• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شریعت عدالت‘ صرف حقیقی میاں بیوی کے ٹیسٹ ٹیوب بچے جائز ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وفاقی شریعت عدالت نے ’’ٹیسٹ ٹیوب بے بی‘‘ کی پیدائش سے متعلق ایک مقدمہ کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف حقیقی میاں بیوی کے مادہ تولید سے پیدا ہونے والا ٹیسٹ ٹیوب بے بی جائز ہے۔ جبکہ غیر میاں بیوی کا ایک دوسرے کے مادہ تولید کے ذریعے یہی عمل خلاف قانون اور قرآن و شریعت کے خلاف اور قابل سزا جرم ہے۔ فاضل عدالت نے اس کی خلاف ورزی پر ’’ایسا مواد بینک‘‘ رکھنے یا استعمال کرنے والے مرد‘ عورت اور ڈاکٹر کے خلاف سزا مقرر کرنے کے لئے مناسب قانون سازی کرنے اور متعلقہ ڈاکڑ کا لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی ہے اور حکومت کو اگست 2017ء تک تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات میں تبدیلی کیلئے قانون سازی کا حکم بھی دیا ہے۔  20 صفحا ت پر مشتمل کیس کا فیصلہ منگل کے روز وفاقی شریعت عدا لت کے چیف جسٹس ریاض احمد خان کی سربراہی میں جسٹس علامہ ڈاکٹر فدا محمد خان اور جسٹس ظہور احمد شہوانی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 203-D کے تحت ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے متعلق طریقہ کار کا اسلامی احکامات کی روشنی میں مکمل جائزہ لینے کے بعد جاری کیا ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ بچہ جو جدید مشینی آلات اور طبی علوم کو بروئے کار لاتے ہوئے میاں بیوی کے مادہ تولید کو ملا کر پیدا ہوا ہو وہ جائز اور وہ طریقہ کار بھی درست ہوگا۔ اس کے علاوہ جتنے بھی دوسرے طریقے ہیں وہ قرآن و سنت کے خلاف ہیں‘ اسی طرح عدالت نے تعزیرات پاکستان میں ’’ٹیسٹ ٹیوب‘‘ کی تعریف‘ اس کے قابل سزا جرم ہونے‘ اس ممنوع عمل کو بروئے کار لانے والے مرد‘ عورت اور ڈاکٹر کے لئے سزا مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ میں حکومت کو اگست 2017 تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے اس حوالہ سے قانون معاہدہ 1872ء کی دفعہ 2اور تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات میں مناسب تبدیلی کے لئے قانون سازی کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ یاد رہے کہ  24فروری 2015 کو راولپنڈی کے رہائشی فاروق صدیقی نے مسز فرزانہ ناہید کو فریق بناتے ہوئے اسی نوعیت کے ایک معاملہ سے متعلق مقدمہ دائر کیا تھا جس کی سات سماعتیں ہونے کے بعد 16فروری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔
اہم خبریں سے مزید