ہمارے ایک رفیق کار جناب رؤف کلاسرا ان دنوں ڈھاکہ میں ہیں۔ انہوں نے وہاں سابق پاک فوج کے ایک میجر اور اب بنگلہ دیشی فوج کے ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل قاضی محمود حسن سے 1971ء کے سقوط مشرقی پاکستان کے واقعات پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے۔ قاضی صاحب کہتے ہیں کہ جس وقت 1970-71 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تصادم کا آغاز ہوا جو پاکستان اور ہندوستان کی 1971 کی جنگ پر منتج ہوا اس وقت مغربی پاکستان میں موجود بنگالی فوجی افسروں کو گرفتار کر کے سخت ناقابل رشک حالات میں رکھا گیا اور ان کے اپنے پاکستانی فوجی بھائیوں نے ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کیا۔ انہیں جتنی دیر نظربندی میں رکھا گیا ان کے ساتھ برا سلوک ہوا۔ ”ہمیں کوئی سہولتیں نہیں دی گئیں ایک فوجی افسر کو روزمرہ کے اخراجات کے لئے صرف ساڑھے تین سو روپے ماہوار دیئے جاتے جو ناکافی تھے جس پر ان کی اہلیہ نے اپنا زیور بیچنا شروع کیا۔ بازار میں ایک تولہ سونے کی قیمت 120 روپے تھی لیکن چونکہ انہیں کیمپ چھوڑنے کی اجازت نہ تھی اس لئے قاضی صاحب کی اہلیہ اپنا سونا 65 روپے تولہ بیچنے پر مجبور ہوتیں۔ جب ان کا زیور ختم ہو گیا تو ان کی اہلیہ نے اپنے آخری وہ کنگن بھی فروخت کرنے کا فیصلہ کیا جو کچھ وزنی تھے لیکن قاضی صاحب نے اپنی بیگم کو ایسا کرنے سے روک دیا اور تنگی میں وقت گزارنا پسند کیا اور کہا کہ وہ یہ پسند نہیں کریں گے کہ ان کی بیگم پاکستان سے خالی بانہیں لے کر بنگلہ دیش جائے“۔ انہوں نے کہا کہ ان انتہائی تلخ تجربات کے باوجود جب ہندوستان نے پاکستان کے مشرقی پاکستان میں مقیم فوجیوں کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان اٹھایا کہ ان فوجیوں نے بنگلہ دیش میں لاکھوں کی تعداد میں ریپ اور لوٹ مار کے واقعات کئے تو میں نے اس جھوٹ کی حقیقت کو سمجھ لیا اور میں آج بھی اس بات کے لئے تیار ہوں کہ پاک آرمی کے افسروں کی مدافعت کروں اور یہ ثابت کروں کہ ان کے اوپر بنگالیوں کو قتل کرنے اور ریپ کرنے کے جو الزامات ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی اِکا دُکا فوجی افسر نے ریپ یا قتل کا جرم کیا ہو لیکن پاکستانی فوجیوں کی غالب اکثریت انسانیت کے خلاف اس قسم کے جرائم میں ہرگز ملوث نہ تھی۔ رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ جب وہ قاضی صاحب کے مکان پر گئے تو یہ دیکھ کر انہیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ قاضی صاحب کی بیگم اور ان کے بچے جو مغربی پاکستانی کیمپوں میں والدین کے ساتھ بہت برا وقت گزار چکے تھے ان میں پاکستان کے بارے میں تلخی کا شائبہ بھی نہ تھا۔ قاضی صاحب نے کہا کہ میں پاکستان جانا چاہتا ہوں اور اپنے ان تمام دوستوں سے ملنا چاہتا ہوں جن کے ساتھ مل کر میں نے کھیم کرن سیکٹر میں جنگ کی۔ رؤف کلاسرا نے قاضی صاحب کی بیگم سے دریافت کیا کہ مغربی پاکستان میں آپ کو اپنے زیورات بیچنے پڑے اس پر اب آپ کا ردعمل کیا ہے۔ اس پر بیگم قاضی نے انتہائی بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”مجھے پاکستان سے بہت محبت ہے۔ درحقیقت میں ہر وقت پاکستان کو یاد کرتی ہوں“۔
ان تفصیلات سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ ہونا چاہئے کہ بنگلہ دیشی فوجی بنگلہ دیش جا کر بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور ان تمام تلخیوں کے باوجود جو انہیں یہاں برداشت کرنا پڑیں ان کا دل پاکستان کی محبت سے بھرا ہوا ہے اور وہ ہمارے بعض پاکستانی خواتین و حضرات کے مقابلے پر قطعاً یہ تسلیم نہیں کرتے کہ پاکستانی فوجیوں نے کسی قابل ذکر پیمانے پر بنگلہ دیش میں قتل یا جرائم کا ارتکاب کیا۔ جھوٹا پروپیگنڈا کس طرح انسانوں کو گمراہ کر سکتا ہے اس کی کچھ تفصیل میں اپنے جولائی 2005ء کے چار کالموں میں بیان کر چکا ہوں اور پاکستانی فوجیوں کے خلاف جھوٹ کے طومار پھیلانے والوں کو موٴثر جواب دے چکا ہوں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض نام نہاد لبرل خواتین و حضرات حقائق کی بجائے دشمن کے پروپیگنڈے کے کس طرح زیر اثر آ گئے۔ 2005ء میں صفائی تو میں نے دی تھی لیکن یہ ایک بنگالی کی گواہی ہے جس کا وزن میرے گواہی سے کہیں زیادہ ہے۔
اب عدلیہ والے کالم کا آخری حصہ ملاحظہ فرمایئے۔
3 نومبر کو معزول کردہ ججز خصوصاً محترم افتخار محمد چوہدری کی کردار کشی کے لئے ایک لاجواب موٴقف بعض حلقے یہ کہہ کر اختیار کرتے ہیں کہ ان حضرات نے 99 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا اور اسی بنا پر وہ اسی قدر یا کم از کم اس سے نصف قابل نفرین ضرور ہیں جس قدر 3 نومبر 2007ء کے تحت حلف اٹھانے والے۔ پاکستان کے مسلمان بچوں کی ابتدائی جماعتوں کے لئے مدوّن دینی کتب میں اس حقیقت کا ذکر موجود ہے کہ ایک وقت حضرت عمر قرآن پڑھنے پر اپنی ہمشیرہ کو لکڑی سے مارا کرتے تھے مگر تائب و مومن ہو جانے کے بعد اپنے کردار کی بنا پر اس حدیث نبوی سے سرفراز کئے گئے کہ ”میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا“۔ ایسے مذہب کے پیروکاروں بلکہ رہنماؤں کا اس قدر عجیب موٴقف نیتوں پر شبہ کا باعث بننے لگتا ہے خصوصاً جبکہ ان حلقوں میں سے بعض دینی علماء کا درجہ رکھتے ہوں۔ کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس واضح پیغام سے ناآشنا ہیں کہ سب سے ارفع توبہ وہ ہوتی ہے جو عمل سے ثابت ہو۔ قول کی توبہ تو انسان کو منافقت کی سرحد کی جانب دھکا دے دیتی ہے اور تمام عمر ثابت کرتے رہنا پڑتا ہے کہ توبہ واقعی توبہ تھی منافقت نہیں تھی۔ قول کی توبہ کے ایسے مظاہر انہی حلقوں کی جانب سے اس تواتر سے قوم کے سامنے آتے رہے ہیں کہ ایک مشہور قوالی کا یہ مصرع ان پر صادق آ سکتا ہے کہ میں نے اس قدر بار بار توبہ کر کے توبہ توڑی کہ خود توبہ، توبہ توبہ کر اٹھی۔ اس کے برعکس عمل کی توبہ کہیں ایک بدو کو نبوت کے بالکل نزدیک پہنچا دیتی ہے اور کہیں ایک دشمنِ اسلام کو سیف اللہ بنا دیتی ہے۔ اس موٴقف کا ایک اور پہلو بھی نہایت دلچسپ ہے۔ جب بھی کوئی آمر پی سی او یا ایل ایف او وغیرہ نافذ کرتا ہے تو وہ تمام ججوں کو فارغ کر دیتا ہے اور پھر اس ہی انسان کو جج تسلیم کرتا ہے جو اس غیر آئینی دستاویز کے تحت حلف اٹھا لے۔ اب بالفرض کوئی ابوحنیفہ پیدا ہو جائے اور چاہے کہ نظامِ عدل میں داخل ہو کر آمر کے ہاتھ روکے (کہ اصلاً جن کا یہ کام تھا وہ یا تو کر نہ پائے یا الٹا اس آمر ہی کی گود میں جا بیٹھے) تو وہ کیا کرے؟ غیر آئینی دستاویز کے تحت حلف نہیں لیتا تو جج کی کرسی پر بیٹھ ہی نہیں پائے گا اور غیر آئینی دستاویز کے تحت حلف لے لیتا ہے تو اس کے عملی کردار کے مظاہرے سے قطع نظر وہ قوتیں اس پر نفرین بھیجنا شروع کر دیں گی جن کا اپنا کردار یہ ہو کہ سابقہ غیر آئینی دستاویزات کے تحت حلف نہ اٹھانے پر فارغ شدہ ججز کے نام بھی ان کو مکمل طور پر یاد نہ ہوں جبکہ دعویٰ ہو استحصالی طبقات کے خلاف ہراول دستہ ہونے کا۔ کیا ایسا مضحکہ خیز موٴقف اختیار کرنے والے یہ جانتے ہیں کہ وہ دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ آمر کے خلاف کھڑے ہونے والے ہر جج کی حیثیت ان کی نظر میں ہمیشہ محض ایک پی سی او جج ہی کی رہے گی۔ یعنی آئندہ کے آمر بے خوف ہو جائیں، جو ججز ان کی جاری کردہ غیر آئینی دستاویز کے تحت حلف نہیں اٹھائیں گے ان کے ساتھ مل کر آمریت کے خلاف سینہ سپر ہونا تو درکنار قوم ان کے نام بھی بھول جائے گی اور جو ججز اس غیر آئینی دستاویز کے تحت حلف اٹھا لیں گے وہ اپنے آئندہ کے کسی بھی عمل سے قوم کی نظر میں توقیر کے مستحق ہی نہیں ہوں گے۔ چنانچہ قصہ ختم پیسہ ہضم۔ عمر عزیز کا ایک اور باب ختم ہوا … جو امکان رہتا تھا کہ قوم میں عزت و توقیر کے حصول کے لئے، آمر کا ہاتھ روکنے کی ارادی غرض سے یا تائب ہو کر ہی سہی کوئی پی سی او یافتہ جج (یعنی آمر کی موجودگی کا کوئی بھی جج) کبھی کوئی مساعی کرے گا تو ”آمریت کے دشمنوں“ نے یہ امکان بھی ختم کر دیا۔ ع ہوئے تم دشمن جس کے دوست اس کا شیطان کیوں ہو!
اس سے بھی زیادہ محیر العقول ”قانونی استدلال“ ایک ماہر قانون دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ پی سی او ایک ایگزیکٹو آرڈر تھا جس کو عدالت نے جوڈیشل آرڈر میں تبدیل کر دیا اور جوڈیشل آرڈر کو پارلیمنٹ سو فیصد اکثریت سے بھی ختم نہیں کر سکتی ! چلو قصہ ہمیشہ ہی کے لئے ختم ہو گیا۔ زید توپ لے کر آئے اور ایگزیکٹو آرڈر جاری کرے جس کے تحت ساری جوڈیشری فارغ ہو جائے پھر وہ اپنی آل اولاد کو اسی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت جج مقرر کرے اور یہ آل اولاد ”ججز“ کے روپ میں اسی ایگزیکٹو آرڈر کو جس کے تحت ان کے سابقین فارغ ہوئے ہوں اور وہ خود وجود میں آئے ہوں جوڈیشل آرڈر میں تبدیل کر دے۔ اب سولہ کروڑ عوام (بلکہ ساری دنیا پر لاگو ہو تو پانچ ارب انسان) سر کے بل کھڑے ہو جائیں تب بھی آمر قانونی اور وہ سب غیر قانونی۔ کیا منطق ہے! کیا بیرسٹری ہے! اس کے بعد قانون کی کسی کتاب کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ ”ہمارے لئے ڈنڈا کافی ہے“۔
ججز کی عین دو نومبر 2007ء کی حالت میں بحالی جہاں اسٹیبلشمنٹ کو کمزور کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کرے گی وہاں اس بحالی کا بنا دوتہائی اکثریت کے ہونا لازمی ہے چاہے اس سے زیادہ کا حصول بھی بآسانی ممکن ہی کیوں نہ ہو۔ وجہ بالکل سادہ ہے اور دو تہائی پر اصرار اسٹیبلشمنٹ کے گماشتوں کا شاید آئندہ کے لئے سب سے خوفناک ہتھیار کا حصول ہے کیونکہ اگر ایک بار یہ بحالی بذریعہ دوتہائی اکثریت ہو گئی تو آئندہ کے لئے مثال بن جائے گی اور نادانستگی ہی میں سہی لیکن ثابت یہ ہو جائے گا کہ ایک شخص کا ڈنڈے کے زور پر آئین، عدلیہ اور سارے ملک کو تلپٹ کر دینا دراصل ”آئینی“ ہوتا ہے کیونکہ اس اصطبل کو دوبارہ انسانوں کا ڈیرہ بنانے کے لئے وہی طریقہ کار درکار ہوتا ہے جو آئینی ترامیم کے لئے ضروری ہے۔ باقی رہے خطرات و خدشات تو اگر اونٹ پر بیٹھنا یا گاڑیاں بنانا مقصود ہو تو ”کوہان“ بھی ہو گا اور ”جاپان“ بھی ہو گا۔
ڈاکٹر سید وجاہت حسین ۔ اسلام آباد
ایک چھوٹی سی تصحیح
میرے کل کے کالم میں ایک لفظ ٹائپ ہونے سے رہ گیا تھا۔ چونکہ یہ ایک حساس موضوع ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ صورتحال واضح کر دی جائے۔ اس میں ایک جگہ چھپا ہوا ہے ”اگر ایسا ہے تو قائد اعظم …“ اس میں قائد اعظم کے بعد لفظ ”کانگرس“ ٹائپ ہونے سے رہ گیا تھا۔