• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشعال کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں قابل اعتراض چیز نہیں ملی

No Objectionable Thing Found On Social Account Of Mashal
مردان کی عبدالولی خان یونی ورسٹی میں گزشتہ روز توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے والا مشعال خان سوشل میڈیا پر بھی ایکٹیو تھا۔

اگر مشعال کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نظر ڈالیں تو کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملتی، مشعال خان ایک جذباتی نوجوان نظر آتا ہے جو معاشرے کے جھوٹ اور فریب سے بیزار ہے۔۔

مشعال خان نے اتوار کو اپنی پروفائل تصویر تبدیل کی،جمعے کو بھی اپنی تصویر تبدیل کی اور لکھا سب کو صبح بخیر،5اپریل کو مشعال خان نے فیس بک پر موسم کی تصاویر شیئر کیں اور لکھا آج کا موسم بھی حسین ہے اور یہ رہیں کچھ تصاویر امید ہے سب کو پسند آئیں گی۔

چار اپریل کو مشعال خان نے اپنی ایک تصویر شیئر کی اور ساتھ ایک چھوٹی سی دعا لکھی کہ ’’اے رب مجھے بے خبروں کی بے فکری عطا کر یا علم کو سنبھالنے کی طاقت عطا فرما‘‘۔

تین اپریل کو مشعال خان نے لکھا کہ ’’میری تاریکی اور تمہاری تاریکی میں فرق ہے، میں اپنی خرابی کو دیکھ سکتا ہوںاور اسے قبول بھی کرسکتا ہوں جبکہ تم آئینے کو سفید چادر سے ڈھانپنے میں مصروف ہو،تمھارے گناہوں اور میرے گناہوں میں فرق ہے، میں گناہ کرتاہوں تو میں آگاہ رہتا ہوں جبکہ تم درحقیقت اپنے ہی بنائے ہوئے تصورات کا شکار ہو،میں ایک پکار ہوں، جل پری ہوں، مجھے معلوم ہے میں خوبصورت ہوں، جب میں سمندر کی لہروں پر تیرتا ہوںاور سمندر کی تہہ میں بیٹھ کر بھی کھاسکتا ہوں، تم ایک سفید چڑیل ہو، جادوگر ہو،تمہارے منتر ہیرا پھیری ہیں اور تمہارا کڑھاؤ جہنم سے آیا ہےلیکن تم پھر بھی اپنے آپ کو سفید چادر میں لپیٹتے ہو اورچاندی کا تاج پہنتے ہو‘‘۔

تین اپریل کو روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے زیر زمین ٹرین اسٹیشن پر بم دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا۔

اکتیس مارچ کو مشعال نے اپنی ایک تصویر کے ساتھ شعر لکھا

راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے
وہ نظر چپکے سے مجھے دیکھ رہی ہوجیسے

تیس مارچ کو اپنی تصویر کے ساتھ بھوت کا لفظ لکھا۔

اٹھائیس مارچ کو مشعال نے کسی کو کوٹ کیا’’ جو شمع تم دوسروں میں جلانا چاہتے ہو پہلے وہ خود میں جلاؤ‘‘۔

ستائیس مارچ کو مشعال خان نے لکھا کہ ’’جتنا میں لوگوں کو جانتا جاتا ہوں، اپنے کتے سے محبت بڑھتی جاتی ہے‘‘۔

مشعال خان پر توہین مذہب کا الزام لگانے والوں نے ہاسٹل کے جس کمرے میں اسے گولی ماری اور تشدد کیا، اس کمرے کی دیوار پر مشعال خان نے خود لکھا ہے کہ ’’اللہ سب سے بڑا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں‘‘۔
تازہ ترین