آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ’’قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں ‘‘ سے بالعموم اور وزیر ِ داخلہ، چوہدری نثار علی خان سے بالخصوص ملک میں دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی افسوس ناک صورت ِحال کے بارے میں پوچھا ہے ۔ گزشتہ اگست کو کوئٹہ کے ایک اسپتال پر دہشت گردی کے ایک حملے ، جس میں صوبے کے تقریباً تمام اہم وکلا ہلاک ہوگئے تھے ، کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان ، جناب انور ظہیر جمالی نے ایک یک رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ اس پر چوہدری نثار نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ جج صاحب نے دیگر محکموں اور ایجنسیوں کی کوتاہی اُن کے سرپر ڈال کر اُنہیں غیر منصفانہ طریقے سے ہدف ِتنقید بنایا ہے ۔ اس پر کچھ پریشان کن سوالات ضرور اٹھتے ہیں؟
اس انتہائی المناک واقعہ کے بعد ملک بھر کی وکلا برادری نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے ، ایسے حملے روکنے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکامی پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں اور مختلف ایجنسیوں کو ذمہ دارٹھہرایا جائے ۔ جب وکلا کی طرف سے دبائو بڑھتا گیا تو چیف جسٹس آف پاکستان کے لئے اس پر کارروائی کرنا ضروری ہوگیا۔ اُنھوںنے انسپکٹر جنرل اور چیف سیکرٹری آف بلوچستان کو خط لکھ کر جواب طلبی کی ۔جب وہ تسلی بخش جواب دینے میں ناکام ہوگئے تو رجسٹرار

سپریم کورٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو تحریری طور پر ’’ملک میں گورننس کی بری حالت اور دہشت گردوں سے نمٹنے میں حکومت اورقانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی افسوس ناک ناکامی‘‘ سے آگاہ کیا ۔ اس پر محترم چیف جسٹس صاحب نے سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا۔ جسٹس فائز عیسی کو یہ فرض سونپنے کی دووجوہ تھیں۔ پہلی یہ کہ وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فرائض انجام دے چکے تھے ، چنانچہ وہ صوبے معروضی حالات سے زیادہ آگاہ تھے ۔ دوسری یہ کہ اس دہشت گردی میں وکلا برادری سے تعلق رکھنے والے اُن کے بہت سے قریبی دوست ہلاک ہوگئے تھے ۔ اُنھوں نے متاثرہ خاندانوں کے نام خطوط لکھتے ہوئے غصے کا اظہار بھی کیا تھا۔ شاید یہ بات چیف جسٹس آف پاکستان کے ذہن میں نہیں آئی تھی کہ چونکہ اس معاملے میں جسٹس عیسیٰ غصے میں ہیں، اس لئے کسی ایسے جج صاحب کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپنا بہتر ہوگا جو غیر جذباتی ہوکرایک ایسی متوازن رپورٹ تیار کرسکیں جو ایک وزیر پر تمام ذمہ داری عائد کرنے کی بجائے دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے سول ملٹری ڈھانچے کے تمام پہلو ئوں کا احاطہ کرتی ہو۔ یقینا ایجنسیوں سے باز پرس کرنے میں ناکامی اور وزیر ِداخلہ کے ماتحت بے ضرر اور غیر فعال ایجنسی ، نیکٹا پر تمام زور اس رپورٹ کی خامی شمار ہوتا ہے ۔
اس رپورٹ میں جسٹس عیسیٰ چوہدری نثار علی خان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ داخلی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ’’واضح قیادت اوررہنمائی ‘‘فراہم کرنے میں ’’بری طرح ناکام ‘‘ ہوگئے ہیں۔رپورٹ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی اور ان کے قائدین کا تحفظ کرنے اور نیکٹا کو تقویت نہ دینے کی پاداش میں وزیر ِداخلہ کی سرزنش کی گئی ہے ۔ یہ تمام معروضات اپنی جگہ درست، لیکن بہتر ہوتا اگر یہ رپورٹ عسکری قیادت کی طرف بھی اشارہ کرتی جو داخلی سیکورٹی اور انسداد ِ دہشت گردی کی پالیسی بناتی اور اسے نافذ کرتی ہے ۔ یہ رپورٹ مزید مفید ثابت ہوسکتی تھی کہ جج صاحب چوہدری نثار صاحب سے دوٹوک انداز میں پوچھتے کہ وہ پی ایم ایل (ن) حکومت پر اسٹیبلشمنٹ کے اُس دبائو کی وضاحت کریں جس کی وجہ سے وہ غیر ریاستی عناصر اور ان کے قائدین کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے کیونکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ ’’تزویراتی اثاثے ‘‘ سمجھتی ہے ۔اسی طرح یہ بات پوچھنا بھی برمحل ہوگا کہ کیا یہ رپورٹ صرف کوئٹہ کے افسوس ناک واقعہ تک ہی محدود ہے یا جسٹس عیسیٰ نے تمام نیشنل ایکشن پلان ، جس میں آرمی چیف، وزیر ِ اعظم، آئی ایس پی آر اور دیگر افسران اپنا موقف پیش کرتے رہتے ہیں اور جس کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر میڈیا میں تبصرے ہوتے رہتے ہیں، کا جائزہ لیا ہے ؟کچھ دیگر پریشان کن پہلو بھی ذہن میں آتے ہیں۔ جب وکلا برادری پر دہشت گردی کا حملہ ہوتا ہے تو سپریم کورٹ وزارت ِ داخلہ سے باز پرس کرتی ہے ۔ جب آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوتا ہے تو فوج وزیرستان میں طالبان کے خلاف کارروائی کرتی ہے ، لیکن جب میڈیاپر حملہ ہوتا ہے تو ایسی کوئی کارروائی دکھائی نہیں دیتی، حالانکہ پاکستان کوصحافیوں کے لئے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا جاتا ہے ۔ صحافی سلیم شہزاد قتل کیس میںکمیشن کے سامنے شہادت موجو دتھی لیکن اس سے استفادہ کرنے کی اجازت نہ ملی۔ حامدمیر صاحب پر حملے کی شکایت کو ’حساس ‘‘ قرار دے کر سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں دفن کردیا گیا، ایبٹ آباد کمیشن واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ پر نااہلی یا مجرمانہ غفلت کا الزام لگانے سے گریزاں رہا۔ اس نے تین مختلف رپورٹس تیار کیں لیکن اُنہیں عوام کے سامنے پیش نہ کیا ۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کو بھی صرف اُس وقت عوام کے سامنے پیش کیا گیا جب اس کی تلخیص انڈین میڈیا میں شائع ہوگئی ۔ ہمیں یقین ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے بہت سے سوالات پوچھے ہوں گے ۔ قومی سطح پر انسداد دہشت گردی کی پالیسی کی ناکامی پر اُن کا غصہ بلاجواز نہیں ہے ۔ تاہم اس ضمن میں صرف چوہدری نثار کی طرف انگشت نمائی منصفانہ اقدام نہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ چوہدری نثار کی قیادت میں پاکستان نسبتاً ایک پرامن ملک ہے اور ماضی کی نسبت آج ہماری زندگیاں زیادہ محفوظ ہیں۔




.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں