آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مردم شماری کے اغراض و مقاصد درحقیقت بہت وسیع اور دورس ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت اِن حقائق سے ناآشنا ہے۔ شماریات کی افادیت سے متعلق ہمارے تصورّات اِس کی اصل وسعت کے مقابلے میں انتہائی محدود ہیں۔ اس کے برعکس دنیا کے دیگر خطوں میں قدیم ادوار سے لے کر آج تک، آبادی اور اس سے جڑی دیگر معلومات کو ریاستی امور چلانے کے لئے لازمی قرار دیا جاتا رہا ہے۔
قدیم چین اور سلطنت روم کے ابتدائی ادوار میں آبادی اور گھروں کی متواتر گنتی کی نشانیاں ملتی ہیں۔ یونان کی قدیم شہری ریاستوں میں تو جمہوری بنیادوں پر انتہائی منظم مردم شماری ہوا کرتی تھی۔ قدیم یونانی تاریخ دان ہیروڈوٹس کے مطابق فراعین کے دور میں ہر مصری اپنی آمدنی کے ذرائع ظاہر کرنے کا پابند تھا۔ تاریخ میں درج اِس مختصر بیان سے قدیم مصر کے سماجی اور اقتصادی نظام سے متعلق بہت سے حقائق سامنے آجاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اُس دور میں بھی ہر فرد سے متعلق معلومات رکھنے کا تصور اہم سمجھا جاتا تھا، لوگوں کو اپنا کام کرنے کی کسی نہ کسی حد تک آزادی تھی، غلامی دم توڑ رہی تھی، قانون میں جائز اور ناجائز آمدنی میں فرق کی وضاحت موجود تھی اور یہ کہ ریاست میں انفرادی آمدنی کی حدود مقرر تھیں یا پھر انکم ٹیکس جیسا کوئی ضابطہ موجود تھا۔
ہیروڈوٹس عظیم یونانی

فلسفی سقراط کے ہم عصر تھے۔ یعنی ان کا جغرافیہ اور دور، دونوں ہی ان کی ساکھ کو اُجاگر کرنے کے لئے کافی ہیں۔ لہٰذا قدیم مصر کے سیاسی اور اقتصادی حالات پر ہیروڈوٹس کا مرتب کردہ مواد، دور حاضر میں دستیاب تمام شہادتوں میں سب سے معتبر مانا جا سکتا ہے۔ اس وضاحت کا مقصد صرف یہ یاد دلانا ہے کہ جن فراعین کے مظالم کی داستانیں سن سن کر ہماری نسلیں جوان ہوتی ہیں، ان کو قدیم ادوار میں بھی یہ شعور تھا کہ معاشرے میں بسنے والے فرد سے جڑے حقائق، کسی اچھے یا بُرے حکمراں کے لئے کتنے اہم ہو سکتے ہیں۔ یہ قیاس کرنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ فراعین سمیت شہنشاہیت کے پیروکار اُن تمام قدیم حکمرانوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر حاصل کردہ اعداد و شمار کا غلط استعمال بھی کثرت سے کیا ہو گا۔ سمجھنا صرف یہ ہے کہ ان کے پاس کم ازکم شماریات کی اہمیت کو سمجھنے کی صلاحیت موجود تھی، وہ صلاحیت جس کا فقدان آج بھی ہمارے ہاں نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ملک کے نا اہل حکمران، صرف پانچ بار مردم شماری کرا سکے ہیں۔
البتہ چند روز پہلے ہی ملک بھرمیں چھٹی مردم شماری کا آغاز ہوا ہے۔ یوں مسلم لیگ نون کو دوسری بار اس مہم کی نگرانی کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس بار فیصلہ عدلیہ کی مداخلت پر کیا گیا۔ ریاستی امور میں شماریات کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنا ضروری ہے۔ کیوں کہ یونان سمیت تمام قدیم تہذیبوں میں رعایا سے متعلق اعداد و شمار سے دیر سویر استفادہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے یہاں اہرام مصرکی تعمیر کا قصّہ موزوں ترین ہے۔
یہ کوئی چار ہزار سال پرانی بات ہے جب مصر کے سب سے عظیم اہرام غِزا کی تعمیر عمل میں آئی۔ یہ فراعین کے چوتھے خاندان ’کوفؤ‘ کا دور تھا۔ اس حوالے سے سال دو ہزار تیرہ میں کی گئی ایک تحقیق سے کچھ دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔ نتائج کے مطابق، اہرام غِزا کی تعمیر کے دوران مار نامی ایک راج روزانہ اپنے کام سے متعلق تفصیلات لکھا کرتا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تحریر میں تعمیراتی خام مال اور دیگر ساز و سامان کو دریائے نیل پرقائم بندرگاہ تک لانے اور لے جانے کا طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزدوروں کے لئے کھانے پینے کے انتظامات، بھیڑوں کے گوشت کی فراہمی، ساتھ کام کرنے والوں کی تفصیل، منافع و خسارے کا احوال اور اہرام کی تعمیر سے متعلق دیگر اہم معلومات موجود ہیں۔ اُس قدیم دور میں اعداد و شمار کو اس حد تک منظم طریقے سے محفوظ کرنے کا رواج، ہمارے لئے یقیناً ایک حیران کن حقیقت ہے۔
دوسری جانب کہا جاتا ہے کہ غیر معمولی طور پر دیو ہیکل اہرام غِزا کی تعمیر میں پتھرسے بنی ٹنوں وزنی کوئی تیئس لاکھ اینٹیں استعمال ہوئی ہیں۔ جبکہ اس کی تعمیر صرف بیس سال میں مکمل ہو گئی۔ لہٰذا تعمیر سے قبل منصوبہ سازوں کو لازماً تعمیراتی ماہرین، راج مستریوں، ہنرمندوں، مویشیوں، خام مال، خوراک، مزدوروں اور سرمائے کی دستیابی سے متعلق بنیادی اعداد و شمار درکار رہے ہوں گے۔ اہم بات یہ کہ اس تعمیراتی شاہکار کی بیس سال کے عرصے میں کامیاب تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ فراہم کردہ تمام تر اعداد و شمار، کسی کے اندازوں پر نہیں بلکہ ٹھوس حقائق پر مبنی تھے۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں آج بھی، کسی بھی معاملے میں، صحیح اعداد و شمار کے حصول کے لئے سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی کے بجائے، اندازوں، نیک تمنائوں اور معجزات پر انحصار کیا جاتا ہے۔ حالاںکہ خود برصغیر میں شماریات اور اس شعبے سے متعلق ماہرین کی ایک مکمل تاریخ موجود ہے۔
قدیم ہندستانی حکمران چندرا گپتا موریا کے دور میں مردم شماری کا واضح ذکر ملتا ہے۔ شیر شاہ سوری کی فرمائش پر قلعہ روہتاس تعمیر کرنے والا تو درمل شماریات کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ شاید اسی لئے مغلوں نے اسے شیر شاہ جیسے دشمن کا ساتھی ہونے کے باوجود زندہ سلامت قبول کر لیا۔ وہ اکبر کے معروف نو رتنوں میں بھی شامل رہا۔ دوسری جانب ابتدائی اسلامی معاشروں میں بھی مردم شماری، ریاستی وسائل کی تخمینہ کاری، معاشرتی سطح پر دولت کی تقسیم، زکوٰۃ اور دیگر معاملات سے متعلق اعداد و شمار کے حصول کا منظم طریقہ کار رائج تھا۔
لیکن تاریخ، تعلیم اور تجربات سے کچھ نہ سیکھنا، ہمارے حکمرانوں کا خاصا رہا ہے۔ کردار، شعور اور دور اندیشی کے مستقل فقدان نے اس معاملے کو اور سنگین بنا دیا ہے۔ مزید ستم یہ کہ حکمرانوں کا یہ مستقل رویہ اب عام لوگوں میں منتقل ہوچکا ہے۔ شاید اسی لئے حال ہی میں شروع ہونے والی مردم اور خانہ شماری کے ابتدائی مرحلوں میں، عوام اور اس مہم میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو مختلف سطحوں پر مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اہل کاروں کو شکایت ہے کہ ان کی کوششوں کے باوجود، خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی مردم شماری کے اس عمل میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ نارتھ ناظم آباد کراچی کے ایک اپارٹمنٹ میں ٹیم کے بار بار کہنے پر بھی صرف تین خاندانوں نے اندراج کرایا۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ اہلکار ہر انفرادی فلیٹ پر دستک دینے کے بجائے، گراونڈ فلور پر بیٹھ کر سب کا انتظار کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اہلکاروں کا یہ انداز مروجہ ضابطوں کے خلاف ہے۔
ایک اطلاع یہ ملی کہ پابندی کے باجود ملیر کے کچھ مکینوں کے کوائف کا اندراج پینسل سے کیا گیا ہے۔ ایک اور خبر ملی کہ بہت سے اپارٹمنٹس پر مشتمل ایک بلڈنگ کو اہلکاروں نے صرف ایک نمبر الاٹ کیا۔ شکایات اور خدشات کا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں لیکن یہ صورتحال یقیناً مردم شماری کے منصوبہ سازوں کی عدم دلچسپی اور کام میں مہارت کے فقدان کی واضح ترجمانی کر رہی ہے۔ لہٰذا میں سوچ رہا ہوں کہ اگر اہرام مصر تعمیر کرنے والوں نے ملک میں تازہ مردم شماری کے منصوبہ سازوں کی طرح کام کیا ہوتا تو دنیا اس عظیم الشان تاریخی ورثے سے محروم رہ جاتی اور تاریخ کے اوراق میں مصر کا نام و نشاں بھی نہ ہوتا۔ لہٰذا اس جدید دور کا حصہ ہوتے ہوئے بھی میں قدیم مصر کے اُن ماہرین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کو آج سے لگ بھگ چار ہزار سال پہلے بھی یہ علم تھا کہ تعمیر کا کوئی بھی بڑا خواب دیکھنے سے پہلے دستاب وسائل کی معلومات حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں