ڈیلس: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پبلک یوٹیلیٹیز کے کنوینر، معروف صنعت کار اور نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر نور احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی صنعتیں اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اور اگر وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں کاروباری برادری کی سفارشات کو عملی شکل دیدے تو نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ملکی برآمدات بھی کئی گنا بڑھ سکتی ہیں۔
ریاست ٹیکساس میں ڈیلس اور ہیوسٹن کے دورے کے موقع پر ’’جنگ/ جیو ‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے نور احمد خان نے کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ صنعتوں کو درپیش بنیادی مسائل، خصوصاً بجلی، گیس، پانی، شرح سود اور بھاری ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کیا جائے تاکہ پاکستانی صنعت کار عالمی منڈی میں مؤثر مقابلہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات کئی برسوں سے تقریباً ایک محدود دائرے میں گھوم رہی ہیں جبکہ دوسری جانب خطے کے ممالک مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے بقول پاکستانی صنعت کاروں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ پیداواری لاگت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی قیمتیں مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
نور احمد خان نے کہا کہ بنگلہ دیش، بھارت اور دیگر علاقائی ممالک نے اپنی برآمدی صنعتوں کو خصوصی مراعات فراہم کیں، جس کے نتیجے میں ان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان میں صنعت کار آج بھی بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی مسائل کے حل کے منتظر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کاروباری برادری کی تجاویز کو سنجیدگی سے لے اور صنعتی شعبے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے تو پاکستان برآمدات میں غیرمعمولی اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف پی سی سی آئی نے آئندہ وفاقی بجٹ کے لیے حکومت کو متعدد تجاویز پیش کی ہیں جن میں بجلی کے نرخوں میں کمی، گیس کی بلا تعطل فراہمی، پانی کے بحران کا حل، شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانا، ٹیکسوں کے نظام کو کاروبار دوست بنانا اور صنعتوں کے لیے خصوصی مراعات شامل ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم اور حکومتی قیادت کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں بھی یہی نکات اٹھائے گئے ہیں۔
نور احمد خان نے کہا کہ کاروباری برادری کو موجودہ بجٹ سے خاصی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ پہلی مرتبہ صنعت کاروں کے مسائل کو اعلیٰ سطح پر تفصیل سے سنا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ میں صنعتوں کے حق میں عملی فیصلے کیے گئے تو اس کے مثبت نتائج نہ صرف صنعتی پیداوار بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور قومی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور کاروباری برادری کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں کے بعد صنعت کاروں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ ان کے بقول کاروباری برادری کو یقین دلایا گیا ہے کہ صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ صنعت کار آنے والے بجٹ کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔
کراچی کی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نور احمد خان نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز ہونے کے باوجود کراچی کو گزشتہ کئی برسوں سے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں بنیادی سہولیات، انفرااسٹرکچر، یوٹیلیٹیز اور صنعتی ماحول کے حوالے سے وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی کی صنعتیں مکمل استعداد کے ساتھ چلنا شروع ہو جائیں تو نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے مختلف صنعتی علاقوں، جن میں نارتھ کراچی، کورنگی، سائٹ اور فیڈرل بی ایریا شامل ہیں، میں ہزاروں صنعتیں موجود ہیں جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صنعتوں کی مشکلات درحقیقت لاکھوں خاندانوں کی مشکلات ہیں کیونکہ فیکٹریوں کے ساتھ صرف مالکان نہیں بلکہ مزدور، ٹیکنیشن، انجینئر، خواتین ورکرز، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور درجنوں معاون شعبے وابستہ ہوتے ہیں۔
نور احمد خان نے کہا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد روزگار حاصل کرتی ہے اور اگر صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر ہزاروں گھروں پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق روزگار کے مواقع پیدا کیے بغیر نہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور نہ ہی معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے پنجاب اور کراچی کے صنعتی ماحول کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ برسوں کے دوران انفرااسٹرکچر اور صنعتی سہولیات پر نمایاں کام ہوا ہے جبکہ کراچی کو بھی اسی نوعیت کی توجہ درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت کسی ایک صوبے کی نہیں بلکہ پورے ملک کی مضبوط صنعتی بنیادوں کی متقاضی ہے۔
نور احمد خان نے کہا کہ صنعت کار پاکستان سے مخلص ہیں اور ملک میں سرمایہ کاری، صنعت کاری اور برآمدات کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق کاروباری برادری حکومت سے کسی خصوصی رعایت کی نہیں بلکہ صرف ایسے ماحول کی طالب ہے جس میں صنعتیں منافع بخش انداز میں کام کر سکیں اور عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں کاروباری برادری کی تجاویز کو اہمیت دی جائے گی اور اگر ایسا ہوا تو پاکستان معاشی بحالی، صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کا پہیہ جتنا تیزی سے چلے گا، اتنی ہی تیزی سے روزگار، سرمایہ کاری اور ملکی معیشت آگے بڑھے گی۔