آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کے لئے نئی مانیٹری رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق شرح سود 5.75فیصد کو برقرار رکھا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کی وجہ سے ملکی معیشت کو بڑا خطرہ درپیش ہے تاہم سی پیک منصوبوں میں تیزی سے معیشت میں وسعت آنے کی امید ہے۔ رپورٹ کے مطابق زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر آ گئے ہیں لیکن افراط زر میں کمی کی بجائے اضافہ ہو گیا ہے اور اگست 2016میں زر مبادلہ کی شرح 3.6فیصد ہو گئی ہے جبکہ گزشتہ سال اگست 2015میں یہ شرح 1.8فیصد تھی۔ درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کی وجہ سے مہنگائی میں کمی نہیں آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ ملکی معیشت کے لئے ایک رہنما اصول کی صورت رکھتی ہے اور اس کی روشنی میں معاشی پالیسی کے نوک پلک درست کئے جاتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا یہ فیصلہ درست ہی نہیں معاشی ترقی کے لئے خوش آئند ہے کہ سرمایہ کاری پر شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے اس طرح ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا جس کی اس وقت بڑی ضرورت ہے اور سب سے اہم کہ درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کو دور کرنا ہے جسے اسٹیٹ بینک نے ملکی معیشت کے لئے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ افراط زر کی شرح میں کمی کی جائے گی اس حوالے سے بعض اقدامات بھی تجویز کئے گئے تھے لیکن مثبت

نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے اور اس میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ برآمدات میں اضافے کے لئے ملکی پیداوار میں نہ صرف اضافہ کیا جائے بلکہ ایسے اقدام بھی کئے جائیں کہ معاشی ترقی کے اثرات عام آدمی پر بھی مرتب ہوں مہنگائی میں کمی ہو اور روزگار کے ذرائع پیدا ہوں۔ ایسا کرنے سے ہی ملکی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اس لئے دیرپا اور مستقل معاشی پالیسیاں تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ان کے بہتر اور مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں