آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
کسی بھی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا انحصار 4چیزوں یعنی ملکی ایکسپورٹس، بیرون ملک سے بھیجی گئی ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری(FDI)، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لئے گئے قرضے اور دوست ممالک کی امداد پر ہوتا ہے۔ رواں مالی سال پاکستان کی ایکسپورٹس میں 5% اور بیرونی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر اور آئی ایم ایف و دیگر مالیاتی اداروں سے لئے گئے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اس طرح قرضوں پر بنائے گئے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور محنت کشوں کی ترسیلات زر دونوں 18.5 ارب ڈالر کے تقریباً برابر ہوگئے ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس سال 16.5% زیادہ ترسیلات زر اپنے وطن بھیجی ہیں جس میں سعودی عرب سے 3.8 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 2.5 ارب ڈالر، امریکہ سے 2.7 ارب ڈالر، برطانیہ سے 1.7 ارب ڈالر، خلیجی ممالک سے 2.7 ارب ڈالر، یورپی یونین سے 1.7 ارب ڈالر، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور دیگر ممالک سے مجموعی 3.2 ارب ڈالر کی ترسیلات زر شامل ہیں۔
وفاقی بجٹ سے قبل ایف بی آر کی طرف سے میڈیا میںایسی اطلاعات آئی تھیں جس میں بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پر ودہولڈنگ ٹیکس لگانے اور ان پر ٹیکس کی چھوٹ کی سہولت ختم کرنے کی تجاویز دی گئی تھیں۔

اس موقع پر میں نے گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وترہ سے بات کی کہ اس تجویز کی فوراً تردید کی جائے بصورت دیگر بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے جس سے نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئے گی بلکہ پاکستانی روپے کی قدر بھی گرے گی جو ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے فوراً اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے بات کرکے اس خبر کی تردید جاری کرنے کی درخواست کی اور وزیر خزانہ نے بجٹ میں بیرونی ترسیلات زر پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے اور انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا۔ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافے کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی دیار غیر کے بینکوں میں اضافی رقم رکھنا غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔دوسری وجہ اسٹیٹ بینک کا ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کیلئے نیا طریقہ کار (PRI) متعارف کرانا ہے جس کے تحت بیرون ملک سے 100 سے زائد بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے بھیجی گئی ترسیلات زر پر کوئی چارجز نہیں لگائے جاتے اور بھیجی گئی رقوم اہل خانہ کو ایک سے دو دن میں موصول ہوجاتی ہیں جبکہ تاخیر کی صورت میں بینک انہیں جرمانے کی ادائیگی کرتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں موبائل فون کمپنیوں نے بھی ترسیلات زر موبائل اکائونٹ میں ٹرانسفر کرنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے بھیجی جانے والی رقوم میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب لوگ بینکنگ چینل کے ذریعے اپنی رقوم پاکستان بھجوارہے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ پانچ سالوں میں ملکی ترسیلات زر میں دگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008ء میں ملکی ترسیلات زر 6.45 ارب ڈالر، 2009ء میں 7.81 ارب ڈالر، 2010ء میں 8.91 ارب ڈالر، 2011ء میں 11.2 ارب ڈالر، 2012ء میں 13.9 ارب ڈالر، 2013ء میں 12.92 ارب ڈالر، 2014ء میں 15.83 ارب ڈالر اور 2015ء میں 18.5 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ 2014ء میں دنیا بھر میں مقیم تاریک وطن نے اپنے اپنے ممالک میں مجموعی 426 ارب ڈالر بھیجے تھے جس سے ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ممالک کی معیشتوں کو نہایت مدد ملی۔ دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان کی معیشت کا انحصار بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پر ہے۔ ورلڈ بینک کی جائزہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں ترسیلات زر وصول کرنے والے 10 بڑے ممالک میں بھارت 70 بلین ڈالر کے ساتھ پہلے، چین 66 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے، فلپائن اور میکسیکو 24-24 بلین ڈالر کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے، نائیجریا 21 بلین ڈالر کے ساتھ پانچویں، مصر 18 بلین ڈالر کے ساتھ چھٹے، پاکستان اور بنگلہ دیش 14-14 بلین ڈالر کے ساتھ بالترتیب ساتویں اور آٹھویں، ویتنام 9 بلین ڈالر کے ساتھ نویں اور لبنان 7 بلین ڈالر کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔ اس طرح 2015ء تک دنیا کی مجموعی ترسیلات زر 426 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
ملک میں توانائی کے بحران اور پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث ہماری صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ نہیں ہورہا جبکہ امن و امان کی موجودہ صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں نئی سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں لے رہے لیکن یہ خوش آئند بات ہے کہ ان حالات میں ہماری ترسیلات زر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کررہی ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن سے بے انتہا محبت کرتے ہیں جس کا ثبوت گزشتہ 5 سالوں میں ملکی ترسیلات زر میں دگنا سے زائد اضافہ ہونا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خصوصی مراعات دینے کا اعلان کرے بالخصوص انہیں وطن واپسی پر ائیر پورٹ پر ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں۔ میں بیرون ملک مقیم اپنے پاکستانی بھائیوں کو ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ ان کی بھیجی گئی ترسیلات زر کی وجہ سے نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا مل رہا ہے بلکہ اس سے روپے کی قدر بھی مستحکم ہوئی ہے۔ پاکستان میں ترسیلات زر کی کچھ رقم اب بھی غیر قانونی طریقے ہنڈی وغیرہ سے بھجوائی جارہی ہے جسے استعمال میں لانے میں بڑی رکاوٹ ان کی غیر رسمی نوعیت ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے ترسیلات زر پر انحصار کرنے کے علاوہ ملکی ایکسپورٹس اور بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات کرے۔ انگریزی زبان میں مہارت اور تکنیکی ہنرمندی ہونے کے باعث بھارت اور فلپائن کے ورکرز کو دنیا بھر میں دوسرے ممالک کے ورکرز کے مقابلے میں ترجیح دی جاتی ہے جس کا اندازہ بیرون ملک مقیم بھارتی اور فلپائنی ورکرز کی جانب سے اپنے وطن بھیجی جانے والی بالترتیب 70 ارب ڈالر اور 24 ارب ڈالر سالانہ کی ترسیلات زر سے لگایا جاسکتا ہے۔
70ء کی دہائی میں ملک میں ملازمتوں کے محدود مواقع دیکھتے ہوئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانی ورکرز کو پاسپورٹ جاری کرکے انہیں بیرون ملک بھیجنے کی ترغیب دی اور ہمارے پاکستانی پروفیشنلز اور ورکرز نے انتہائی محنت و جانفشانی سے امریکہ اور یورپ کے علاوہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی موجودہ ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی بھیجی گئی ترسیلات زر سے ان کی فیملی کےمعیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی۔ موجودہ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ پاکستانی ورکرز کو بیرون ملک بھیجنے سے قبل ملازمت کیلئے جانے والے ملک کی بنیادی زبان اور ہنرمندی کی تعلیم دے کر انہیں اچھی اجرتوں پر بیرون ملک بھیجے۔ اس سلسلے میں پروٹیکٹر آف امیگرینٹ اور پاکستان اوورسیز فائونڈیشن اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپنے خاندان کو بھیجی گئی سالانہ 18.5 ارب ڈالر کی ترسیلات زر میں سے اخراجات کے بعد ہر سال فیملی کے پاس خطیر رقم بچ جاتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان رقوم کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری مقاصد میں استعمال میں لانے کیلئے ایسی پالیسیاں تشکیل دے جن سے بیرون ملک مقیم پاکستانی نیشنل سیونگ اور سرمایہ کاری کی دیگر اسکیموں کے علاوہ چھوٹے اور درمیانی درجے کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوں تاکہ ملک میں نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں بلکہ بھارت و فلپائن کی طرح ہماری مڈل کلاس میں بھی اضافہ ہو۔