• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلاحی ادارے اور ہماری ذمہ داریاں ... تحریر:ذوالفقار علی…لندن

ہمارے ملک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں نے بعض تعمیری فلاحی ادارے قائم کیے ہیں۔ یہ فلاحی ادارے دیہاتوں میں سماجی سطح اور صحت کی سطح پر عوام کو بلامعاوضہ خدمات فراہم کررہے ہیں اور سکولوں میں نادارو غریب بچوں کو مفت کتابوں، یونیفارم فراہم کررہے ہیں۔ یہ نوجوان بلاغرض، بے لوث اور کسی نمودو نمائش سے بالاتر خدمت خلق کایہ فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ راقم الحروف کے آبائی گائوں بام خیل میں پڑھے لکھے جوانوں نے ایک ادارہ فرینڈز آف بام خیل کے نام سے قائم کیا ہے۔ اس ادارے پر مضمون لکھنا اس کی شہرت، پبلسٹی یا اشتہار بازی کرنا نہیں، نہ اس کی مشہوری کرنا ہے۔راقم کا مقصد اس ادارے کی حوصلہ افزائی کرنا اور دوسرے صاحب حیثیت شخصیات، افراد اور مہذب سنجیدہ طبقوں کی اس طرف توجہ دلاناہے تاکہ وہ اس ادارے کی حوصلہ افزائی کریں۔ فرینڈز آف بام خیل خالصتاً ایک غیر سیاسی ادارہ ہے اس ادارے کے چلانے والے تمام افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیںاور بعض نوجوان عرب ملکوں میں اچھے خاصے عہدوں پر ہیں۔ یہ جوان اس ادارے یعنی فرینڈز آف بام خیل کو خالصتاً اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے ہیں۔ یہ افراد کسی سے عطیات یا فنڈز مانگتے ہیں نہ قبول کرتے ہیں۔ دیگر فلاحی اداروں، شخصیات اور مہذب سنجیدہ طبقوں کا فرض ہے کہ فرینڈز آف بام خیل کی حوصلہ افزائی کریں۔ ہمارے گائوں کے قابل جوان پروفیسر ظاہر گل ادارے کے روح رواں اور بانی ہیں۔ محمد سعید خان جوکہ دبئی میں اچھے ملازمت پر ہیں اس کو اپنی مدد آپ کے تحت بھرپور مالی تعاون فراہم کررہے ہیں۔ آصف محمد خان ایک تعلیم یافتہ جوان اوراچھے خاصے ملازمت سے منسلک ہیں اور فرینڈز آف بام خیل کو بے لوث مالی تعاون فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ شاہ اعلیٰ سرکاری افسر ہیں اور فرینڈز آف بام کو اپنی طرف سے بھرپور مالی، اخلاقی تعاون فراہم کرنے میں صف اول کا کردار ادا کررہے ہیں۔ گائوں کے اعلیٰ یافتہ نوجوان جو اپنے بہترین کاروبار چلا رہے ہیں۔ فرینڈز آف بام خیل کو مالی، اخلاقی، تعاون میں کسی وقت پیچھے نہیں ہٹتے۔ فرینڈز آف بام خیل کو مضبوط، مستحکم اور آگے بڑھانے میں پروفیسر ظاہر گل، محمد سعید خان، آصف محمد خان کے صف اول اور ہر اول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس طرح ہمارے ملک کے اندر جتنے فلاحی ادارے ہیں جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہیں سب کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔ تمام فلاحی اداروں کو ایک دوسرے سےمربوط ہونا ضروری ہے۔ ہر گائوں اور ضلع میں باہمت اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے خالصتاً خدمت خلق کے جذبے کے تحت جو فلاحی ادارے قائم کیے ہیں، ان کو حوصلہ افزائی (encaurage) کرنا مہذب اداروں اور صاحب ثروت افراد کا فرض ہے۔ فرینڈز آف بام خیل اور اس جیسے دیگر فلاحی اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کا اخلاقی فرض ہے۔ راقم الحروف کے غالب، صحیح علم کے مطابق میں نے اس بات کا کبھی مشاہدہ نہیں کیا ہے کہ فرینڈز آف بام خیل یا دیگر فلاحی ادارے کسی توصیف، تعریف، نمائش، اشتہاری شہرت کے شوقین یا بھوکے ہیں۔ ان ادارے یا اداروں میں کام کرنے والے نوجوان خالصتاً دینی، دنیوی اور خدمت خلق کے بے لوث جذبے، لگن اور شوق کے تحت ان اداروں کو چلانے، اسے فعال، مضبوط اور آگے بڑھانے میں قابل تقلید اور موثر کردار ادا کررہے ہیں۔ یہ ادارہ گائوں میں عام لوگوں کے شادیوں اور خصوصاً غمیوں میں گائوں کے تمام افراد خواہ اس کا تعلق کسی سیاسی تنظیم سے ہوں۔ بلاتفریق سماجی، خدمات فراہم کررہے ہیں اور اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔ اس طرح یہ ادارہ خالصتاً اپنی مدد آپ کے تحت گائوں اور علاقے میں بلاتفریق، بلامعاوضہ گائوں میں اور علاقے میں لوگوں کو سماجی صحت کی سہوتیں فراہم کررہا ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا غمیاں کسی بھی نوعیت کا واقعہ ہو یہ ادارہ نہ صرف بام خیل بلکہ تقریباً پورے علاقے میں صحت، تعلیم اور سماجی خدمات فراہم کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے۔ اس ادارے نے کسی حکومتی، عوامی ادارے یا محکمے سے کسی قسم کی معمولی مالی تعاون کے لیے ہاتھ نہیں پھیلایا، بلکہ خالصتاً انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کے جذبے کے تحت عوام، سکولوں کے نادار بچوں کو صحت، سماجی قلم، کتابوں اور یونیفارم فراہم کرنے کے لئے سدا کوشاں رہتا ہے۔ ادارہ ہر ماہ، گائوں اور علاقے میں، تعلیمی، صحت، سماجی اور سکولوں کے نادار بچوں کو مفت یونیفارم، کتابوں کی ایک بڑی تقریب کا انعقاد کرتا ہے۔ ادارے نے گائوں یا علاقے کے کسی سیاسی یا کاروباری شخصیت کو مالی تعاون یارسائی کے لیے کبھی کوئی رابطہ نہیں کیا۔ زلزلوں، سیلابوں، انفرادی اجتماعی آفات کے وقت یہ ادارہ ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے پیش پیش اور رواں دواں ہوتا ہے۔ بحیثیت عام شہری کے عوام اور سنجیدہ صاحب حیثیت طبقوں کا فرض ہے کہ ان اور اس جیسے فلاحی اداروں سے بھرپور، اخلاقی اور ہر قسم کا تعاون کریں۔ یہ ہم سب کا اخلاقی فرض ہے تاکہ ان اداروں کی حوصلہ افزائی بھی ہوں اور، اور بھی مضبوط ہوسکیں۔
تازہ ترین