور راگ سنا ڈالا اور ایک بار پھر سندھ کو2 علیحدہ علیحدہ یونٹس میں سندھ شہری اور سندھ دیہی کے نام سے تقسیم کیا اور کہا کہ اس نادر فارمولے سے دیہی علاقے شہروں کے برابر آجائیں گے۔ آج42سال گزر جانے کے باوجود بھی یہ فارمولا اپنے نتائج نہیں دے سکا۔ آج بھی سندھ کے تمام اضلاع، تحصیلیں اور تعلقہ گرانٹ کے محتاج ہیں اور وہ اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکتے ۔ گو کہ انہیں 2انتظامی یونٹس کی بنیاد پر سندھ دیہی کے نام پر ترجیحی بنیادوں پر نہ صرف مراعات دی گئیں بلکہ وسائل بھی 60فیصد سے زائد فراہم کیے گئے۔ اس کے باوجود یہ شہریا تعلقے جو دیہی کہلاتے ہیں، آج بھی وفاق اور صوبوں کے محتاج ہیں۔ بنیادی طور پر جو لوگ نئے انتظامی یونٹوں کی اہمیت کو لسانیت اور نسلی تعصب کی بھینٹ چڑھاتے ہیں، ان کا مقصد اپنی جاگیرداریت، وڈیرہ شاہی اور اس کی حامل سوچ کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر ہم پاکستان کی موجودہ ڈویژنل تقسیم کا جائزہ لیں تو اس کے اندر بھی بہت سے مقامات پر ہمیں نسلی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم نظر آتی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کے 26ڈویژنوں کو 20 میں تبدیل کرکے صوبائی حیثیت دے دی جائے تو یہ ایک آسان عمل ہوسکتا ہے کیونکہ ڈویژن ایک مکمل انتظامی ڈھانچہ رکھتے ہیں۔ صرف انہیں صوبائی حیثیت دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنا ہوگا اوراس کے لئے ضروری قانون سازی بھی کرنی پڑے گی ۔اگر 1941ء سے 1961ء تک کی آبادی کا جائزہ لیا جائے تو شہری آبادی کا تناسب دیہی آبادی سے بہت زیادہ ہے لیکن تاریخ کا ایک ایسا معجزہ رونما ہوا کہ سندھ کی دیہی آبادی جو 1961ء میں 28لاکھ کے قریب تھی وہ 84لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ شہری آبادی جو 31لاکھ کے لگ بھگ تھی وہ فقط 34لاکھ تک پہنچ سکی جو اپنے آبادی کے تناسب سے تو کم تھی ہی، اس کے ساتھ ساتھ دیہات سے جو آبادی کا انتقال شہروں کی جانب تھا، اس کا اثر بھی اس ڈیٹا میں نظر نہیں آیا۔ اس طرح سے وسائل پر قبضہ کرنے کی یہ ایک اور کوشش تھی۔ دونوں صورتوں میں نقصان سندھ کے عوام کا ہوا ہے۔ اگر ہم اسی پس منظر میں سندھی زبان اور تہذیب پر بات کریں تو یہ دعویٰ کیاجاتا ہے کہ سندھ کی تہذیب 5000برس پرانی ہے لیکن یہاں کے ماہرین موہنجو دڑو کی زبان آج بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیاجاتا ہے کہ قرآن حکیم کا پہلا ترجمہ سندھی زبان میں کیاگیا جو 800عیسوی میں ہوا تھا جبکہ موجودہ سندھی زبان کا رسم الخط فقط 2سے ڈھائی سو سال پرانا ہے جسے انگریزوں کے زمانے میں ترتیب دیا گیا۔ نہ تو مولانا ٹھٹھوی کے کیے ہوئے ترجمے کا کوئی نسخہ دستیاب ہے ، نہ ہی ایسا کوئی کاغذ کا ٹکڑا موجود ہے جس پر موجودہ سندھی رسم الخط موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کی تمام درگاہوں پر جو کتبے آویزاں ہیں وہ فارسی زبان میں ہیں۔ بالکل اسی طرح سندھ کے وارث شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کا ایک ایسا نسخہ دستیاب نہیں جو موجودہ رسم الخط میں شاہ عبداللطیف بھٹائی یا ان کے فقیروں کے ہاتھ کا تحریر کیا ہوا ہو۔ یہ تاریخی حقیقت ہمیں اس ارتقاء کی یاد دلاتی ہے جو سندھ کی تہذیب نے ایک طویل سفر کے بعد طے کیا ہے۔ سندھ کی ثقافت اور لباس کے حوالے سے بھی سندھ کے دانشوروں میں اختلاف ہے۔ عبدالواحد آریسرسمیت متعدد صائب الرائے شخصیات اجرک اور ٹوپی کو سندھ کی تاریخ کا ورثہ قرار نہیں دیتے لیکن آج سندھ میں نومبر کے پہلے عشرے میں سندھی ٹوپی اجرک ڈے منایاجاتا ہے اوراس کو منانے والے بھی اسکے پس منظر سے نا آشنا ہیں کیونکہ سابق فوجی حکمران جنرل ایوب خان کے زمانے میں جب قومی تعلیمی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر سندھی کو صرف ششم جماعت تک لازمی قرار دے کر باقی سطحوں سے اس کی لازمی حیثیت کو ختم کیا گیا تو سندھ میں ایک تحریک چلی۔ مغربی پاکستان کی اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی لیکن وہ عددی اکثریت کی بنیاد پر رد کی گئی اوریہ احتجاج سڑکوں پر آیا اور یوں سندھ میں لسانی تفریق کا آغاز ہوا۔ یہ تاریخ 6نومبر1962ء کی ہے۔ یہ عمل اس لئے کیا گیا تھا کہ سندھ کے تین بڑے بیراجوں کے اطراف موجود زرعی زمین کی تقسیم کا مرحلہ درپیش تھا اور اسکے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جس میں سندھ کی نمائندگی نہ تھی اور اس کا ہیڈ کوارٹر لاہور کو بنایا گیا ۔ یوں سندھ کے عوام کو زبان کی تقسیم کی جانب دھکیل کر اس انتہائی قیمتی زمین کی بندر بانٹ کا عمل مکمل کر لیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پہلے گورنر ڈاکٹر زاہد حسین کی سفارشات بھی روبہ عمل نہ لائی جاسکیں اور جس روز وہ پہلے دس سالہ منصوبے کا اعلان کرنے جا رہے تھے انہیں ہٹا کر فیروز خان نون کو قومی پلاننگ کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا اور انہوں نے اپنے تئیں ان پالیسیوں کو اس طرح تبدیل کیا کہ ملک میں آج بھی سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ و وڈیرانہ سوچ موجود ہے۔ اس مختصر سے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سندھ کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کوئی نئی بات نہیں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سندھ کی دولت سندھ کے محروم اور پسے ہوئے عوام پر خرچ کی جائے۔ اس کیلئے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کیلئے نئے انتظامی یونٹ ناگزیر ہیں۔ اور تاریخی حقیقت یہ ثابت کرتی ہے کہ صوبے بنانے سے سندھ کی وحدت، ثقافت، تاریخ اور ورثے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔

ادارتی صفحہ سے مزید