• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذوالفقار مرزا بمقابلہ عزیز آبادی!,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی,,,,کیا طبل جنگ بچ چکا؟

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی آتش بیانی بے محل نہیں ہو سکتی۔ یوم تاسیس پر جلسہ عام سے خطاب کے دوران ایم کیو ایم پر تندوتیز حملوں کے فوراً بعد خاص طور پر ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کر کے 12 مئی کے یوم خون رنگ کی تحقیقات کا مطالبہ اور ساڑھے تین ہزار فوجداری مقدمات کا دفتر کھولنے کا اعلان، یقینا کسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ کیا ذوالفقار مرزا کے یوں خم ٹھونک کر سامنے آنے اور ایم کیو ایم کو للکارنے کا فیصلہ صدر زرداری کے ایماء کے بغیر ہی کر لیا؟ اگر ایسا ہی تھا تو سندھ کے وزیراعلیٰ کو پہلو میں بیٹھ کر اس پریس کانفرنس کو سرکاری توثیق عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن کیا یہ سنگ زنی کا آغاز ذوالفقار مرزا کی طرف سے ہواہے؟ کیا عین پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر ایم کیو ایم کے دانشور شاعر مصطفی عزیز آبادی کی نظم کا شائع ہونا محض اتفاق ہے اور اسے شاعرانہ تخیل آرائی قرار دے کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ مصطفی عزیزآبادی لندن میں مقیم ہیں۔ ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو لندن سیکرٹریٹ سے وابستہ ہیں اور جناب الطاف حسین سے قربت کا اعزاز رکھتی ہیں۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ مصطفی عزیز آبادی نے یہ نظم ایک محدود مشاعرے میں اپنے قائد کو نہ سنائی ہو اور اسے منظر عام پر لانے کی اجازت حاصل نہ کی ہو۔ ذرا قند مکرّر کے طور پر اس نظم کے آخری تین بند ایک دفعہ پھر پڑھئے اور فیصلہ کیجئے کہ کیا لندن کے شاعر ِخوش بیان کا حملہ ذوالفقار مرزا کی للکار سے کہیں زیادہ زہرناک نہ تھا۔ فرماتے ہیں۔
اصول وظرف سے کیا کام ان کو
فقط دولت ہو جن کا دین وایماں
ہیں جن کے واسطے کیڑے مکوڑے
غریبی میں سسکتے روتے انساں
ہے جو مشہور، رہزن سارے جگ میں
وہ بن کے آج رہبر آگیا ہے
سنبھل جاؤ دسمبر آگیا ہے
دیا تھا جس نے مشکل میں سہارا
اسی کو داغ رسوائی دیا ہے
دیئے جس نے بھروسے کے خزانے
اسے ہر گام پر دھوکا دیا ہے
جسے سمجھا گیا تھا دوست اب وہ
لئے ہاتھوں میں خنجر آگیا ہے
سنبھل جاؤ دسمبر آگیا ہے
کہاں تک اب رفیقانِ چمن بھی
تمہارے درد کے رشتے نبھائیں
یہی بہتر ہے سب کچھ بھول کر ہم
اب اپنے راستوں کو لوٹ جائیں
جہاں پہ زہر بن جائے رفاقت
سفر میں اب وہ منظر آگیا ہے
سنبھل جاؤ دسمبر آگیا ہے
مصطفی عزیز آبادی لندن میں قیام، ایم کیو ایم سیکرٹریٹ سے وابستگی اور قائد تحریک سے قربت کے باعث تحریک کے مستند ترجمان خیال کئے جاتے ہیں اگر قافیہ ردیف کی شعری نزاکتوں اور حسن بیان کی شاعرانہ رنگینیوں سے صرفِ نظر کر لیا جائے تو جناب عزیز آبادی کے کلام کا سلیس اردو میں خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ”جو لوگ دولت ہی کو اپنا دین اور ایمان خیال کرتے ہیں ان کا کوئی ظرف ہوتا ہے اور نہ وہ کسی اصول پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غربت کا شکار روتے بلکتے انسانوں کو کیڑے مکوڑے خیال کرتے ہیں۔ کیا ستم ہے کہ جو شخص ساری دنیا میں ڈاکو کے طور پر جانا جاتا ہے آج وہی ہمارا رہبر بن گیا ہے۔ جن لوگوں نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا، اس کی مدد کی، انہی لوگوں کے ماتھے پر رسوائی کا داغ لگا دیا گیا، جس نے اعتماد اور بھروسے کے خزانوں سے مالا مال کیا، اسے قدم قدم پر دھوکہ دیا گیا۔ جسے ہم نے اپنا دوست خیال کیا تھا، وہی ہاتھ میں خنجر لئے مدمقابل آگیا ہے۔ اے چمن کے رفیقو! ہم کہاں تک درد کا یہ تعلق نباہتے جائیں۔ اب تو یہی بہتر ہے کہ سب کچھ بھول بھال کر ہم اپنی اپنی راہوں پر لوٹ جائیں۔ اب سفر کا وہ فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے۔ جہاں دوستی، دوستی نہیں رہتی، زہر بن جاتی ہے۔ دسمبر کا مہینہ آرہا ہے، سو سنبھل جاؤ۔“
سچی بات یہ ہے کہ میں مصطفی عزیز آبادی کی شاعری سے زیادہ واقف نہیں لیکن ان کی اس نظم سے ان کی قادر الکلامی کا اندازہ ہوتا ہے بلاشبہ وہ عمدہ شاعر ہیں جنہیں اپنی فکر کو نہایت خوبصورتی سے شعری جامہ پہنانے کا ملکہ حاصل ہے۔ خاص طور پر حالات حاضرہ کی سیاسی کروٹوں کو شاعرانہ اسلوب دینا آسان نہیں ہوتا۔ یہ حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، آغا شورش کاشمیری، فیض احمد فیض اور حبیب جالب کی روایت ہے۔ میری لندن تک رسائی ہوتی تو مصطفی عزیز آبادی کو خوب داد دیتا۔ انکی نظم کے معنی ومفہوم کی نہیں، ان کے شاعرانہ بانکپن کی۔ الطاف حسین بھی سخن فہم ہیں اور مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اپنے شاعرِ خوش نوا کی تخلیق کے معنی ومفہوم اور اسلوب کی خوب داد دی ہو گی۔
دونوں طرف بھڑک اٹھنے والی یہ آگ کئی محرکات رکھتی ہے۔ تلخی بلدیاتی نظام سے شروع ہوئی ایم کیو ایم مشرف عہد کے نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے ، اُدھر چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم گیلانی کی زیرصدارت ایک اجلاس میں اس نظام کے خاتمے کی رائے دے چکے ہیں۔ صدر زرداری ایم کیو ایم کی دلداری کے لئے کوئی دوٹوک فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ ڈھیل دیئے جا رہے ہیں لیکن 31 دسمبر سے زیادہ رسّی بہرحال دراز نہیں ہو سکتی۔ این آر او پر ایم کیو ایم نے ایسا موٴقف اختیار کیاجس کی جناب زرداری کو ہرگز توقع نہ تھی۔ یہ بڑا کاری زخم تھا۔ زرداری صاحب شاعر تو نہیں لیکن بہت سے اچھے شعر انہیں یاد ہیں۔ ایم کیو ایم کا موٴقف سامنے آنے پر انہوں نے مخصوص دوستوں کی محفل میں کہا تھا #
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
ستم یہ ہوا کہ عوام اور میڈیا نے ایم کیو ایم کے اس موٴقف کا ساتھ دیا۔ پیپلز پارٹی تلملا کر رہ گئی اس کے پاس این آر او پر پسپائی کے سوا کوئی راستہ ہی نہ رہا۔ اب دفتر کھل گیا ہے عید قربان کے فوراً بعد این آر او دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جو کئی حیرتیں اور لاتعداد انہونیاں جنم دے سکتا ہے ۔مصطفی عزیز آبادی کی نظم اور ذوالفقار مرزا کی نثر، دونوں کو جوڑ کر پڑھا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صف بندی ہو گئی ہے اور طبل جنگ بجنے کو ہے۔
قائد تحریک الطاف حسین کی طرف سے عزیز آبادی کی نظم پر اظہار برہمی اور صدر زرداری کی طرف سے ذوالفقار مرزا کی سرزنش، لیپا پوتی کا وہ عمل ہے جو کچھ عرصہ جاری رہے گا۔ دونوں رہنما اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں عزیز آبادی اور ذوالفقار مرزا بھی اس ”برہمی“ اور ”سرزنش“ سے اچھی طرح آشنا ہیں۔ حقیقت اولیٰ صرف یہ ہے کہ معاملات ٹھیک نہیں۔ دسمبر آرہا ہے اور سردیوں کی رُت ہمیشہ ہجروفراق کی بڑی درد انگیز کہانیاں جنم دیتی ہے۔
تازہ ترین