آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ دو سالوں سے سی پیک ملکی معاشی پالیسیوں کا اہم جز بن گیا ہے۔ میں سی پیک پر کئی کالم تحریر کرچکا ہوں جن میں پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تفصیلات اور خطے میں اُن کی پاکستان اور چین کیلئے اہمیت اجاگر کی گئی تھی جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کے قومی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (NIM) میں اعلیٰ حکومتی افسران اور پالیسی میکرز کے سینئر مینجمنٹ کورسز کو ملکی معیشت پر پریذنٹیشن دے رہا ہوں۔ حال ہی میں NIM کراچی میں 21 ویں سینئر مینجمنٹ کورس میں شریک 20 ویں گریڈ کے سرکاری افسران کے پروموشن کے کورس میں ’’پاکستان میں صنعتکاری‘‘ پر دو گھنٹے کی پریذنٹیشن دی جس کے دائرہ کار میں سی پیک کے پاکستان اور چین کیلئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم فوائد اور مستقبل کے چیلنجز بھی شامل تھے۔ اس پریذنٹیشن کو آج قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔
سی پیک کا منصوبہ ون بیلٹ ون روڈ (B&R) طویل عرصے کی ریسرچ پر مبنی ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے جو دنیا کے 65 ممالک کیلئے ہے۔ Belt سڑکوں کے روڈ نیٹ ورک کیلئے اور Road شپنگ لائنز اور پورٹس کیلئے استعمال کیا گیا ہے جو چین نے علاقائی تجارت کو فروغ دینے کیلئے پاکستان میں شروع کیا جس کے فوائد چین اور پاکستان دونوں کو حاصل ہوں گے۔ میں نے مختلف اخبارات اور سینیٹ کی میٹنگز میں پارلیمنٹرینز کو یہ

کہتے سنا ہے کہ اگر قومی مفادات محفوظ نہیں کئے گئے تو سی پیک ایک اور ایسٹ انڈیا کمپنی ثابت ہوگا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں سی پیک کا بیک گرائونڈ بتانا چاہوں گا۔ اس وقت چین کے وسط سے یورپ اشیاء بھیجنے کیلئے ٹوٹل 19132 میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس میں سینٹرل چین سے شنگھائی پورٹ تک زمینی راستہ2625 میل اور شنگھائی پورٹ سے یورپ تک کا بحری فاصلہ 16560میل ہے جس میں تقریباً 50 دن لگتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری مکمل ہونے کے بعد یہ فاصلہ کل 2295 میل رہ جائے گا جس میں زمینی فاصلہ 1750 میل اور سمندری فاصلہ 545 میل ہے جس کو طے کرنے میں صرف 17 دن لگیں گے۔ اس کے علاوہ 40 فٹ کنٹینر کے شنگھائی سے ہیمبرگ بھیجنے میں تقریباً 3000 ڈالر فریٹ لگتا ہے۔ اس شپمنٹ کو گوادر پورٹ سے بھیجنے میں فریٹ صرف ایک ہزار ڈالر تک رہ جائے گا۔ اسی طرح ایک 40 فٹ کنٹینر ابوظہبی سے شنگھائی بھیجنے کی لاگت دو ہزار ڈالر ہے اور اس کو شنگھائی پہنچنے میں 16 دن لگتے ہیں۔ سی پیک کا راستہ کھلنے کے بعد اس امپورٹ کی لاگت اور وقت صرف ایک تہائی رہ جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سی پیک کے بعد چین کی اربوں ڈالر کی ایکسپورٹس اور مڈل ایسٹ سے اربوں ڈالر پیٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ صرف ایک تہائی وقت اور لاگت میں کی جاسکے گی جس سے چین کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا۔ چینی کارگو کی پہلی بڑی آزمائشی شپمنٹ پاک چین راہداری سے 13 نومبر 2016ء کو بلوچستان کے راستے سی پیک راہداری اور گوادر پورٹ کے ذریعے کامیابی سے بحفاظت بھیجی جاچکی ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ سمندری راستے سے چین کو پیٹرولیم مصنوعات امپورٹ کرنے میں ہمروز میں امریکی بحری بیڑہ کی موجودگی کا سامنا ہے جو چین کی نیشنل سیکورٹی کے منافی ہے جبکہ گوادر پورٹ اور سی پیک راہداری کے راستے چین کو اس طرح کا کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان کو اپنی تجارتی راہداری سے ان اشیاء کی نقل و حرکت پر پانامہ اور سوئس کینال کی طرح ٹرانزٹ فیس حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ چین اپنی پیداواری لاگت اور اجرتوں میں اضافے کی وجہ سے اپنی ایسی صنعتیں جس میں زیادہ لیبر درکار ہیں، کو چین کے باہر منتقل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور چین کے ویسٹرن صوبے کاشغر اور گوادر پورٹ کے مابین انفرااسٹرکچر بن جانے کے بعد چین کیلئے ان صنعتوں کو پاکستان میں سی پیک کے اسپیشل اکنامک زونز میں منتقل کرنا آسان ہوگا جس سے پاکستان میں بے شمار نئی ملازمتوں اور ایکسپورٹ کے مواقع پیدا ہوں گے۔
سی پیک کے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری انرجی پروجیکٹس میں اور 12 ارب ڈالر انفرااسٹرکچر اور گوادر کی تعمیر و ترقی کیلئے ہیں۔ سی پیک پر چین میں آخری اجلاس میں چاروںصوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں کیلئے کچھ اضافی منصوبے پیش کئے تھے جن کو سی پیک میں شامل کرنے کے بعد سی پیک کی مجموعی سرمایہ کاری 56 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس میں سے 14 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آچکی ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ انرجی کے34 ارب ڈالر کے منصوبے پاکستان کے نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کا چینی اور دیگر سرمایہ کاروں کے ساتھ اشتراک ہے جن کی فنانسنگ چینی اور بین الاقوامی بینک کررہے ہیں جن سے مجموعی 16000 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہوگی جس میں Early Harvest منصوبوں سے 10,000 میگاواٹ 2018ء کی پہلے سہ ماہی تک متوقع ہے جس سے ملک میں لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی، باقی طویل المیعاد منصوبے 2030ء تک مکمل ہوں گے ۔حکومت پاکستان نے ان منصوبوں سے پیدا کی گئی بجلی کو خریدنے کی گارنٹی دی ہے جس میں سرمایہ کاروں کو ان کی ایکویٹی پر تقریباً 17 فیصد پرکشش منافع حاصل ہوگاجبکہ چین نے حکومت پاکستان کو انفرااسٹرکچر منصوبوں کیلئے 12 ارب ڈالر چین کا ECAکریڈٹ 2 فیصد سود پر قرضہ فراہم کیا ہے۔ ملک میں انرجی کا بحران ختم ہونے اور اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) میں نئے منصوبوں سے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ میں تقریباً 1.5 فیصد سالانہ اضافہ متوقع ہے اور جسکے بعد پاکستان 6 سے 7 فیصد اونچی گروتھ کرنیوالے ممالک میں شامل ہوجائے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری میں پاکستان خطے کے ممالک کیلئے ایک معاشی پل کا کردار ادا کریگا اور چین کو خطے میں سیکورٹی استحکام حاصل ہوجائیگا جس پر امریکہ اور بھارت خوش نہیں۔ ملکی اور علاقائی مفادات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی سول و ملٹری قیادت، تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پاک چین اقتصادی راہداری کو کامیاب بنانے کیلئے متفق ہیں۔ سی پیک کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبے کا نہیں بلکہ پاکستان اور خطے کا گیم چینجر منصوبہ بن چکا ہے جس میں اب وسط ایشیائی ممالک کے علاوہ روس، ایران اور ترکی بھی شامل ہونا چاہتے ہیں۔
کالم کے اختتام پر میری حکومت کو تجویز ہے کہ وہ مقامی صنعتوں اور مزدوروں کے تحفظ کیلئے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں ایسے سیفٹی وال لگائے جس سے چین سے خام مال کی ڈیوٹی فری سستی امپورٹ سے پاکستان کی مقامی صنعتوں کو نقصان نہ پہنچے اور ان منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ مقامی لیبر کو استعمال کیا جائے تاکہ ملک میں بے روزگاری میں کمی آئے اور پاکستان میں عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہو۔ پاکستان کے پسماندہ صوبوں خصوصاً بلوچستان کی ترقی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور زیادہ سے زیادہ بلوچی نوجوانوں کو چینی زبان سیکھنے کے مواقع دیئے جائیں تاکہ بلوچستان میں احساس محرومی ختم ہو۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے میری اسلام آباد میں ملاقات میں انہوں نے سی پیک امپورٹ اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے 2018ء سے پاکستان سے فارن ایکسچینج کے اضافی انخلاء کے خدشات کا اظہار کیا تھا جو ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر کو متاثر کرسکتا ہے۔ سی پیک منصوبوں میں پاکستان کیلئے بلاشبہ بے شمار فوائد ہیں جنہیں حاصل کرتے وقت ہمیں مقامی صنعت کے خدشات بھی مدنظر رکھنا ہوں گے تاکہ یہ منصوبے دونوں ممالک کیلئے Win Win کی حیثیت ثابت ہوسکیں۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں