میرے کالموں پر طالبعلموں ، اساتذہ ، دانشوروں وغیرہ کے ردعمل کی اس قدر تعداد ہے کہ میں معذرت خواہ ہوں کہ ان سب کو جواب دے سکوں ، مجھے بتایا گیا ہے کہ ان مضامین کو پڑھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں جاتی ہے ۔ آج کل اس قدر اہم موضوعات پریشانیاں ، تکالیف کا لوگوں کو سا منا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ ہر موضوع پر کچھ تحریر کروں گویا ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“۔میں نے اپنے پچھلے دو مضامین میں زراعت کی اہمیت اور ہماری بقا کے لیے اس کی اہمیت پر معروضات پیش کی تھیں اور آنے والے سخت خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس علم کے ماہرین کافی عرصہ سے اس بارے میں حکومت کو خبردار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور میں نے اس مہم و کوشش میں صرف اپنی آواز کو شامل کیا ہے ۔ لاتعداد طالبعلموں ، اساتذہ اور دانشوروں نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ تعلیم پر مزید لکھوں ، خاص طور پر انجینئرنگ کی تعلیم پر ۔ برادرم پروفیسر سبحانی نے کئی مرتبہ اخبارات کے ذریعے ابتدائی یعنی پرائمری تعلیم کی اہمیت کے بارے میں توجہ دلائی ہے ۔ حقیقت ہے بھی یہی کہ اچھی بنیاد کے بغیر مضبوط عمارت کی تعمیر ناممکن ہے ۔ جیسا کہ آپ کی اکثریت کو علم ہے کہ میں ایک میٹا لرجیکل انجینئر کے ساتھ ساتھ سائنسدان بھی ہوں، میں دراصل فزیکل میٹالرجسٹ ہوں تھوڑی مشکل ان انگریزی اصطلاحات کو اردو میں ترجمہ کرنے میں پیش آتی ہے۔فزیکل میٹالرجی کا مضمون بہت حد تک فزکس، ریاضی اور کیمسٹری کے مضامین پر مبنی ہے اور ان کے ساتھ ساتھ لاتعداد انجینئرنگ مضامین بھی اس میں شامل ہیں ۔یہ مضمون ایک خاص وسیع بنیاد مہیا کرتا ہے جس کی وجہ سے آپ انجینئرنگ کے بیشمار پرابلم یا مسئلے حل کر سکتے ہیں۔اس فن یا تعلیم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس میں ہی مہارت کی وجہ سے میں یورینیم کی افزودگی اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جیسے مشکل ترین کام کی تکمیل میں رہنمائی کر سکا تھا۔ یورینیم کی افزودگی کو لوگ بجا طور پر ایک فزکس کی پرابلم سمجھتے ہیں لیکن فزیکل میٹالرجی میں فزکس کی اعلیٰ تعلیم بہت بڑا رول ادا کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ میکینکل انجینئرنگ ، کیمیکل انجینئرنگ ، الیکٹرانکس ، کمپیوٹر سائنس، ویکیوم ٹیکنالوجی وغیرہ بھی اس فن یا میدان میں اہم رول ادا کرتے ہیں اسی طرح میزائل یا ہتھیاروں کی تیاری میں متعدد علوم کا استعمال ہوتا ہے اور میٹا لرجیکل انجینئرنگ میں حاصل کی گئی معلومات و تجربہ اس میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔انجینئرنگ کی تعلیم یا پیشہ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص دیوار میں کیل ٹھونک دیتا ہے یا سائیکل کی چین چڑھا لیتا ہے وہ اپنے آپ کو مکینیکل انجینئر سمجھنے لگتا ہے اور اگر کوئی شخص کسی چھوٹے سے برتن میں کوئلوں کی آگ پر کوئی دھات پگھلا کر کسی شکل میں ڈھال دے تو وہ میٹالرجیکل انجینئر بن جاتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص تار پر پلگ لگادے یا ٹوٹا ہوا بلب بدل دے تو وہ الیکٹریکل انجینئر بن جاتا ہے ۔ اس کالم کا مقصد یہ ہے کہ میں آپ کو فزیکل میٹالرجی کے مضمون کے بارے میں اور سائنس و ٹیکنالوجی اور صنعت میں اس کی اہمیت سے آگاہ کروں ۔ جو لوگ اس میدان میں کام کر رہے ہیں اور تعلیم حاصل کی ہوئی ہے وہ تو یہ باتیں جانتے ہیں مگر اکثریت اس فن ِ تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں ہے اس لئے یہ کالم لکھا ہے ۔اگر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی ملک و قوم کی خوشحالی اور ترقی کا انحصار اس کے انجینئروں کی کارکردگی اور صلاحیت پر منحصر ہوتا ہے تو یہ بے جا نہیں ہے اور یہ بھی مبالغہ آمیزی نہ ہوگی کہ اگر کہا جائے کہ انجینئرنگ پروفیشن کی ریڑھ کی ہڈی میٹالرجیکل انجینئرنگ ہے۔ خواہ ایک سلائی کی سوئی ہو یا جہاز ہو میٹالرجی کی معلومات اور استعمال کے بغیر کچھ بھی بنایا نہیں جا سکتا ۔ ان تمام کاموں میں جو صنعت استعمال ہوتی ہیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم رول ادا کرتی ہے یعنی محنت، میٹیریلز(دھاتیں) ، مشینیں ، محنت کا طریقہ کار اور مالی وسائل ، ان میں میٹیریلز یعنی دھاتیں اور ان کو کس طرح ضروریات کی چیزوں کی شکل دینا اور استعمال کرنا سب سے اہم حصہ ہے۔میٹالرجی کی تعلیم ایک عملی علم یا ٹیکنیک ہے جو ٹھوس دھاتوں اور ان کے مرکبوں کی فزکس اور کیمسٹری پر انحصار کرتی ہے ۔ یہ دھاتوں کی معدنیات سے دھاتوں کی تیاری، ان کی صفائی اور ان کو حتمی شکل دینے کا ہنر ہے ۔ یہی نہیں بلکہ یہ علم دھاتوں اور ان کے مرکبوں کا ایٹمی سطح پر ان کی ساخت اور ان کا ان دھاتوں اور مرکبوں کی قوت اور خصوصیات پر اثرات کے بارے میں معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ ایٹمی سطح پر ساخت اور اس کا دھاتوں کی خصوصیات پر اثر نئی نئی طاقتور اور اعلیٰ دھاتوں کے مرکب بنانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں جو کہ دور جدید کی اہم ضرورت ہے۔ دھاتیں اور ان کے مرکب ہمارے معاشرہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں خواہ یہ ہوائی جہازوں کی صنعت ہو، پلاسٹک ہو، کاروں کی صنعت ہو، سرامکس ہوں، الیکٹرانکس ہو یا میڈیکل صنعت ہو۔ اس طرح میٹریل سائنس اور انجینئرنگ ان تمام دھاتوں اور میٹریلز کامطالعہ اور تحقیق کرتی ہے جو کہ موجودہ انتہائی ترقی کے دور میں تمام انجینئرنگ، سائنٹیفک، میڈیکل میدانوں میں استعمال ہوتی ہیں یا استعمال ہو سکتی ہیں۔ ایک میٹالرجیکل انجینئر کا اہم رول و ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ مناسب ترین دھات یا مرکب کا چناؤ کرے جو کسی خاص ، اہم کام کی ضرورت کے لئے درپیش ہو۔ اس کے علاوہ ان کی ذمہ داری میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ جو کام کرنا ہو اس کا آسان اور بہترین طریقہ نکالیں جو قابل اعتماد بھی ہو اور کفایت شعارانہ بھی ہو ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک میٹالرجیکل انجینئر کودھاتوں اور ان کے مرکبوں (Materials & Alloys) کی ساخت کو مختلف حالات ، درجہ حرارت اور ماحول میں سمجھنا پڑتا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان چیزوں کا ایٹمی ،الیکڑانک اور مالیکولر ساخت اور پھر ان اجزا (Crystals) اور دانوں (Grains) کا جوڑ ساخت اور نیوکلیئر گٹھ جوڑ یعنی (Nuclear Conflagration) کے بارے میں بھی پوری معلومات حاصل کرنا ہوتی ہیں۔ان مطلوبہ معلومات کی اہم ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ ان کی مدد سے انجینئر دھاتوں اور مرکبوں کی میکانیکی قوت اور مشکل ترین حالات میں قوت برداشت ، الیکٹریکل مقناطیسی اور آپٹیکل خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرتے ہیں۔ میٹالرجیکل اور میٹریلز انجینئرنگ کا مضمون بہت وسیع ہے۔ یہ نہ صرف دھاتوں اور دوسری تعمیری اشیاء مثلاً دھاتیں اور ان کے مرکب، سرامکس(Ceramics) ، پولی ایسٹر (Polyester) ، شیشہ(Glass) ، کمپوزٹس(Composites)، سیمی کنڈکٹرز (Semi-Conductors) بلکہ ان میدانوں (Disciplines)سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے یعنی فزکس، کیمسٹری اور انجینئرنگ کے لاتعداد موضوعات ۔ یہ مضمون نہایت دلچسپ ، جستجو سے پُر اورڈائنامک ہے یعنی آپ کو مسلسل اپنی دماغی صلاحیتوں کو استعمال میں لانا پڑتا ہے مسلسل نئی نئی ایجادات کی جستجو میں رہنا پڑتا ہے۔ یہ اس لئے بے حد ضروری ہے کہ زمانہ جس تیزی سے ترقی کر رہا ہے اگر میٹالرجیکل و میٹریلز انجینئرنگ سے اپنے آپ کو پوری طرح واقف نہ رکھے تو چند ماہ یا ایک سال میں عہد ماضی کی یادگار بن جاتا ہے۔ موجودہ ترقی کے دور میں ایک میٹالرجیکل و میڑیلز انجینئر کو بہت ہنر مند ماہر ، مارکیٹ سے پوری طرح واقف، معاشیات کی سمجھ بوجھ ماحولیات کی اہمیت سے آشنا اور انسانی ضرورت سے پوری طرح واقف ہونا ضروری ہے۔میٹالرجیکل انجینئرنگ ایک وسیع میدان میں مہارت مہیا کرتی ہے اس میں نہ صرف ضروری بنیادی مضامین شروع میں پڑھائے جاتے ہیں بلکہ آہستہ آہستہ بہت اہم اور ترقی یافتہ (Advanced) اور خصوصی مضامین (Specilaized Subjects) پڑھائے جاتے ہیں۔مختصراً یہ عرض کروں گا کہ میٹالرجیکل اور میٹریلز انجینئرنگ ان انجینئروں کے لیے ایک نہایت اعلیٰ مضمونِ تعلیم ہے جو مختلف صنعتوں ،میں تحقیق کرنے میں اور معاشیات کے میدان میں کام کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں ۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ ملازمت کی ضروریات اور میدان میں کچھ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اسی وجہ سے میٹالرجیکل اور میٹریلز انجینئروں کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے اور مستقبل میں یقینا اس پیشہ میں ڈگری یافتہ انجینئروں کی مانگ موجود رہے گی اور اگر ہمارے ملک میں ان ماہرین کے تجربہ اور تعلیم سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو ہم پسماندگی میں ہی رہیں گے۔ یہاں کچھ معلومات ان مضامین کے بارے میں عرض کروں گا جو بیرون ممالک میں میٹریلز اور میٹالرجیکل انجینئروں کو کم و بیش لازمی پڑھائے جاتے ہیں ۔یہ معلومات خاص طور پر انجینئرنگ کے طالبعلموں اوراساتذہ کے لیے ہیں۔ ایک سال جو خاص مضامین پڑھائے جاتے ہیں اور جو میں نے بھی پڑھے تھے وہ یہ ہیں۔ Advanced Mathematics, Applied Mechanics, Atomic Physics, Electronics, Quantum Mechanics, Nuclear Physics, Ternary Alloys, Chemical Physics, Computational Design, Cast Iron, Powder Metallurgy,Principles of Metallurgy وغیرہ، وہ مضامین جو پورے دو سال پڑھائے جاتے ہیں ان میںTheoretical Physics, Fluid Dynamics, High pressure Physics, Solid State Physics, Steel Making & Applied Thermodynamics وغیرہ وغیرہ ، چار سال جو خاص مضامین پڑھائے جاتے ہیں ان میں Materials & Alloys (Ferrous & non-Ferrous)ان کی تیاری اور خصوصیات وغیرہ ۔ دوسرے مضامین جومختلف مدتوں کے لیے پڑھائے جاتے ہیں ان میں Vacuum Technology, Reactor Materials & Engineering, Metals & Alloys (Production & Properties), Non-Destructive Testing,Physical Metallurgy,WeldingTechnology,Ceramics X-ray Difraction and Crystallography, Corrosion Technology, Machine Design, FoundryTechnology,Mineralogy,Composite Materials, Industrial Management, Industrial Psychologyان مضامین کے علاوہ دوسرے ایسے اہم مضامین پڑھائے جاتے ہیں جن کا تعلق خاص و اہم Metals & Alloys سے ہوتا ہے جو موجودہ ترقی کے دور میں روزمرہ کی صنعتوں اور سائنٹفیک آلات، کارخانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان مضامین کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ بہت وسیع عملی تجربے کئے جاتے ہیں ۔ آپ کو تعجب ہو گا کہ فزکس ، کیمسٹری ، الیکٹرانکس ، میکنیکل انجینئرنگ اور کیمیکل انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے بھی میٹالرجی و میٹریل سائنس کے چار سالہ مضامین لازمی طور پر پڑھنے پڑتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکوں میں مختلف مضامین میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وسیع معلومات کے حامل ہوتے ہیں اور لاتعداد قسم کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یورپی یونیورسٹیوں میں پانچویں سال میں ایک ریسرچ تھیسس لکھنا ہوتا ہے اس قسم کی تعلیم اور اس کے ساتھ میرا صنعتی تجربہ ایک نہایت قیمتی سرمایہ تھا جس کی وجہ سے میں اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دے سکا ۔ یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ بغیر اس مضمون کی اچھی تعلیم کے نہ ہی ایٹمی ری ایکٹر ، ہوائی جہاز، کاریں ، کیمیائی کارخانے بنائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی روزمرہ کی گھریلو اشیاء تیار کی جا سکتی ہیں۔یہ بات قابل بیان و دلچسپ ہے کہ میٹالرجی و میٹریلز سائنس کا ایک منفرد مضمون کے بننے سے پیشتر اس میدان میں تمام اہم کام اور ترقی فزکس اور کیمسٹری کے ماہرین نے کی تھی اور آج بھی ان دو مضامین میں مہارت رکھنے والے میٹالرجی اور میٹریلز سائنس کی تحقیق اور ترقی میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔
ایک اور اہم حقیقت جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ، انگلینڈ ، جرمنی، فرانس، روس، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، سوئیڈن، جاپان اور نئے دور میں چین اور جنوبی کوریا میں صنعتی ترقی اور خوش حالی میں میٹالرجی کی تعلیم و ترقی نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں، ہوائی جہازوں، پانی کے جہازوں، ٹرینیں، اسٹیل ملز، کاریں ، نیوکلیئر پاور پلانٹس غرض روزمرہ ہر چیز تک میٹالرجی کی تعلیم اور ہنر پر منحصر ہے۔پاکستان کی پسماندگی کا بہت بڑا سبب ہمارے رہنماؤں کی نااہلی اور مستقبل کی ضرورت سے ناواقفیت اور میٹالرجی کی صنعت کو بالکل نظر انداز کر دینا ہے۔ اگر پاکستان کے قیام کے فوراً ہی بعد ہم اسٹیل ملز اور کاروں کی صنعت قائم کر دیتے تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو چکا ہوتا۔ اپنا کالم ختم کرنے سے قبل مشہور فلسفی ٹامس ہکسلی (Thomas Huxley) کی ایک نہایت سنہری کہاوت بیان کرنا چاہتا ہوں ۔” شاید تمام تعلیم کا نہایت قیمتی نتیجہ یہ ہے کہ یہ انسان کو اس قابل کر دیتی ہے کہ انسان وہ کر سکے جو اس کو کرنا ہی ہے، جب وہ کرنا ہی ضروری ہوتا ہے چاہے اس کو یہ پسند ہو یا نہ ہو ۔ یہ زندگی کا پہلا سبق ہوتا ہے جو یاد کرنا اور سیکھنا ضروری ہوتا ہے اور انسان جس قدر جلدی سبق سیکھنا شروع کر دے یہ غالباً آخری سبق ہوتا ہے جو وہ مکمل طور پر سیکھتا ہے“۔