آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سانحہ پشاورنے نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔امریکہ اور برطانیہ سمیت مغرب نے اس واقعہ کی بھر پور مذمت کی اور ہر ممکن تعاون کی پیشکش بھی کی ہے یہ پہلا موقع نہیں جب مغرب نے ایسے واقعہ کے بعد ریاست پاکستان کی طرف سے کئے جانیوالے اقدامات کونہ صرف سراہا ہے بلکہ درست قدم قرار دیا ہے پاکستان کے آرمی چیف نے اپنے دورہ امریکہ کے موقع پرامریکہ کی سول اور فوجی قیادت پر واضح کر دیا تھا کہ دہشت گردوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے جبکہ سانحہ پشاور کے بعد وزیراعظم پاکستان نے بھی اسی موقف کو دہرایا۔برادر اسلامی ممالک نے بھی سانحہ پشاور کی شدید مذمت کی ترکی میں تو ایک روزہ سوگ بھی منایا گیاسعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ نے بھی اس واقعہ کی شدید مذمت کی امام کعبہ نے تو اس اقدام کو حرام قرار دیا ہے۔
سانحہ کے حوالے سے صرف مزاحمتی بیانات اور پاکستان سے اظہار یکجہتی کافی نہیں مغرب اور عالم اسلام کوریاست پاکستان کی ہر طرح سے بھرپور مدد کرنا ہو گی پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 60ہزار سے زائد فوجی اور سول افراد کی جانوں کے نذرانے پیش کر کے دنیا کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔دہشت گردوں کے خلاف جاری مختلف آپریشن بھی اسی ضمن میں ہو رہے ہیں۔یہ بحث بھی اب ختم ہو جانی چاہئے کہ یہ

کس کی جنگ ہے کیونکہ یہ جنگ جتنی ہماری ہے اتنی اقوام عالم کی بھی ہے اب وقت آگیا ہے کہ اقوام عالم اس میں اپنا حصہ ڈالیں موجودہ حالات کے پیش نظر امریکہ اور دیگر اہم ممالک فوری طور پر اقوام متحدہ کا اجلاس بلوائیں اور اس جنگ کو OWN کریں پاکستان کو فوجی مراعات اور سہولتیں فراہم کی جائیںپاکستانی پاسپورٹ کوعزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور پاکستانیوں کو دہشت گرد کہنے کا سلسلہ اب بندکیا جائے، موجودہ مخصوس حالات میں پاکستان کے بیرونی قرضے معاف کردینے چاہئیں،پاکستان کو اس جنگ کیلئے نہ صرف ضروری سازوسامان بلکہ مالی معاونت بھی دی جانی چاہیے تاکہ پاکستانی عوام اور ریاست کو یہ یقین ہو کہ اس جنگ میں اقوام عالم اس کے پیچھے کھڑے ہیں اسی طرح آپریشن کے بعد ان متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی انکو بھر پور کردار ادا کرنا ہو گا۔افغانستان میں روس کو شکست دینے کے بعد جس طرح مغرب نے افغانستان اور پاکستان کو تنہا چھو ڑ دیا تھا اس کے نتائج ہم سب آج تک بھگت رہے ہیں ایسا دوبارہ ہونا سب کیلئے انتہائی نقصان دہ ہو گا۔افغانستان وار کیلئے بنائی جانیوالی کانگریس کی کمیٹی کے ایک رکنCharlie Wilson کے نام پر ایک فلم بھی بنائی گئی جس کا نام Charlie Wilson's War ہے یہ کانگریس مین اپنی کانگریس کے اجلاسوں میں چیختا رہا کہ افغانستان جنگ کے بعد ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین اور بہت سے مسائل کے حل کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن امریکی کانگریس نے اس کانگریس مین کی ایک نہ سنی بلکہ یہ سوچاکہ ہم نے روس کو شکست دے دی ہے ہمارا مقصد پورا ہو گیا ہے اب ہمیں اپنا پیسہ اور وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔وقت نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کی وہ پالیسی غلط تھی امریکہ کھربوں ڈالر خرچ کر کے بھی دنیا میں امن قائم نہیں کر سکا۔Charlie Wilsonکی وہ رپورٹ جو شائد گرد آلود فائلوں میں پڑی ہو اسکا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو محفوظ بنانے کیلئے پاکستان کی بھرپور مدد کے علاوہ اقوام عالم کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ اسی طرح برطانیہ جہا ں انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے اس کو بھی اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ پاکستان کیساتھ اس جنگ میں کہاں کھڑا ہے اسلامی ممالک کو بھی OICکی فوری میٹنگ بلوانا چاہئے پاکستان کی مضبوطی عالم اسلام کی مضبوطی تصور کی جانی چاہیے اور یہ وقت کی اشد ضرورت ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطے کیساتھ ساتھ عالم اسلام کو بھی نا قابل تلافی نقصان ہو گا ۔ ترکی کی جانب سے اظہارِیکجہتی کا مظاہرہ خوش آئند اقدام ہے۔افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی کا اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کے نئے باب کا آغاز تو ہو چکا ہے اور افغانستان نے یہ واضح موقف اختیار کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سر زمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینگے۔ 16/12سانحہ کے بعد پاکستان کے آرمی چیف نے فوری طور پر افغانستان کا دورہ کیا وہاں انہوں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ایساف فورسز کے سربراہ سے ملاقاتیں کیں اور سانحہ پشاور میں افغانستان کی سر زمین استعمال ہونے کے واضح ثبوت بھی پیش کئے جسکے بعد افغانستان کے صدر نے مولانا فضل اللہ کی گرفتاری اور اس کو پاکستان کے حوالے کرنے کے احکامات بھی صادر فرمائے اور افغان فورسز نے آپریشن شروع کر دیا ہے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سانحہ پشاور سازش میں افغانستان کے خفیہ ادارے کے اعلی افسر بھی شامل تھے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر اطلاعات درست ہیں تو کابل اس پر کیا اقدامات کرتا ہے ۔بظاہر نظر آرہا ہے کہ افغانستان میں بننے والی نئی حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ پاکستان کیساتھ اچھے ہمسائیوں کی طرح تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف کے دورہ کابل کے چند روز بعد ہی افغانستان اور ایساف کی اعلی فوجی قیادت نے پاکستان کا دورہ کیا ہے اس دورے میں مشترکہ دشمن کے خلاف لڑنے کیلئے نہ صرف انٹیلی جنس کے نظام کو مزیدموثر بنانے کے ساتھ ہی دہشت گردوں کیخلاف مشترکہ آپریشن کی حکمت عملی پربھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاہم امید کرتے ہیں کہ اب افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف کارروائی کریں گے ۔آخر میں اپنے خاص دوست بھارت کے بارے میں بھی بات کرنا ضروری ہے سانحہ پشاور کے بعد بھارتی وزیر اعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب میاں نواز شریف کو ٹیلی فون کیا اور سانحہ پشاور کی بھرپور انداز میں مذمت بھی کی اس حوالے سے بھارتی پارلیمینٹ اور اسکولوں میں بھی سانحہ پشاور کے غم میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی بھارتی فلمی ستاروں اور دیگر اہم سماجی شخصیات نے بھی اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی یہ امر پاکستان کیلئے جتنا اطمینان کا باعث تھا اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ بھارت کے اندر ایک مخصوص لابی اور میڈیا نے اس واقعہ کے بعد پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انڈیا کے تین بڑے شہروں کو نشانہ بنانے کیلئے پاکستان میں منصوبہ بندی مکمل ہوچکی ہے بھارتی میڈیا نے ایک فرضی پاکستانی بریگیڈیئر شاہ میر کا نام لینا شروع کر دیا ہے بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر شاہ میر اس منصوبے کی نگرانی کر رہا ہے اور بھارت کے شہر دہلی،بنگلور اور آگرہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ،میڈیا کا ایک حصہ تو یہاں تک کہہ رہا ہے کہ دہشت گرد بھارت پہنچ چکے ہیں پاکستان کے موجودہ حالات میں اگر بھارت ایسا پروپیگنڈا کر کے کوئی مخصوص مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہو گی کیونکہ پاکستانی قوم متحد اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ہم دشمن کی نہ صرف ہر سازش کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں