آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہی ہوا جس کا اندیشہ ہی نہیں تقریباً یقین تھا، مشال خان ، عبدالولی خان یو نی ورسٹی کی انتظامیہ کی سازش کا شکار ہوا۔ ایک الزام، توہینِ رسالت کا ان سازشیوں نے گھڑااور اُس بے چارے کو اس بہانے قتل کردیا۔ جوائنٹ انویسٹگیشن ٹیم کی جو رپورٹ اب تک سامنے آئی ہے اس نے کافی رازوں سے پردہ اٹھادیا ہے، باقی تفصیل بھی سامنے آہی جائے گی۔ اس سازش کو تیار کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے ۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ قتل سے ایک ماہ پہلے کس نے کس سے کہا کہ مشال خان کو راستے سے ہٹانا ہے۔ وہ دونوں ملزم، رپورٹ کے مطابق، اس واردات کے بعد سے روپوش ہیں۔ وہ کونسلر بھی جس کی وڈیو منظر عام پر آگئی تھی، اور جس میں لوگوں سے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ حلف لیا جا رہا تھا کہ قاتل کا نام کوئی نہیں بتائے گا۔
اس رپورٹ میں ایسا بہت کچھ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عبدالولی خان یونی ورسٹی میں معاملات کافی عرصے سے خراب ہیں۔ غالباً پچھلی حکومت کے دور سے یہ خرابی شروع ہوئی، جب میرٹ کا شور مچانے والوں نے اپنے زیر انتظام جامعہ میں ہر سطح پر میرٹ کی دھجیاں بکھیریں ۔ ایک ایک فرد کو تین تین عہدوں پر فائز کردیا، سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود اس جامعہ کی فیس دوسری جامعات سے زیادہ تھی۔ مگر یہ صرف وہ چند باتیں ہیں جن

پر بات ہوئی اور وہ بھی سرسری سی۔ معاملات اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔ ان خا میوں میں سے بہت سوں کی نشاندہی اس تحقیقاتی ٹیم نے کی ہے ۔ یہ ایک بہت طویل رپورٹ ہے، جس کا فی الحال صرف خلا صہ ہی نظر سے گزرا ہے۔ تفصیلی رپورٹ، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میںپیش کی جائے گی جس نے اس اندوہناک واقعہ کا از خود نوٹس لے کر ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ ہو سکتا ہے جب یہ سطریں آپ کی نظر سے گزریں یہ رپورٹ پیش کی جاچکی ہو۔ اس رپورٹ میں، عبدالولی خان یو نی ورسٹی کے رجسٹرار سمیت، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، چیف سیکورٹی افسر، پرووسٹ، چیف پراکٹر، ڈائریکٹر اسپورٹس، اسسٹنٹ رجسٹرار سمیت، بہت سے طلبا کے واردات میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ مشال خان پر توہینِ رسالت کا الزام کسی بھی طرح ثابت نہیں ہوا۔
مگر بات یہی نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں وہ چشم کشا حقائق بیان کئے گئے ہیں کہ سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا یہ حال ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے، آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جامعہ کے ہاسٹل کو باہر کے مسلح لوگوں نے بھی رہائش کے لئے استعمال کیا،ان میں مرکزی روپوش ملزم، عارف کونسلر نمایاں ہیں۔ ہاسٹل میں بیرونی طلبا کو بھی داخلے دئیے گئے اور وہاںغیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں۔ ان میں ناجائز اسلحہ رکھنا، منشیات کا استعمال، اور سب سے زیادہ افسوسناک یہ کہ طالبات کا مبینہ استحصال اس جامعہ میں ہوتا رہا۔ کیا یہ سب باتیں سابق وائس چانسلر اور پرووسٹ کے علم میں نہیں تھیں؟ کیا وہ نہیں جانتے ہونگے کہ سیاسی بنیادوں پر بھرتی کئے گئے اکثر ملازمین مجرمانہ ریکارڈ کے بھی حامل ہیں؟ جن کو صرف سیاسی اور اپنے مذموم ذاتی مقاصد حاصل کرنے کے لئے، میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر بھرتی کیا گیا ہے؟ ان بھرتیوں کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے، اور یہ جے آئی ٹی نے بھی تجویز کیا ہے۔ مشال نے تو ان خرابیوں کی نشاندہی کی تھی۔ اس کا قصور بس اتنا تھا کہ وہ ان خرابیوں کو دور کرنا چاہتا تھا،تا کہ اس کی مادرِ علمی مکروہ عناصر سے پاک صاف ہو جائے۔ یوں اس کی زندگی میں تو ہو نہ سکا، مگر وہ اپنی قربانی دے کر ان باتوں کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہو گیا، جن پر اب توجہ دینا، ارباب حل وعقد کی ذمہ داری ہے۔ مگر ان کی کیا ذمہ داری ہے؟ اگر انہیں احساس ہوتا، اگر ان سب کو احساس ہوتا جنہیں اس صوبے سے، یہاں کے عوام سے ذرا سی بھی دلچسپی ہے تو معاملات اتنے خراب نہ ہوتے کہ ایک نوجوان اپنے بوڑھے باپ کہ بلکتا چھوڑ کر یوں چلا جاتا، یوں قتل کردیا جاتا۔
مشال کے بوڑھے و الد محمد اقبال کو دیکھیں۔ وہ اتنے خوفزدہ ہیں کہ مردان آکر مشال کے مقدمہ کی سماعت میں شریک نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’با اثر‘‘ افراد ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث ہیں جن سے ان کی اور ان کے خاندان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ وہ تو اب اسلام آباد میں رہنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی بیٹیوں کو تحفظ فراہم کرسکیں اور انہیں تعلیم دلا سکیں۔ وہ وکیل بھی نہیں کرسکتے کہ اپنا مقدمہ لڑسکیں۔ یہ مقدمہ اگر یہاں نہیں لڑا جا سکا تو اس خدا کی عدالت میں دیر ہے اندھیر نہیں جس نے عدل کا وعدہ کیا ہوا ہے۔
خود ہم نے کیا کیا؟ ذرائع ابلاغ نے؟ جب وہ معصوم بچہ، مشال خان قتل ہوا تو کچھ دن کے لئے وہ ایک گرم خبر تھی، شہ سرخیوں میں جمانے کے لئے۔ پھر کیا ہم نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا؟ کسی نے اس جے آئی ٹی کی رپورٹ اس طرح بریکنگ نیوز کے طور پر چلائی جیسے کسی اور جے آئی ٹی کی چلاتے ہیں؟ کسی نے کبھی پتا کرنے کی کوشش کی کہ جے آئی ٹی اپنا کام ٹھیک سے کررہی ہے یا نہیں؟ کوئی خبر اس دوران، یعنی سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد نظر سے گزری نہیں۔ اور اب بھی جب یہ رپورٹ آگئی کیا کسی نے اس طرف توجہ دی؟ اس سے زیادہ بے حسی اور کیا ہوگی۔ مانا کہ اور بھی بہت سی خبریں توجہ چاہتی ہیں، مگر یہ بھی تو نظر انداز کردینے والی خبر نہ تھی۔ کوئی ٹاک شو، کوئی گفتگو، مشال کے غمزدہ والد سے کوئی بات چیت؟ کچھ بھی نہیں، کہ یہ ایک غریب آدمی کا بیٹا تھا، خون خاک نشیناں تھا، اگر رزق خاک ہوگیا تو کیا ہوا۔ اس میں ان کے لئے بھی کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی تھی جو اس تاک میں رہتے ہیں کہ کہیں توہینِ رسالت کے نام پر کچھ ہو جائے تو اپنے تیر و تفنگ نکال کر اس قانون کے پیچھے پڑ جائیں جس کا اس میں کچھ لینا دینا نہیں۔ میں نے مشال پر اپنے پچھلے کالم ( 21اپریل )میں لکھا تھا، ’’جو بھی ہوا ہے اس کے لئے پولیس یا عدالتی تحقیقات کا انتظار کرنا چاہئے۔ کسی بھی معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے کچھ وقت تحقیقاتی اد اروں کو دیا جانا چاہئے۔ اب یہ قتل کا ایک عام سا مقدمہ نہیں رہا کہ پولیس جو چاہے کرے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس کا نوٹس لے لیا ہے اور عدالت ، یہ امید رکھنی چاہئے، اس معاملے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ ملزموں کو عبرتناک سزا ملنی چاہئے، اس پر کوئی دو رائے نہیں ہیں، اور نہ ہو سکتی ہیں‘‘۔ اس میں بس اتنا اضافہ اور کہ ملزمان خواہ کتنے ہی بااثر ہوں، قانون ان سے بالا تر ہے اور یہ ثابت ہو جانا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں