• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کس مغل شہنشاہ کی ضیافت؟,,,,قصہ مختصر…عظیم سرور

محترم سید انور قدوائی کے کالم میں ایوان صدر کے افطار ڈنر کا تذکرہ تھا اور انہوں نے لکھا کہ ہر میز پر ایک مینو کارڈ تھا جس پر ایک مغل شہنشاہ کی تصویر تھی اور یہ عبارت درج تھی۔ ”مغل شہنشاہ شام کی ضیافت سے لطف اندوز ہورہے ہیں“۔ یہ کالم پڑھ کر خیال آیا کہ ایوان صدر میں اس ضیافت کا اہتمام کرنے والوں نے افطار ڈنر کو کسی مغل شہنشاہ سے جوڑنے کا اہتمام کیوں کیا؟ اور اس اہتمام کے وقت ان کے ذہن میں کس مغل شہنشاہ کا نقشہ تھا؟ مغل شہنشاہ کس قسم کی ضیافتوں سے لطف اندوز ہوتے تھے؟ اور ان کی ضیافتوں میں کس قسم کے لوگ شریک ہوتے تھے؟ اس کے بارے میں کیا انہوں نے واقعی غور کیا تھا؟مغل خاندان کی حکومت کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے رکھی تھی جو رشید و رستم کی طرح ازبک تھا اس نے پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کو گارڈ آف آنر دے کر تخت ہندوستان جیتا تھا۔ پانی پت کے میدان میں جب مقابلہ سخت ہورہا تھا تو بابر نے شراب نوشی سے توبہ کی سارے جام توڑ دئیے۔ تاریخ کہتی ہے کہ فتح کے بعد اس نے پھر نئے جام منگوالئے۔ اس پر بہت بعد میں ایک مورخ نے یہ شعر کہا تھا۔
جام مے توبہ شکن، توبہ تری جام شکن
محل میں ڈھیر تھے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے
ہمارے خیال میں ایوان صدر کے مینو کارڈ پر جو تصویر بنائی گئی وہ مغل شہنشاہ بابر کی تصویر نہ تھی۔ اور نہ ہی اس ضیافت کو بابر کے ساتھ جوڑا گیا کیونکہ بابر نے جام کے ساتھ ساتھ آم کی بھی تعریف کی ہے۔ اور ہندوستان کے لوگوں کے دال روٹی کھانے پر تزک بابری میں تبصرہ کیا ہے کہ ”عجب مردمان اتت کہ غلہ بہ غلہ می خورد“۔ (عجیب لوگ ہیں اناج کو اناج کے ساتھ کھاتے ہیں) بابر ہر صبح سیکورٹی کے دو افراد کو بغلوں میں دباکر قلعے کی فصیل پر دوڑ کر ورزش کیا کرتا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سیکورٹی کوڈ تھا کہ اگر تیر آیا تو بغل والوں ہی کو لگے گا۔
افطار ضیافت کا ناطہ دوسرے مغل شہنشاہ ہمایوں سے بھی نہیں میل کھاتا کہ ہمایوں ملک سے باہر صرف ایک دفعہ گیا تھا جب اس کو شیرشاہ سوری نے ملک بدر کیا تھا۔ ایک ڈیل ہوئی تھی اور اسے ایران روانہ کردیا گیا تھا۔ پانچ سال کے بعد وہ ملک واپس آ گیا تھا لیکن اس کے عہد میں کسی ضیافت کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔
ہاں اس کے دور میں تخت طاؤس کا تذکرہ ملتا ہے۔ جو آج کل لندن میں ہے اور اس میں لگا کوہ نور ہیرا لندن ٹاور میوزیم میں محفوظ ہے۔
مغلوں کا تیسرا شہنشاہ اکبر اعظم ہے۔ اس کی زندگی پر بعد میں فلمساز کے آصف نے ایک فلم بنائی اور خوب مال کمایا۔ اکبر اعظم کے عہد کے تذکروں میں کسی ایسی ضیافت کا تذکرہ نہیں ملتا جن میں کئی معصوم لوگوں کی روزہ کشائی کرائی گئی ہو۔ اکبر کے دور کے تذکرے میں اس کی رانی ایودھا بائی کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے لئے محل سے گنگا تک جانے کے لئے سرنگ بنوائی گئی تھی۔ اکبر کے دور کی ضیافتوں میں راگ رنگ اور رقص و سرور کا تذکرہ عام ملتا ہے۔ انارکلی جیسی کنیزوں کے رقص ضیافتوں میں پیش کئے جاتے تھے۔ اکبر اعظم چڑھتے سورج کی پوجا کیا کرتا تھا اور اس نے جو دین الٰہی ایجاد کیا تھا اس میں روزے کا نام و نشان نہ تھا۔
مغل شہنشاہوں میں اس کے بعد جہانگیر کا دور آتا ہے۔ جہانگیر کا عدل مشہور ہے۔ اس نے محل کے باہر ایک زنجیر لگادی تھی جس کو کھینچ کر کوئی بھی فریادی بادشاہ کی اونگھ خراب کرسکتا تھا۔ لیکن ہمارے ایوان صدر کے باہر تو زنجیریں اس طرح سے کھینچ دی گئی ہیں کہ کوئی فریادی ان کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ضیافتوں کو یحییٰ خان کی ضیافتوں کے ساتھ ملایا جاسکتا تھا کہ ان میں شریک شخصیات اور ان ضیافتوں میں لی جانے والی ہچکیوں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ لیکن حالیہ ضیافت کو جہانگیر کی ضیافتوں کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا کہ اس میں رمضان کا تقدس میزوں پر رکھے گلاسوں میں سرخ مشروب مشرق، آم کے زرد جوس اور انگور کے خوشوں سے نمایاں کیا گیا تھا۔
جہانگیر کے بعد مغل شہنشاہ شاہ جہاں کا دور آتا ہے۔ یہ شہنشاہ انجینئر بادشاہ کے نام سے مشہور تھا۔ لال قلعہ، دہلی کی جامع مسجد اور ٹھٹھہ کی شاہ جہانی مسجد اسی نے بنوائی۔ اس نے بادشاہی مسجد لاہور کا سنگ بنیاد رکھا۔ لاہور میں باپ کا بقرہ بنوایا اور آگرہ میں بیوی کی قبر پر تاج محل بنواکر ہندوستان کی سیاحت کی آمدنی کا سامان کر گیا۔
کیا اس ضیافت کا ناطہ اورنگ زیب عالمگیر سے جوڑا گیا ہے؟ لیکن اس خیال کے آنے کے ساتھ ہی اورنگ زیب کی سادگی کی زندگی کا بیان سامنے آگیا کہ وہ قرآن پاک کی کتابت اور ٹوپیاں سی کر جو رقم حاصل کرتا تھا اسی سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ ان کی ملکہ گھر کاکھانا خود پکاتی تھیں۔ اس لئے اورنگ زیب ایسی ضیافتیں کہاں کرسکتے تھے؟
توکیا اس افطار ضیافت کے مینو کارڈ میں آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جولال قلعے میں مشاعرے منعقد کروایا کرتے تھے۔ ان شاعروں میں غالب جیسے رند ہی شرکت کیا کرتے تھے۔ جن کے قصیدے بھی بہت مشہور ہیں وہ ایک ہی قصیدے کو مختلف لوگوں کے نام کردیا کرتے تھے ان شاعروں کو ان مشاعروں میں جام کی شکل بھی دیکھنا نصیب نہ ہوتی تھی۔ اسلام آباد کی اس ضیافت کی تصویر دیکھی تو کئی غالب نظر آئے۔ ان میں ذوق بھی تھے جن کو استاد شاہ کا مقام حاصل تھا۔ ایوان صدر کی ضیافت کا ناطہ مغل شہنشاہ کی ضیامفت کے ساتھ جوڑنے والوں کے ذہن میں اگر مغل شہنشاہ سے مراد بہادر شاہ ظفر تھے۔ تو یہ ان کی کوتاہ نظری ہی ہے کیونکہ بہادر شاہ ظفر نے کئی ایسے شعر کہے ہیں جن کا لوگ آج بھی حوالہ دیتے ہیں اور بہادر شاہ ظفر نے اپنے کسی شعر کے بارے میں کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ میرا شعر نہیں ہے۔ ان کے چند شعر حاضر ہیں۔

ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا، ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آسکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں
کتنا ہے بدنصیب ظفر، دفن کے لئے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
تازہ ترین