آپ آف لائن ہیں
جمعہ10؍شعبان المعظم 1439ھ 27؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) سی ڈی اے انتظامیہ نے گزشتہ دس سالوں کے دوران مختلف ادوار میں پوسٹوں کی پرسنل اپ گریڈیشن کرانے والوں کیخلاف کاروائی شروع کر دی ہے۔ پہلے مرحلے میں45 افسروں کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں کہ کیوں نہ انکی تنزلی سابقہ گریڈ میں کر دی جائے۔ یہ کارروائی ایک انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر کی جا رہی ہے جس کے سربراہ سابق ڈائریکٹر کیو ایس اعجاز احمد صدیقی تھے‘ جو تیس جون کو ر یٹائر ہو چکے ہیں۔ دیگر ممبران میں ڈائریکٹر پی آر مظہر حسین‘ آفتاب سلیم اور ارشد آفریدی تھے۔ کمیٹی نے شکایت کی ہے کہ انہیں متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ورنہ اصل تعداد بہت زیادہ ہے۔ تقریباً 1065افسروں اور ملازمین کی اپ گریڈیشن کی گئی یا کیڈر تبدیل کیا گیا۔ اس سے سی ڈی اے کو 20کروڑ روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ یہ کمیٹی ممبر ایڈمن یاسر پیرزادہ نے تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ غیرقانونی اپ گریڈیشن واپس کی جائے اور ان ترقیوں کو ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔ شعبہ ایچ آر نے قانونی تقاضا پورا کرنے کیلئے شوکاز نوٹس جاری کئے ہیں جس کے بعد ترقیاں واپس لی جائیں گی۔ متاثرہ افسروں اور ملازمین نے وکلاء سے مشاورت شروع کر دی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ کارروائی بلاامتیاز کی جائے۔ جن کی اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت ہوئی یا بورڈ

x
Advertisement

کی منظوری سے ہوئی ہے انکے کیسز کو الگ کیا جائے جبکہ ممبر ایڈمن یا چیئرمین سے منظوری لینے والوں کو الگ کیا جائے اور ایسے ملازمین جن کی اپ گریڈیشن سے دوسروں کی حق تلفی ہوئی ان کو منسوخ کیا جائے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں