جنگ مورخہ 25 مارچ کے ایک کالم میں پوٹوہار کی وجہ تسمیہ تحریر کی گئی ہے کہ راجہ پرتھوی راج جس کی راجدہانی اجودھیا تھی بابر نے جس کو شکست دی تھی۔ یہ راجہ جب پوٹوہار میں آیا تو وہاں پھول ہی پھول کھلے ہوئے دیکھے تو اپنی زبان میں اس کو پوتوہار کہا یعنی پھولوں والی جگہ، راجہ کو یہ جگہ بہت پسند آئی کیونکہ اس کا اپنا علاقہ ریگستانی تھا۔ اب یہ پوتوہار، پوٹوہار کہلانے لگا ہے۔
عرض ہے کہ بابر سے رانا سانگا کی لڑائی اجودھیا میں ہوئی تھی اجودھیا فیض آباد اودھ یوپی کا ایک شہر ہے جو دو آبے میں واقع ہے اور ایک سرسبز و شاداب علاقہ ہے۔
گورنر جنرل وارن ہیٹنگز جس کیلئے کمپنی بہادر کو لکھتے تھکتا نہیں تھا کہ اودھ میں مکھن کے پہاڑ اور شہد کی نہریں ہیں اس کو اپنی قلمرو میں شامل کیا جائے۔ 1856ء میں کمپنی بہادر نے تمام معاہدے اور ضابطے بالائے طاق رکھ کر اس علاقے کو اپنی قلمرو میں شامل کرلیا جو محرک غدر بھی ہوا۔ اجودھیا میں راجپوتوں کے ساتھ بابر کا جو معرکہ ہوا وہ ان کے لئے موت و زیست سے نبرد آزمائی تھی اس لئے ظہیر الدین بابر کی زندگی کے مختصر حالات بھی یہاں بیان کردینا مناسب ہوگا۔بابر کا والد عمر شیخ مرزا ترکستان میں ایک چھوٹی سی ریاست فرغانہ کا امیر تھا جب ایک دن یہ اپنے کبوتر خانے میں کبوتروں کو دانا کھلا رہا تھا اور ان کی غٹرغوں سے محظوظ ہورہا تھا کہ کبوتر خانے کی چھت اس پر آگری اور اس دنیا سے کوچ کر گیا۔بابر ابھی کمسن ہی تھا یعنی تقریباً 14 یا 15برس کا ہوگا اس کے پھوپھا بہرم خان نے اس کو مستند نشین کیا مگر بابر کے چچا نے اس کی ریاست پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا بابر نے فوج کشی کرکے پھر ریاست پر قبضہ کرلیا یہ عمل 7مرتبہ دہرایا گیا۔بابر کو آخری معرکہ میں بری طرح شکست ہوئی اور فرغانہ سے ہی بھاگنا پڑا اس کے ہم رکاب صرف بیرم خاں دوسرے 4جانثار اور تھے ہندوکش کا سلسلہ شدید برف باری گھوڑوں نے بھی چلنے سے انکار کردیا کوئی جائے پناہ نہیں باہر رکنے میں برف میں ہی دفن ہوجانے کا خطرہ ۔ تلاش بسیار کے بعد ایک چھوٹا ساغار دکھائی دیا جس کا دہانہ اتنا چھوٹا تھا کہ سر کے بل رینگ کر ہی اندر جایا جاسکتا تھا جانثاروں نے بابر سے استدعا کی کہ آپ اندر چلے جائیں ہم باہر انتظار کریں گے صبح زندہ رہے تو آپ کے ہم رکاب ہوں گے ورنہ آپ اپنی قسمت آزمایئے گا۔بابر اسم بامسمیٰ مشیر دل ترک تھا اس نے اکیلے اندر جانے سے انکار کردیا کہ مریں گے تو ساتھ ہی مریں گے۔ جانثاروں نے نیزوں سے غار کو چوڑا کرنے کی سعی شروع کی تو غار کافی کشادہ اور بڑا نکلا کہ مع گھوڑوں کے اندر چلے گئے۔مختصر یہ کہ بیرم خاں بابر کو شاہ ایران کے پاس لے گیا اور مدد کی استدعا کی شاہ نے 600 کمانڈوز مع ایک سالار کے مرحمت کئے۔ بابر نے اپنے قدم کابل میں جما ہی لئے تھے ہندوستان پر حملے شروع کئے۔رانا سانگا ہندوستان کے راجاؤں میں بڑا راجہ تھا اس نے تمام راجاؤں کو اپنی مدد کے لئے بلوالیا تھا ہزاروں سپاہی ہر راجہ کے ساتھ اجودھیا میں جمع ہوگئے یعنی ایک کا دس سے مقابلہ تھا بابر کو کافی تشویش تھی۔
بابر نے اپی جانماز بچھائی نماز پڑھی تو توبہ کی دعا کی کہ فتح ہو اور اپنا مہ خانہ چکناچور کردیا سونے چاندی کے جام و قدحے توڑ ڈالے اور خیرات کردیئے پھر اس نے کبھی شراب نہیں پی۔ مختصر یہ کہ میمنہ سے ایرانیوں نے قلب سے بابر نے میسرہ سے بیرم خان نے حملہ کردیا راجپوتوں کے کشتوں کے پشتے لگادیئے سروں کے پہاڑ بنادیئے۔بابر نے فتح کی خوشی میں کابل کے ہر شہری کو ایک اشرفی اور ایک خلعت تحفہ میں بھیجا۔ شاہ کو تحفہ تحائف ارسال کئے ایرانی فوج کو انعام و اکرام سے نوازا۔اجودھیا میں بہ جذبہ تشکر اور بندگی مسجد بنوائی۔ جو ایڈوانی و دیگر کے اکسانے پر انتہا پسند ہندوؤں نے شہید کردی کہ یہاں رام مندر تھا جس کو گرا کر بابر نے مسجد بنوائی تھی۔رام چندر کوئی حقیقی تاریخی شخصیت نہیں ہیں نہ ہی ان کا باپ دشرتھ نام کا کوئی راجہ اجودھیا میں تھا یہ رشی بالمیکی کی سنسکرت زبان میں شاہ نامہ کے طرز کی ایک تخیلی پرواز ہے جس کو بعد میں تلسی داس جی نے ہندی میں منتقل کیا بعدازاں ہندو رام کو اوتار ماننے لگے۔
ہندوستان سوائے چند ادوار کے مختلف راجاؤں کی ریاستوں میں بٹا رہتا تھا۔ جے چند قنوج کا راجہ تھا اس سے پرتھوی راج کی چشمک رہتی تھی۔ جے چند کی خوبصورت بیٹی سے راجہ پرتھوی راج کے کٹنیوں کے ذریعہ رابطے تھے راجہ بھی خوبصورت و بہادر مشہور تھا جب جے چند نے اپنی بیٹی کے برکے چناؤ کے لئے سوئمبر منعقد کیا تو ہر راجواڑے کو دعوت دی سوائے راجہ پرتھوی راج کے اور اس کا مجسمہ بنواکر سوئمبر کی جگہ کے دروازے پر دربان کی شکل میں کھڑا کرا دیا۔سوئمبر والی جگہ میں ہر راجہ خوب بن ٹھن کے اپنی اپنی نشست پر بیٹھا ہوا تھا۔ سنجوکتا سوئمبر مالا ”ہار“ لئے ہوئے آئی سب راجاؤں کے دل دھڑک رہے تھے نبض تیز چل رہی تھیں جب سنجوکتا کسی کی طرف آتی تو دل و جان سے واری ہونے کی شکل بناتا مگر جب وہ اس کے گلے میں ہار نہ ڈالتی اور دوسرے کی طرف جانے لگتی تو اپنی قسمت کو کوسنے لگتا یہاں تک کہ راجاؤں کی تمام نشستیں ختم ہوگئیں سنجوکتا نے کسی کے گلے میں ہار نہ ڈالا ۔ اب صرف پھاٹک نظر آرہا تھا اور وہاں دربانوں میں ایک پرتھوی راج کا مجسمہ تھا سنجوکتا نے قدم بڑھا کر مجسمہ کے گلے میں ہار ڈال دیا۔ پرتھوی راج وہاں پر ایک سپاہی کے روپ میں اپنی مشکی گھوڑی لئے کھڑا تھا سنجوکتا کو اس پر چشم زدن میں بٹھایا اور یہ جا وہ جا سب منہ تکتے رہ گئے۔