لاہور (صابر شاہ) پاکستان میں سیاسی جماعتوں پر پابندی کا آغاز جولائی 1954ء میں جب کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر وزیراعظم لیاقت علی خان کی خلاف سازش کے الزام کے بعد پابندی عائد کی گئی۔ میجر جنرل اکبر خان کی سرکردگی اور روس کی پشت پناہی سے تیار کی گئی اس سازش کو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کیس میں جنرل اکبر، ان کی اہلیہ، فیض ا حمد فیض، درجنوں فوجی افسر اور کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری سجاد ظہیر گرفتار ہوئے اور مقدمہ کے بعد انہیں جیل ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگتے ہی اس پارٹی کی قیادت کے خلاف کریک ڈائون بھی شروع ہو گیا۔ رہائی کے بعد سجاد ظہیر کو بھارت بھیج دیا گیا، وہ 1973ء میں روس کے دورے کے دوران انتقال کر گئے۔ ان کی بیٹی نادرہ کی شادی معروف بھارتی ایکٹر راج ببر سے ہوئی۔ مارکسی انقلابی سجاد ظہیر نے 6مارچ 1948ء میں کلکتہ میں کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ جلد یہ پارٹی پاکستان منتقل ہو گئی اور مزدور رہنمائوں اور ٹریڈ یونین لیڈروں سے اس پارٹی کے اسی طرز پر روابط استوار ہو گئے جیسے روس کے انقلابی رہنما ولادی میر لین کے ہو گئے تھے۔ کمیونسٹ پارٹی نے ڈیموکریٹک سٹوڈ نٹس فیڈریشن کے نام سے طلبہ تنظیم بھی قائم کی۔ اس پر بھی 1954ء میں ہی پابندی عائد کر دی گئی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی رکنیت 60ء کے عشرے کے و سط تک 3ہزار تھی۔ کمیونسٹ پارٹی 2013ء میں دوبارہ رجسٹرڈ ہوئی۔ نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی:اس پارٹی کو دو بار پابندی کا سامنا کرنا پڑا پہلی بار 26نومبر 1971ء کو صدر یحییٰ خان کے ہاتھوں اور دوسری بار 10فروری 1975ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں۔ اس پارٹی کی بنیاد 1957ء میں ڈھاکہ میں مولانا عبدالحامد خان بھاشانی کے ہاتھوں رکھی گئی جنہوں نے 1965ء کے متنازع انتخابات میں صدر ایوب خان کی حمایت کی تھی۔ چین نواز نیشنل عوامی پارٹی 1967ء میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ مولانا بھاشانی کو معروف سیاستدانوں غوث بخش بزنجو، جی ایم سید، مولانا مفتی محمود اور عبدالصمد خان اچکزئی کی حمایت حاصل تھی۔ مشرقی پاکستان میں اس کی قیادت مولانا بھاشانی کے پاس تھی جبکہ مغربی پاکستان میں روس نواز مولانا عبدالغفار خان کے بیٹے عبدالولی خان کے پاس تھی۔ 2001ءسے2015ء کے دوران پابندی کی زد میں آنیوالی مذہبی و سیاسی جماعتوں میں سے بیشتر دوبارہ نئے ناموں سے سامنے آ گئیں،تاہم ان پر پھر پابندی عائد کر دی گئی ۔ان میں لشکر جھنگوی ، سپاہ محمد پاکستان ، جیش محمد ، لشکر طیبہ ، سپاہ صحابہ ، پاکستان تحریک جعفریہ ، پاکستان تحریک نفاذ شریعت محمد ، تحریک اسلامی، القاعدہ ، ملت اسلامیہ پاکستان ، (سابقہ سپاہ صحابہ پا کستا ن )، جماعت الانصار ، جمعیت الفرقان ، حزب التحریر ، خیرالناس انٹرنیشنل ٹرسٹ، بلوچستان لبریشن آرمی ،اسلا مک سٹوڈنٹس موومنٹ آف پاکستان ، لشکر اسلام ، انصار الاسلام ، حاجی غدار گروپ ، تحریک طالبان پاکستان ، بلوچستان ری پبلک آرمی ، بلوچستان لبریشن فرنٹ، لشکر بلوچستان ، بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ ، بلوچستان مسطح دفاع تنظیم ،شیعہ طلبہ ایکشن کمیٹی، گلگل مرکز سبیل آرگنائزیشن ،تنظیم نوجوانان اہلسنّت گلگت، پیپلز امن کمیٹی لیاری کراچی ، اہلسنّت والجماعت (سابقہ سپاہ صحابہ پاکستان )،الحرمین فائونڈیشن، رابطہ ٹرسٹ، انجمن امامیہ گلگت بلوچستان ، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت بلتستان ، بلوچستان بنیاد پرست اسلامی، تحریک نفاذ امن ،تحفظ حدوداللہ ، بلوچستان واہ لبریشن آرمی ، بلوچ ری پبلکن پارٹی ، آزاد بلوچستان یونائیٹڈ آرمی ، سلامی مجاہدین، جیش اسلام، بلوچستان نیشنل آرمی ، خانہ حکمت گلگت بلتستان تحریک طالبان مہمند، طارق گیدار گروپ،عبداللہ اعظم بریگیڈ، مشرقی ترکمانستان اسلامی تحریک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان ، اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اسلامک جہاد یونین، تحریک طالبان باجوڑ امر بالمعروف و نہی عن المنکر (حاجی غدار گروپ)،بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد ، یونائیٹڈ بلوچ آرمی، جئے سندھ متحدہ محاذ اور داعش شامل ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2014ء میں کسی تنظیم یا پارٹی پر پابندی عائد نہیں کی گئی ۔جماعت الدعوۃ یکم دسمبر 2005ء سے مشاہدے میں ہے جب کہ سنی تحریک 17جنوری 2007ء سے حکومتی واچ لسٹ میں شامل ہے۔الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ یکم دسمبر 2005ءسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس فہرست میں شامل ہیں جس کے بعد رکن جماعت ایسے افراد یا تنظیموں کے اثاثہ جات منجمد کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ فروری 2007ء میں پاکستانی حکام نے دونوں مذکورہ ٹرسٹ کے ملک بھر میں قائم دفاترم سیل کر دیئے ان میں القاعدہ اور طالبان سے رابطوں کا الزام تھا ۔حکومت نے نائن الیون کے بعد الرشید ٹرسٹ کے بینک اکائونٹ منجمد کر دیئے تھے ، تاہم عدالت 2003ء میں اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔دنیا بھر میں گزشتہ ایک صدی کے دوران سیاسی جماعتوں پر مختلف وجوہات کی بناء پر پابندیاں عائد ہوتی رہی ہیں، بیشتر ممالک میں ان پابندیوں کی بڑی وجہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملو ث ہو کر سکیورٹی رسک بننا تھا ۔بھارت میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے1975ءمیں 21ماہ کی طویل ایمر جنسی کے دوران کانگریس مخالف 26 پارٹیوں پر پابندی لگادی۔ پابندی لگانے کا یہ رسمی اقدام اس وقت کے صدر فخرالدین احمد کے ذریعے کیا گیا۔ انتخابی مہم کے دوران حکومتی وسائل استعمال کرنے کا الزام ثابت ہونے پر الہ آباد ہائی کورٹ نے اندراگاندھی کو لوک سبھا کی نشست سے نااہل قرار دے کر آئندہ 6 برس تک انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد اندراگاندھی نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کردیا۔ امریکہ میں 1919ء میں بننے والی کیمونسٹ پارٹی آف یونائٹیڈ سٹیٹس کو 1954ء میں سپریم کورٹ نے بین کردیا۔ عدالت نے اس پارٹی کو غیر قانونی قرار دیدیا کیونکہ اس پر غیر ملکی ایجنسی کے ساتھ روابط کا الزام تھا جس کی بنیاد پر وہ امریکہ کیلئے سکیورٹی رسک تھی۔ مارچ 2015ء میں برطانیہ کی سیاسی جماعت ’’دی بیئر پارٹی‘‘ کو نامناسب نام کی بدولت انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ اس پارٹی کا پورا نام دی بیئر بیکی کرمپیٹ تھا الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی جماعت کے نامناسب نام کی بدولت اسے انتخابات میں حصہ لینے سے روک سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اعتراض کیا کہ بیکی تمباکو کیلئے روزمرہ استعمال ہونے والا اور کرمپیٹ برطانوی محاورے میں جوان اور خوبصورت عورت کو کہا جاتا ہے۔ یہ پارٹی 2013ء کے ضمنی انتخابات میں حصہ لے چکی تھی اور 14 پارٹیوں میں اس کی 235 ووٹوں کے ساتھ ساتویں پوزیشن تھی۔ 1988ء میں مارگریٹ تھیچر کی حکومت نے واٹس آف سن فن پر پابندی عائد کی جس کی وجہ یہ بنائی گئی کہ یہ محض شہرت کی بھوکی ہے۔ وزیراعظم جان میجر نے 1994ء میں یہ پابندی ختم کردی۔ ترکی میں 1982ء میں فوجی عہد میں بننے والے آئین کے نفاذ کے بعد 20 سیاسی پارٹیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔