آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نوابزادہ شیر علی خان پٹودی جو ایک بھرپور عسکری اور سفارتی پس منظر رکھنے کے ساتھ ساتھ انتہائی باوقار خاندانی پس منظر بھی رکھتے تھے‘ جنرل یحییٰ خان کے دور میں وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کر دیئے گئے۔(نئی نسل کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ مشہور بھارتی فلمی اداکارسیف علی خان بھی نوابزادہ شیر علی کے خاندان سے نسبت رکھتے ہیں بلکہ قریبی رشتہ دار ہیں۔) راولپنڈی میں ویسٹریج کے علاقے میں آج بھی 70فیصد آبادی کا تعلق پاک فوج کے اعلیٰ حکام سے ہے اور ماضی میں یہ علاقہ پہچانا ہی پاک فوج کے مکینوں سے جاتا تھا۔ نوابزادہ شیرعلی خان نے اسی علاقے میں واقع اپنی اقامت گاہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو غیررسمی گفتگو اور مشاورت کیلئے بلایا ہوا تھا۔ نشست طویل ہو گئی تو نوابزادہ صاحب کے ایک ذاتی دوست جو تازہ تازہ لیفٹیننٹ جنرل بنے تھے‘ تنہائی میں اُن سے بات کرنے کے خواہاں تھے۔ نوابزادہ شیرعلی پٹودی اُن کا ہاتھ تھام کر عقبی نشستوں پر آ گئے چونکہ ہم بھی عقبی نشستوں پر ہی تھے اس لئے گفتگو نے خود متوجہ کر لیا۔ لیفٹیننٹ جنرل صاحب نے اپنی صاحبزادی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اس کی طبیعت ناساز رہتی ہے‘ دماغی عوارض کے معالجین سے مسلسل علاج چل رہا ہے‘ آپ سے درخواست یہ کرنی تھی کہ اگر اسے کسی غیراہم ہی سہی ملک میں بطور سفیر تعینات کرا

دیا جائے تو آرام‘ علاج اور ماحول کی تبدیلی میں کام کرنے سے ممکن ہے وہ مکمل صحت یاب ہو جائے۔ پھر مشترکہ دوستوں کے احوال اور کھانے کی دعوت پر گفتگو ختم کرتے اُنہوں نے اپنی مذکورہ صاحبزادی کی ایک فائل شیرعلی صاحب کو تھمائی اور اجازت لیکر رخصت ہو گئے۔ یہ تو نہیں یاد کہ وہ کسی ملک میں سفیر متعین ہوئیں یا نہیں لیکن شاندار اور متاثر کن تعلیمی ریکارڈ رکھنے والی یہ خاتون بعد میں پنجاب اسمبلی کی رُکن بھی بنیں اور سوشل ویلفیئر کی وزارت میں وزیر مملکت بھی رہیں۔
ماضی کا یہ واقعہ تحریر کرنے کا مقصد محض اتنا ہے کہ باوسیلہ طبقوں کی اعلیٰ مناصب تک رسائی میں خواہ وہ کتنے ہی اہم اور حساس کیوں نہ ہوں‘ کوئی رُکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔ یہ تو محض ایک واقعہ تھا‘ اس نوعیت کے واقعات سے متعدد حکومتوں کی کارکردگی کا تفصیلی ریکارڈ موجودہے سیاسی اثرو نفوذ سے بیرون ممالک بطور سفیر تقرری اور وہ بھی اہم مغربی ممالک میں‘ معاشرے میں اعلیٰ سطحی ’’لگژری بدعنوانی‘‘ کا ایک تکلیف دہ پہلو ہے۔ کچھ لوگوں کو حکمران اُنکی ’’کارگزاری‘‘ سے خوش ہو کر یہ سفارتی منصب عطا کر دیتے ہیں اور بعض شخصیات اپنے خاندانی پس منظر اور حکمرانوں سے تعلق کی بناء پر خواہش کرکے یہ عہدہ حاصل کر لیتے ہیں اور یہ سلسلہ کسی ایک حکومت کے دور کا نہیں بلکہ قیام پاکستان سے ہی جاری ہے۔ بیشتر ممالک کی طرح امریکہ اور برطانیہ بھی اُن ممالک میں شامل ہیں جہاں قیام پاکستان کے بعد نان کیریئر ڈپلومیٹ نے ہی پاکستان کے سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالیں تاہم فی الوقت ذکر برطانیہ کا ہے جہاں 22سال بعد ایک کیریئر ڈپلومیٹ سید ابن عباس بطور ہائی کمشنر تعینات کئے گئے جو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے عازم لندن ہو چکے ہیں۔ان سے قبل کامران شفیع جو پاک فوج میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں تاہم اپنے نام کیساتھ ریٹائرڈ میجر کا حوالہ نہیں دیتے اور ایک کالمسٹ کے تعارف کو اپنے لئے زیادہ معتبرسمجھتے ہیں کا نام برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کیلئے تجویز کیا گیا تھالیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ کامران شفیع انگریزی اخبار اور جرائد میں باقاعدگی سے کالم اور مضامین تحریر کرتے ہیں اور ان کی تحریروں میں اپنے سابقہ ادارے پر ’’بےدھڑک تنقید ‘‘بھی شامل ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ہمایوں پاکستان وزارت خارجہ سے وابستگی رکھنے والے وہ آخری افسر تھے جنہوں نے نومبر 1990ء میں کیریئر ڈپلومیٹ کی حیثیت سے برطانیہ میں بطور ہائی کمشنر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور اگست 1992ء میں وطن واپس آ گئے تھے۔ اُن کے بعد کم و بیش 22سال تک اس اہم سفارتی منصب پر کوئی کیریئر ڈپلومیٹ فائز نہیں کیا گیا اور اس عرصے میں ریاض سمیع‘ واجد شمس الحسن‘ اکبر ایس احمد‘ عبدالقادر جعفر اور ڈاکٹر ملیحہ لودھی لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے اور پھر جون 2008ء میں واجد شمس الحسن کو دوسری مرتبہ ہائی کمشنر مقرر کیا گیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد تاحکم ثانی اُن کی خدمات کنٹریکٹ پر حاصل کر لی گئیں۔ یہ کنٹریکٹ پانچ اپریل 2014ء کو ختم ہو گیا۔ سیاست اور بعض دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات کے علاوہ بعض ممالک ریٹائرڈ ہونیوالے جرنیلوں کی بھی آماجگاہ بنتے رہے ہیں۔ اگر یہاں امریکہ کی بات کریں تو سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل(ر) جہانگیر کرامت‘ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ محمودعلی درانی‘ سابق ائیرچیف مارشل (ر) ذوالفقار علی خان‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعجاز عظیم‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) صاحبزادہ یعقوب علی خان‘ میجر جنرل (ر) این اے ایم رضا بھی اہم مناصب سے ریٹائر ہونے کے بعد امریکہ میں سفیر بنے جبکہ برطانیہ میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم یوسف (دو مرتبہ)‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم اکبر خان‘ بریگیڈیئر (ر) ایف آر خان پاکستان کے ہائی کمشنر رہ چکے ہیں۔امریکہ کے حوالے سے یہ پہلو بھی دلچسپ ہے کہ سپرپاور میں اپنے سفیر کا انتخاب ہر ملک غیرمعمولی احتیاط کے ساتھ کرتا ہے لیکن پاکستان کی حکومت نے امریکہ کیلئے دو ایسی شخصیات کو بھی اپنے ملک کی نمائندگی کیلئے بطور سفیر نامزد کیا جو اپنی ذمہ داریاں بنانے کیلئے گئے تو ضرور لیکن اپنے اسناد سفارت پیش کرنے سے قبل ہی اُنہیں واپس بلا لیا گیا اُن میں اکرم ذکی اور طارق فاطمی شامل ہیں اور حیرت انگیز طور پر دونوں کا تعلق ہی وزارت خارجہ سے تھا۔ اکرم ذکی سیکرٹری خارجہ رہ چکے ہیں جبکہ طارق فاطمی ان دنوں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ اُمور ہیں۔ دو ریٹائرڈ جرنیلوں جہانگیر کرامت اور محمود علی درانی اور دو میڈیا پرسنیلٹی حسین حقانی اور شیری رحمان کے بعد 2013ء دسمبر میں جلیل عباس جیلانی کو جو پاکستان کے سیکرٹری خارجہ بھی رہ چکے ہیں امریکہ میں پاکستان کا سفیر نامزد کیا گیا‘ حسین حقانی کو میمو گیٹ سکینڈل کی وجہ سے سبکدوش ہونا پڑا ۔ابتداء سے ہی بیرون ملک نان کیریئر ڈپلومیٹس کی تقرریوں کے بارے میں کوئی طے شدہ طریقہ کار یا کسوٹی وضع نہیں تھی‘ یہ فیصلہ حکمرانوں کی صوابدید پر ہوتا تھا تاہم 1992ء میں وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ایک فارمولا بنایا گیا جس کے تحت 80فیصد سفارتی تقرریاں کیریئر ڈپلومیٹس کی ہوں گی جن کی نامزدگی کی سفارش وزارت خارجہ کی جانب سے ہی کی جائے گی اور 20 فیصد تقرریوں میں ریٹائرڈ عسکری شخصیات سمیت بزنس پرسنیلٹی اور صاحب علم و فکر اور فہم و دانش شامل ہونگے۔ نان کیریئر ڈپلومیٹس اپنی خوبیوں اور کامیابیوں کی تشہیر کو نہ صرف برا نہیں سمجھتے بلکہ اُنہیں اُجاگر کرنے کیلئے ہر وقت آمادہ رہتے ہیں‘ لیکن اُنکے دور میں ہونے والی خامیوں پر سفارتی تقاضوں کے پیش نظر پردہ میں پڑا رہتا ہے جبکہ اس کے برعکس کیریئر ڈپلومیٹ کیلئے اپنی خامیوں کو مخفی رکھنا بھی ایک مشکل کام ہوتا ہے اور یہ بھی ان کی تربیت کا ایک حصہ ہوتا ہے اور منصب کا تقاضا بھی کہ وہ اپنی کامیابیوں اور’’سفارتی فتوحات‘‘ کی تشہیر نہیں کر سکتےتاہم اب یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ ’’جس کا کام اُسی کو ساجھے‘‘ اوریہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے موجودہ دور میں ابھی تک کوئی سیاسی یا سفارشی تقرری نہیں کی‘ اس بات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بالخصوص امریکہ اور برطانیہ میں سفیر کا منصب حاصل کرنے کیلئے کتنی اہم اور بارسوخ شخصیات نے کیا کیا کوششیں نہ کی ہونگی لیکن وزیراعظم نے پہلے امریکہ اور اب برطانیہ دونوں اہم ممالک میں وزارت خارجہ کے ہی شاندار ساکھ رکھنے والے تجربہ کار اور جہاندیدہ افسران کو یہ ذمہ داری تفویض کی۔
دسمبر 2001ء میں جب بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردی ہوئی اور بھارت کی جانب سے اس واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی گئی تو دونوں ملکوں کے درمیان حالات اتنے زیادہ کشیدہ ہو گئے کہ ایک موقع پر ایسا بھی محسوس ہوتا تھا کہ شاید دہلی میں پاکستانی سفارتی عملے کو ’’ناپسندیدہ‘‘ قرار دے کر واپس بھیج دیا جائےلیکن اس موقع پر دہلی میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے پروفیشنل سفارت کاری کا شاندارمظاہرہ کرتے ہوئے کشیدہ صورتحال کو سفارتی مہارت سے ٹھنڈا کر دیااُس وقت دہلی میں پاکستان کے کیریئر ڈپلومیٹ سید ابن عباس ہی ہائی کمشنر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ 2001ء سے 2004ء تک وہ دونوں ملکوں کے مابین انتہائی کشیدہ حالات کا سفارتی حصہ رہے لیکن اپنے دھیمے لہجے اور متاثرکن طرزعمل سے وہ ہر مرحلے میں اپنے مطلوبہ کردار کے حوالے سے سرخرو ہوئے
1983ء میں فارن سروس جوائن کرنے والے سید ابن عباس نے اس عرصے میں جہاں وزارت خارجہ میں اہم نوعیت کی ذمہ داریاں انجام دیں وہیں بیرون ممالک بھی پاکستان کی سفارتی نمائندگی کرتے رہے‘ 2006ء میں جب پاکستان میں سیلاب آیا تو وہ لاس اینجلس میں پاکستانی قونصلیٹ میں متعین تھے اور سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بیرون ملک سفارتخانوں نے فنڈ ریزنگ کی جو مہم شروع کی تھی اس میں لاس اینجلس کا نام Top پر تھا جہاں 1995ء میں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ڈپٹی سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ویسے تو سید صاحب کا پروفیشنل کیریئر انتہائی شاندار جس کا اعتراف اُنکے ساتھی حسد سے نہیں بلکہ رشک سے کرتے ہیں۔۔۔ لیکن لندن میں پاکستان کے سفیر کی مشکلات اور پیچیدگیاں کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں