• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اتحادی کی دشمنی۔ علاج ہو سکتا ہے/ شاندار اردو یونیورسٹی اور شاندار اردو کانفرنس....نقارخانے میں…جمیل الدین عالی(دوسری و آخری قسط)

وفاقی اردو یونیورسٹی۔ جھلکیاں
وفاقی اردو یونیورسٹی کا نوٹی فیکیشن 13 نومبر 2002ء کو جاری ہوا۔ اُردو کالج جن کا میں بارہ برس تک معتمد اعزازی بھی رہا پہلے ہی سے کام کر رہے تھے اور بعض شعبوں میں ایم اے کی تدریس بھی ہوتی تھی۔چند ہی روز میں یونیورسٹی کام کرنے لگی۔ میں اولین تین برس تک اس کا ڈپٹی چیئر رہا جبکہ مستقل چیئر پرسن ( رئیس الجامعہ ) صدر پاکستان ہیں۔ اب آفتاب احمد خان صدر انجمن ترقی اردو پاکستان ڈپٹی چیئرہیں۔ میں بے عہدہ خادم اور دعا گو۔ اللہ تاحیات یہی رکھے۔
آج ماشاء اللہ وفاقی اُردو یونیورسٹی کراچی اسلام آبا دکیمپس میں بارہ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ( اس کا قیام 13 نومبر 2002ء کو عمل میں آیا تھا )۔
فیکلٹی ڈیولپمنٹ کی طرف خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کراچی میں سائنس و آرٹس فیکلٹی میں 350 اساتذہ پڑھا رہے ہیں جس میں 35 پی ایچ ڈی اور 51 ایم فل اساتذہ ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد کیمپس میں 90 اساتذہ پڑھا رہے ہیں جس میں 15 پی ایچ ڈی اور 25 ایم فل ہیں۔ ہم عمارات کی تعداد بڑھانی چاہ رہے ہیں تاکہ طلبا و طالبات کی تعداد میں ان کی طلب کے مطابق اضافہ ہو۔
اُردو یونیورسٹی تاحال 7 پی ایچ ڈی اور 3 ایم فل ڈگریاں دے چکی ہے، جبکہ 460 طلباء ( کراچی و اسلام آباد کیمپس ) ایم فل اور پی ایچ ڈی میں رجسٹرڈ ہیں۔
کلیہ فنون عبدالحق کیمپس میں چار منزلہ عمارت اور نئے کتب خانے کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے۔ ( یہ کیمپس انجمن کی پرانی عمارت میں واقع ہے جہاں بابائے اردو مرحوم(وفات 1961ء ) دفن ہیں۔
کلیہ سائنس گلشن اقبال کیمپس کی عمارت میں توسیع کیلئے تین منزلہ عمارت تعمیر ہو چکی ہے۔
تجربہ گاہوں کی تعمیر اور تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئے آلات فراہم کئے جا رہے ہیں۔
سائنس کیمپس ( گلشن اقبال کراچی ) کی موجودہ دو منزلہ عمارت پر تیسری منزل کی تعمیر سے 52 کلاس روم اور 10 تجربہ گاہیں میسر آئیں گی، جس کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں یونیورسٹی کا اسپورٹس کمپلیکس زیر تعمیر ہے، جس میں ٹینس، والی بال اور باسکٹ بال کے کورٹس اور ایک کرکٹ گراؤنڈ شامل ہیں۔
کراچی کے سائنس اور فنون ہر دو کیمپس کی سیمینار کتب خانوں میں کتابوں کا اضافہ کیا جا چکا ہے اور مزید کیا جائے گا۔
وفاقی اُردو یونیورسٹی کا ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ اردو میں سائنسی نصابی کتب کی اشاعت کے لئے قابل قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ تاحال 34 کتابیں شائع ہو چکی ہیں، 7 کتابیں زیر طبع ہیں جبکہ 20 سے زائد نئی کتابوں کے مسودے آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہونے کی امید ہے۔
اعلیٰ تعلیم کمیشن کے تعاون سے وفاقی اُردو یونیورسٹی کے 12 طلبہ غیر ملکی جامعات میں وظیفہ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ مزید طلبہ وظائف کی منظوری کے منتظر ہیں۔ مجھے وفاقی وزارت تعلیم اسلام آباد سے مذاکرات کے لئے ایک نجی وفد لے جا کر اسی موضوع پر بات کرنی ہے۔ اراکین وفد کو میری طرح اپنا کرایہ خود دینا ہو گا۔ مجھ سے احباب رابطہ کریں۔
جامعہ میں جامعہ میں بین الاقوامی سطح پر مذاکروں اور لیکچرز کا اہتمام کیا جاتاہے اور ہر قومی دن کو شایان شان منایا جاتا ہے ۔مشاہران علم و ادب کی یاد میں اُردو یونیورسٹی میں یادگاری لیکچر، سیمینار، مذاکرہ، ریفرنس کا انعقاد اور ان کی علمی اور ادبی کاوشوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنا درس گاہ کی روایت بنتی جاتی ہے۔ انشاء اللہ یہ روایت جلد مضبوط ہو جائے گی۔ بعض تفصیلات انشاء اللہ آئندہ۔
عظیم الشان اُردو کانفرنس
کل جمعرات ستائیس نومبر سے ایک شاندارہفت روزہ عالمی اُردو کانفرنس آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں اسی کے اہتمام سے شروع ہوئی ہے۔ اسکے منتظمین اور کارکن تو ماشاء اللہ بہت ہیں اور سب کے سب میری اور سب اُردو دوستوں کی دلی مبارکباد کے مستحق مگر اس مضمون میں ازروئے اختصار چار منتخب عہدہ داروں کے نام لئے جا رہے ہیں۔ کوئی تفصیلی گلدستہ چھپے گا تو اس میں سب کے نام نمایاں طور سے آئینگے۔ ایسے اور اتنے بڑے کاموں کی داد قومی سطح پر دینا پوری قوم کا فرض بنتا ہے۔
مسعود ہاشمی……نائب صدر آرٹس کونسل
محمد احمد شاہ……معتمد اعزازی آرٹس کونسل
محمود احمد خاں……خازن اعزازی آرٹس کونسل
سیف الرحمن گرامی چیف آرگنائزر ( یہ پہلے کونسل کے معتمد اعزازی بھی رہ چکے ہیں )
میں آرٹس کونسل کی تاسیس سے ہی کسی نہ کسی طرح اس سے متعلق رہا ہوں۔ اس نے فنون لطیفہ کے میدان میں بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ بڑی بڑی نمائشیں کی ہیں، مگر فنون لطیفہ کی فہرست میں میری عقیدے کے مطابق ادب LITERATURE کے حوالے سے اتنا بڑا کام پہلی بار کر رہی ہے۔ یہ، ماشاء اللہ ملک بھر کے تمام ثقافتی اداروں کیلئے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ ذرا تصور کیجئے۔ ایک خالص نجی، مجموعہ احباب کا پورے ایک ہفتے کیلئے عالمی سطح کا ایسا اجتماع جس کی گیارہ نشستیں ہوں اور جس کے مہمان کراچی اور اندرون پاکستان سمیت ساری دنیا سے آئے ہوں کیسا کٹھن اور پیچیدہ اور نازک کام ہے۔ آٹھ نشستیں آرٹس کونسل کی عمارت میں جبکہ تین نشستیں ( نویں، دسویں، گیارہویں ) ایک موضوع اور کئی کئی مقررین ہیں۔ ہر نشست کی کئی کئی ادیبوں اور فاضلوں پر مشتمل ایک ایک مجلس صدارت مقرر ہے۔ یہ خصوصاً نئی نسل کے ان مصنفین اور شائقین افراد کے خیال سے جو مشاہیر اور مستند اردو ادیبوں کو ذاتی طور پر دیکھنے اور جاننے کے خواہش مند ہوں۔ کانفرنس میں بھارت کے اردو مشاہیر کی خاصی تعداد کل تک آچکی تھی اور شریک ہو رہی تھی کچھ کی توقع آج تھی، میں ابھی کانفرنس میں نہیں گیا یہ اظہاریہ لکھنے بیٹھ گیا تاکہ بروقت دفتر ” جنگ “ پہنچ جائے۔ کانفرنس کی پوری روداد انشاء اللہ منتظمین چھاپیں گے میں انشاء اللہ آئندہ، جب کانفرنس ختم ہو چکی ہو گی۔ ایک اختصاریہ پیش کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔ فی الوقت تو گھر سے نکلنے کی عجلت میں ہوں۔ چلتے چلتے عنوان لکھتا چلوں، جو مختلف نشستوں میں متعین کئے گئے ہیں، لیکن اس سے پہلے کل شب منعقد ہونے والے ایک حیرت انگیز تعزیتی جمع ادبی اجلاس کا مختصر ذکر کر دیا جائے۔
جون ایلیا کی یاد میں
دراصل یہ اجلاس اسی اردو ہفتے کی ایک بے قاعدہ کڑی تھا۔ موضوع تھا ” جون ایلیا “ شخصیت اور کلام۔ اس کی صدارت فخر ادب جناب مشتاق یوسفی کی تھی اور جون پر کلیدی مقالہ بھی انہی نے پڑھا (اور وہ مقالہ حسب دستور اتنا جامع،بلیغ اور خوبصورت تھا کہ وہی لکھ سکتے تھے۔ آخر اس وقت اردو کے سب سے بڑے نثر نگار ہیں ) مہمان خصوصی تھے جناب اور ان کا مختصر مقالہ بھی ایک نمونہ کمال کی حیثیت رکھتا تھا اور میں، میں تو جب سے وہ پاکستان آیا (1957) اس کا کھلا مداح اور عاشق تھا
مگر مجھے اقرار ہے کہ اس کی یاد میں ایک ہزار کے قریب مشاہیر اور پڑھے لکھے حاضرین کو اس سردی میں کوئی تین گھنٹے سکون اور شوق کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر میرے اندر کا عاشق جون تھوڑی دیر کیلئے حاسد جون ضرور بن گیا۔ میں نے بڑے سے بڑے مرحومین معاصرین کی یاد میں اتنے حاضرین جمع ہوتے کم کم دیکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جون کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ شاعر تو بڑا تھا ہی انسان بھی۔ کئی کمزوریوں کے باوجود بہت اچھا تھا ( جو ہم لوگ، عموماً، کم کم ظاہر ہوتے ہیں )۔
عنوانات جلسہ جات
(1) جمعہ 10 بجے صبح گزشتہ دس سال کے دوران اردو ادب کے نئے تخلیقی و تنقیدی رجحانات۔ (2) دوسری نشست ڈھائی بجے۔ گزشتہ دس سال کے دوران اردو شاعری کے نئے رجحانات۔ محفل مشاعرہ 7 بجے۔ (3) ہفتہ دس بجے صبح: گزشتہ دس سال کے دوران اردو فکشن کے نئے رجحانات۔ (4) ہفتہ ڈھائی بجے دوپہر: غالب، شاعری اور شخصیت۔ (5) اتوار، دس بجے صبح: ( بیاد جوش ملیح آبادی ) جوش ملیح آبادی کی نثر میں تہذیبی، فکری، جمالیاتی، سماجیاتی و عصری عناصر اور فنی محاسن (غیر ضروری طور پر لمبا اور بد رنگ عنوان )۔ (6) اتوار ڈھائی بجے دوپہر : جوش ملیح آبادی کی شاعری ( بہ حوالہ نظم و غزل ) میں تہذیبی، فکری، جمالیاتی، سماجیاتی و عصری عناصر اور فنی محاسن۔ اب کیا عرض کروں۔ (7) پھردس بجے صبح تا ڈیڑھ بجے دوپہر: جوش ملیح آبادی اور رباعی کا فن۔ (8) ڈھائی بجے دوپہر تا 6 بجے شام: بسلسلہ مخدوم محی الدین کی شخصیت اور شاعری۔ (9) منگل صبح گیارہ بجے تا 1 بجے دوپہر: اردو تنقید کے امکانات۔ دوپہر 2 بجے تا دوپہر چار بجے : اردو تنقید کے گزشتہ دس سالہ رجحانات۔ (11) منگل شام ساڑھے چار بجے تا ساڑھے چھ بجے: معاصر تنقید کے مباحث و عنوانات اور ان کی ترتیب اور اس کے مہمان خصوصی وغیرہ مختلف ہو سکتے تھے مگر بڑی کانفرنسوں میں یہ سب ہوتا ہے۔
بصد ادب گزارش ہے کہ ان عنوانات کے ایام و اوقات مباحث ایک بار پھر دیکھ لیجئے اور ان کی یادداشت بنا لیجئے کیونکہ سب عنوانات کا وقت ایک جیسا ہے نہ مقام مباحثہ جیسا کہ پہلے عرض کیا نویں، دسویں اور گیارہویں نشستیں جامعہ کراچی کے آرٹس آڈیٹوریم میں مقرر ہیں اور آٹھویں تک خود آرٹس کونسل میں۔
فیض احمد فیض
آپ نے دیکھا میں نے اس کانفرنس سے کوئی انتظامی تعلق رکھے بغیر اس کی کتنی مداحی کی ہے۔ دراصل یہ اردو کا معاملہ تھا اور میں اردو کی ہر ممکن خدمت کو اپنا ایمان اور غیر مشروط قومی ترقی سمجھتا ہوں۔ اعتراضات اور مفید مشوروں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
لیکن کوئی قصہ قضیہ اٹھائے بغیر میں یہ شکایت ضرور ریکارڈ پر لاؤں گا کہ مخدوم محی الدین مرحوم کا عنوان کانفرنس میں ( بجا طور سے ) شامل کرنے والوں نے فیض احمد فیض کو کس طرح نظر انداز کر دیا۔ اگر سلسلہ جوش صاحب پر ہی ختم کر دیتے تو ”عہد“ وغیرہ کے نام پر برداشت کر لینے کی گنجائش نکل سکتی تھی لیکن مخدوم بھائی شامل فہرست ہوں اور فیض صاحب نہ ہوں یہ بات قطعاً سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ اس مدحت کے ساتھ یہ احتجاج ریکارڈ پر رہے۔ یہ اور بات ہے کہ فیض صاحب کی شہرت اور عظمت کو ایسی کانفرنسوں کا عتاب کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وہ اردو کا، عالمی ادب کا ناقابل فراموش سرمایہ بن چکے ہیں۔


تازہ ترین