آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میٹر ک خراب نتائج ،خیبرپختونخوا کے 184سرکاری اسکولوں کے پرنسپلز کو شو کازجاری

اپشاور(نمائندہ جنگ)میٹرک کے خراب نتائج دینے پرخیبرپختونخوا کے184سرکاری اسکولوں کے پرنسپلز کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے اورانہیں شوکاز جاری کردیاگیاہے کہ وہ وضاحت پیش کریں کہ ان کے اسکولوں کے خراب نتائج کیوں آئے ہیں اس امر کا انکشاف ایڈیشنل سیکرٹری سیکنڈری اینڈایلیمنٹری ایجوکیشن ارشدخان نے پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ کے روبروسوسائٹی فارایکسس ٹوکوالٹی ایجوکیشن کی جانب سے حیدرامتیازایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کے دوران کیا اس موقع پرعدالتی احکامات کی روشنی میں ایڈیشنل سیکرٹری سیکنڈری اینڈایلیمنٹری ایجوکیشن ارشد خان عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت میں رپورٹ میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ میٹرک کے خراب نتائج  لانے والے184سرکاری سکولوں کے پرنسپلز کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے ا ورانہیں نوٹس جاری کرکے شوکاذ مانگی گئی ہے کہ وہ وجوہات بیان کریں کہ ان کے سکولوں کے نتائج کیوں خراب آئے ہیں انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ 77فیصدسرکاری سکولوں کے نتائج کے تحت ان کے سوفیصد طلباء پاس ہیں جبکہ 89فیصد نجی سکول ایسے ہیں جن کے سوفیصد طلباء پاس ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کے 28فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی کی سہولت میسرنہیں ہے جبکہ19فیصدسکولوں کے بچوں کو

پینے کاصاف پانی میسرنہیں6فیصدسکولوں کی چاردیواری نہیں ہے اورسات فیصدسکولوں میں بیت الخلاء نہیں ہے انہوں نے بتایا کہ صوبے میں بیس فیصد بچے ایسے ہیں جن کی عمریں سکول جانے کی ہے تاہم وہ سکول نہیں جارہے ہیں اوران میں تقریبا10لاکھ لڑکیاں اور5لاکھ سے زائدلڑکے شامل ہیں جبکہ سکول نہ جانے والے بچوں میں بیشترافغانی ہیں ان میں ایسے بچے بھی ہیں جو معاشی حالت کے باعث سکول نہیں جاتے جبکہ 24فیصد ایسے بچے بھی ہیں جن کے والدین کی مرضی نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھجوائیں جس پرجسٹس قیصررشیدنے حکومتی رپورٹ کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ عدالت نے ان سے تفصیلی جامع رپورٹ طلب کی تھی جبکہ انہوں نے صرف شرح ظاہرکی ہے  اس موقع پر درخواست گذار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری سکولوں کادعوی ہے کہ نجی سکولوں کے طلباء سرکاری سکولوں کی جانب آرہے ہیں جبکہ نتائج اس کے برعکس ہیں سرکاری سکولوں کے نتائج خراب اورنجی سکولوں کے بہترہیں بعدازاں فاضل بنچ نے حکومتی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے صوبہ بھر کے تمام ای ڈی  اوز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنے علاقے کے تمام سکولوں کی جامع رپورٹ پیش کریں جس میں یہ بھی بتایاجائے کہ کتنے سکولوں میں عملے کی کتنی کمی ہے  اورصوبائی حکومت کو ہدایات جاری کیں کہ و ہ سکول جانے والے بچوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں اورانہیں سکول راغب کرنے کے لئے اقدامات کریں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں