• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان میں غیر ملکیوں پر سختی کے باوجود بنگلہ دیشی لیبرز کی تعداد میں اضافہ

جاپان میں غیر ملکیوں سے متعلق سخت بیانیے کے باوجود بنگلہ دیش خاموشی سے جاپانی معیشت کے لیے افرادی قوت کا بڑا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ جاپانی سیاستدان سنیائے تاکائیچی کی جانب سے غیر ملکیوں پر پابندیوں کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، تاہم عملی طور پر ایک وسیع لیبر نیٹ ورک بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں جاپانی زبان سکھانے کے لیے 53 تربیتی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 200 سے زائد نجی ادارے بھی اس عمل میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 95 سرکاری منظور شدہ ایجنسیاں براہ راست کارکنوں کو جاپان بھیجنے کی مجاز ہیں۔

حکومت کا ہدف ہے کہ 2026 تک 10 ہزار بنگلہ دیشی طلبہ جاپان بھیجے جائیں، جو گزشتہ سال کے 4 ہزار کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ مزید برآں، 2029 تک جاپان کی 8 لاکھ 20 ہزار غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت کا 40 فیصد حصہ بنگلہ دیش سے پورا کرنے کا منصوبہ ہے، جسے 2040 تک 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جاپان کو اپنی معیشت کے استحکام کے لیے بیرونی افرادی قوت کی شدید ضرورت ہے، جس کے باعث سخت بیانات کے باوجود عملی پالیسی میں لچک دکھائی دے رہی ہے۔ یہ صورتحال جاپان کی امیگریشن پالیسی میں واضح تضاد کی نشاندہی کرتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید