آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لگتا ہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے اہل نظر مشیروں میں سے کسی ایک نے بھی انہیں انگریزی محاورے کے حوالے سے یہ نکتہ سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ معرکے کے دوران گھوڑے تبدیل نہیں کرنے چاہئیں۔ جب سے پاناما لیکس کے بارے میں وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے اس وقت سے موصوف کئی وکلا بدل چکے ہیں۔ تعبیروں کی کثرت سے خواب پریشاں اور پریشاں ہوتا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے موجودہ وکیل مخدوم علی خان اپنا سارا زور استدلال وزیراعظم کی زیر سماعت مقدمے سے برات کی بجائے انہیں نااہلیت سے بچانے پر لگا رہے ہیں۔ اس ضمن میں وہ کسی دستوری، اخلاقی یا سیاسی نکتے کی بجائے استثنیٰ کی قانونی موشگافیوں کا سہارا ڈھونڈ رہے ہیں اور یہ بھول رہے ہیں کہ؎
توہین زندگی ہے سہاروں کی زندگی
وزیراعظم کے فاضل وکیل کی نظروں سے شاید یہ حقیقت اوجھل ہورہی ہے کہ ایک سیاست دان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی نیک نامی اور اچھی شہرت ہوتی ہے جسے انگریزی میں کریڈیبلٹی کہتے ہیں۔ اگر کوئی سیاست دان اس سرمائے سے محروم ہو جائے تو پھر وہ کتنا بڑا سرمایہ دار اور سرمایہ کارہی کیوں نہ ہو اس کا سیاسی مستقبل دھندلا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کے پاس عدالت عظمیٰ کے معزز ججوں کے سادہ سوالوں کا کوئی ٹھوس کیا کمزور سا جواب بھی نہ تھا ۔
کیا

بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
وزیراعظم کے وکیل نے سوموار کے روز عدالت عظمیٰ کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ ان کے موکل نے اپنی کسی تقریر میں جھوٹ نہیں بولا اور اگر پارلیمنٹ میں انہوں نے جھوٹ بولا بھی ہو تو انہیں آئین کےآرٹیکل 66 کے تحت بحیثیت رکن پارلیمنٹ تحفظ حاصل ہے جبکہ دفعہ 248 کے لحاظ سے بحیثیت وزیراعظم عدالت عظمیٰ انہیں نااہل قرار نہیں دے سکتی۔ اس پر عدالت عظمیٰ کے فاضل جج آصف سعید کھوسہ نے سوال پوچھا کہ اگر وزیراعظم نے غلط بیانی نہیں کی تو پھر انہیں ڈرنے یا استثنیٰ لینے کی کیا ضرورت ہے؟فاضل وکیل نہ جانے کیوں یہ بنیادی نکتہ نظر انداز کررہے ہیں کہ ہر رکن پارلیمنٹ کو آزادی اظہار کے حوالے سے پارلیمانی تحفظ حاصل ہے اور اسے عام قانون کی زد میں نہیں لایا جاسکتا تاہم اسمبلی کوئی ہائیڈ پارک نہیں جہاں جس کا جو دل چاہے وہ کرتا پھرے اور اس پرکوئی گرفت نہ ہوگی۔ آرٹیکل 66کسی بھی معزز رکن پارلیمنٹ کو مادر پدر آزادی نہیں دیتا۔ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ اپنے بنیادی حلف سے انحراف کرتا ہے یا دستور پاکستان کی کسی شق کو پامال کرتا ہے یا دستور کے بنیادی مقاصد کی اپنی تقریر میں خلاف ورزی کرتا ہے یا کذب بیانی سے کام لیتا ہے تو اس کا محاسبہ عام شہری کی نسبت زیادہ شدت سے کیا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کے وکیل سے بڑا دلچسپ سوال کیا کہ بالفرض ہم پارلیمنٹ کی تقریر سے صرف نظر کرتے ہیں تو وزیراعظم نے ٹیلی وژن پر پاکستانی عوام سے جو خطابات کئے ہیں ان میں کی جانے والی غلط بیانی پر انہیں کونسا تحفظ حاصل ہوگا؟ محترم وکیل کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔آج تو عدالت عظمیٰ نے واضح کردیا ہے کہ وزیراعظم کا استثنیٰ صدر جیسا نہیں ہوتا۔
وزیراعظم کے خطابات و بیانات میں کوئی ایک تضاد نہیں بلکہ یہ مجموعہ اضداد ہیں۔ وزیراعظم کی اپنی تینوں تقاریر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پھر وزیراعظم کے عوامی موقف اور ان کے صاحبزادے کے انٹرویو میں دی جانے والی معلومات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہم نے اس الجھے ہوئے مقدمے کو سمجھنے اور اپنے قارئین کو سمجھانے کے لئے جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف سے رابطہ کیا۔ موصوف سپریم کورٹ کے ایک قابل احترام وکیل ہیں۔ انہوں نے زلف یار کی طرح طویل اور پر پیج مقدمے کو چند بنیادی نکات میں سمیٹ کر سہل ممتنع بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی نااہلیت کے لئے جو درخواست دائر کی ہے وہ آئین کی دفعہ 62(1-F) پر مرکوز ہے۔ ہمار نقطہ نظر یہ ہے کہ فورم قومی اسمبلی کا ہو یا ٹیلی ویژن کا ہو۔ سامعین ارکان پارلیمنٹ ہوں یا پاکستان کے 20کروڑ عوام، صورت حال یکساں رہتی ہے کہ آئین کی مذکورہ بالا شق کے مطابق جب کوئی صاحب منصب علی الاعلان صادق نہیں رہتا اور کذب بیانی سے کام لیتا ہے تو پھر وہ اس منصب کے لئے نااہل ہو جاتا ہے۔ توفیق آصف نے کہا کہ وہ اسی نکتے کو لے کر چلیں گے اور استدلال کی پوری قوت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی نظائر کے ساتھ ثابت کریں گے کہ آئین کی دفعہ 62(1-F) کے تحت وزیراعظم صادق و امین نہیں رہے اسی لئے وہ اپنے منصب کے اہل بھی نہیں رہے۔
میں نے وکیل موصوف سے پوچھا کہ قانون کے بارے میں عام سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ بار ثبوت ہمیشہ مدعی پر ہوتا ہے۔ توفیق آصف نے جواب دیا کہ بلاشبہ عام نوعیت کے مقدمات میں ایسا ہی ہوتا ہے تاہم پراپرٹی کے مقدمات میںاس کی نوعیت یکسر بدل جاتی ہے۔ ایسا ہی ساری دنیا کے قوانین میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی نیب کا قانون یہی ہے کہ پراپرٹی جس کے قبضے میں ہوگی یا سرمایہ جس کی تحویل میں ہوگا وہ یہ ثابت کرے گا کہ اس کے پاس یہ پراپرٹی یا سرمایہ کہاں سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نکتے کو ثابت کر کے میاں نوازشریف صاحب سے لندن کے فلیٹس اور دوسرے اثاثوں کا ثبوت طلب کریں گے یا دوسرے لفظوں میں میاں صاحب کو منی ٹریل پیش کرنا ہوگی۔ اس بار میاں صاحب کے ستارے کچھ گردش میں محسوس ہورہے ہیں کیونکہ گردش دہر ہی کیا کم تھی جلانے کو اوپر سے بی بی سی کی رپورٹ بھی عین انہی دنوں اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آن پہنچی ہے۔ رموز مملکت خویش خسرواں واند تاہم اگر وزیراعظم کرپشن کے تمام تر الزامات سے بری الذمہ ہو کر ڈپووس جاتے تو ان کی آن بان اور شان کچھ اور ہوتی۔ اس وقت پاکستانی حکومت میں نہ جانے کون کتنی گہرائی سے امریکی صدر کی تقریب حلف برداری کے موقع پر ہونے والے امریکی و عالمی ردعمل پر نظر رکھے ہوئے ہے؟ نہ جانے وزیراعظم کو اندازہ ہے یا نہیں کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ میاں صاحب کے بعض خیر خواہوں کا کہنا یہ ہے کہ اس ہفتے شاید عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے والا ہے۔ قوم چاہتی ہے کہ عدالت کے فیصلے سے پہلے ان کے منتخب وزیراعظم پاناما کی حقیقی کہانی اپنی زبانی قوم کو سنا دیں تاکہ ہر طرح کا تضاد اور ابہام دور ہو جائے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں