• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چھوٹے چھوٹے فرعون....ذراہٹ کے…یاسر پیر زادہ

مجھے پرانی کہانیوں میں بیان کئے گئے افسانوی کردار بہت پسند ہیں جیسے سامری جادوگر ،ٹارزن،پائیڈ پائپر،عمر و عیار،رابن ہڈ،ہر کولیس،سند باد،رستم و سہراب وغیرہ وغیرہ۔ میں اکثر سوچتا ہوں ہے کہ کاش یہ کردار حقیقی ہوتے اور میں ان سے مل پاتا ۔سامری جادوگر کے خوفناک اور حیرت انگیز جادو دیکھتا ،ٹارزن سے زور آزمائی کرتا ،عمرو عیار سے فراڈ کرنا سیکھتا اور پھر فراڈ کی وہ رقم رابن ہڈ کی طرح غریبوں میں تقسیم کر کے خود سند باد کی طرح پوری دنیا کے سفر پر نکل کھڑا ہوتا ۔بظاہر یہ سب کچھ ناممکن لگتا ہے لیکن اگر ہم غور کریں تو آج کل کے دور میں ہمیں انہی کرداروں سے ملتے جلتے بلکہ ان سے بھی زیادہ حیرت انگیز لوگ حقیقی دنیا میں مل جاتے ہیں لیکن افسوس کہ ہم وہ دیدہ بینا ہی نہیں رکھتے جس سے ہم انہیں پہچان پائیں۔میرے خیال میں کرس اینجل آج کا سامری جادوگر ہے جو نہ صرف پانی پر چل سکتا ہے بلکہ لوگوں کے سامنے عورت کے دھڑ کو دو حصوں میں کاٹ کر بھی دکھا دیتا ہے ۔اسی طرح عمر و عیار ٹائپ کے فراڈیے تو اپنے ہی ملک میں بے شمار ہیں ۔ویسے یہ اور بات ہے کہ ان فراڈیوں نے اب پرانے انداز کی ٹھگی ختم کر کے کمپنیاں بنا کر لوگوں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔سند باد جیسے لوگوں کی بھی کمی نہیں کیونکہفی زمانہ تو ایک وزیر صاحب بھی سرکاری خرچ پر اتنا سفر کر لیتے ہیں جتنا سند باد نے تمام عمر نہیں کیا تھا۔اسی طرح باقی کرداروں کے حقیقی جوڑ بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں تاہم اس ساری تمہید کا مقصدایک ایسے کردار کا ذکر کرنا تھا جو افسانوی نہیں بلکہ حقیقی ہے اور کئی ہزار سال پرانا ہے ۔اس کا نام فرعون ہے۔
فرعون کا خصوصیت سے ذکر کرنے کی ایک خاص وجہ ہے کہ گو فرعون کو مرے ہوئے صدیاں گذر گئیں تاہم آج بھی اس کے بچے بچونگڑے ایک بڑی تعداد میں نہ صرف پیدا ہو رہے ہیں بلکہ مسلسل ان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ فرعون کے یہ بچے براہ راست ایسے انڈوں سے نکل رہے ہیں جن کی کوئی ماں نہیں ہے۔اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر دیکھ لیں ،آپ کو ہر جگہ کہیں نہ کہیں کوئی فرعون ضرور ٹکراجائے گا۔ واضح رہے کہ یہ فرعون رتبے اور قد میں اپنے مائی باپ اور” اوریجنل “فرعون سے کہیں کم ہیں تاہم اس کے باوجود ان میں اپنے ”مبینہ والد صاحب“ کی تمام تر خوبیاں بدرجہء اتم پائی جاتی ہیں ۔آسانی کے لئے ہم ان چھوٹے چھوٹے فرعونوں کی چند قسمیں یہاں بیان کر دیتے ہیں :
پڑھے لکھے فرعون:فرعون کی یہ قسم میری پسندیدہ ہے۔ اس قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جو کسی عام بندے سے کچھ زیادہ پڑھ لکھ جاتے ہیں ،ایک دو پھیرے باہر کے لگا لیتے ہیں ،اور پھر اپنی علمیت بگھارنے کے لئے دو چار انگریزی کتابیں بھی پڑھ ڈالتے ہیں تاکہ گفتگو کے دوران اگر مد مقابل کچھ زیادہ ہی شوخہ ہو رہا ہو تو اسے ان کتابوں کا حوالہ دے کر چپ کروایا جا سکے ۔بظاہر یہ کوئی ایسی باتیں نہیں کہ جن پر غرور کیا جاسکے اور دیکھنے میں بھی یہ لوگ بہت سلجھے ہوئے اور خوش لباس دکھائی دیتے ہیں لیکن ان ساری فرعونیت اس وقت کھل کر سامنے آجاتی ہے جب ان سے کم پڑھا لکھا یا کم رتبہ کوئی شخص سلام کر ے تو یہ ایسا منہ بناتے ہیں جیسے انہیں گالی دی گئی ہو۔
مذہبی فرعون: پچھلے سال میرے ایک دوست کو حج کی سعادت نصیب ہوئی ۔حج فلائیٹ کے دوران اسے پتہ چلا کہ ایک بہت بڑے مبلغ بھی اپنے مریدین کے ساتھ حج کے لئے جا رہے ہیں ۔اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا ۔تاہم حج کے دوران جب میرے دوست نے اس مبلغ کی دنیا داری دیکھی تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔میرے دوست کے بقول ان مبلغ کے پاس لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا تاہم وہ ہر کسی سے اس کے سٹیٹس کے مطابق ملتے تھے ۔یعنی جب کوئی صاحب حیثیت بندہ ان سے ملنے آتا تو وہ خوش اخلاقی کا منبع بن جاتے ،کھڑے ہو کر گرم جوشی سے اس کا استقبال کرتے ،ہاتھ دبا کر مصافحہ کرتے ،انواع و اقسام کے میوہ جات سے اس کی تواضع کرتے اور رخصت کرتے وقت باہر تک خود چھوڑ کر آتے ۔اس کے برعکس اگر کوئی عام مسکین ٹائپ آدمی ان سے ملاقات کے لئے آتا تو وہ اس سے بمشکل اپنے ہاتھ کی تین انگلیاں آگے کر کے ہاتھ ملاتے اور پھر یوں لا تعلق ہو کر بیٹھ جاتے جیسے وہ شخص یہاں موجود ہی نہیں ۔حج سے واپسی پر میرے دوست نے ان کو مذہبی فرعون کا لقب دیا ۔
سیاسی فرعون:آج کل سیاسی فرعون بڑے ”ان“ ہیں ۔اگر آپ سڑک پر کوئی جھنڈے والی گاڑی دیکھیں ،جس کے آگے پیچھے کم از کم ایک یا دو گاڑیاں ہوں(تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے) جن میں مسلح افراد عوام کی طرف بندوقیں تانیں بیٹھیں ہوں تو سمجھ جائیں کہ گاڑی میں کوئی سیاسی فرعون جا رہا ہے ۔ویسے ذاتی طور پر میں ان کو فرعونوں کی مسکین کیٹگری میں ڈالتا ہوں کیونکہ گاڑیوں کے کاروان اور مسلح باڈی گارڈز کے حصار میں سفر کرنا واحد ایسی چیز ہے جو انہیں فرعونوں کے ساتھ بریکٹ کرتی ہے ورنہ فی زمانہ ان سے زیادہ مسکین مخلوق کوئی نہیں۔جس کا جب دل چاہتا ہے کسی بھی اخبار یا ٹی وی چینل میں انہیں لتاڑ دیتا ہے اور یہ بیچارے بھیگی بلی بنے سنتے رہتے ہیں ۔ان کے اختیارات، افسران استعمال کرتے ہیں (جن کا ذکر آگے آئے گا) جبکہ نام ان کا بدنام ہوتا ہے ۔یہی نہیں پھر ہر الیکشن میں ووٹ لینے کے لئے انہیں عوام کی منتیں بھی کرنی پڑتی ہیں ۔ انہیں لتاڑنے کی رہی سہی کسر عدالتیں پوری کر دیتی ہیں جہاں یہ سوائے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہنے کے اور کچھ نہیں کر سکتے ۔مجھے فرعونوں کی اس قسم سے دلی ہمدردی ہے ۔
سرکاری فرعون:فرعونوں کی یہ قسم بڑی خطرناک ہے اور یہ ہر سرکاری دفتر میں پائی جاتی ہے ۔اس قسم کے فرعون اپنے چہرے مہرے ،لباس ، چال ڈھال اور گردن میں سریے کی وجہ سے فوراً پہچانے جاتے ہیں۔پڑھے لکھے فرعونوں کی طرح ،انہیں بھی قابلیت کا ہیضہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ کبھی کبھی بیماربھی لگتے ہیں ۔ ان فرعونوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنی فرعونیت کا اظہار مذہبی فرعونوں کی طرح ہر بندے کا سٹیٹس دیکھ کر کرتے ہیں ۔عام بندوں کو دیکھ کر ان کی گردن میں فٹ سریا دو انچ مزید لمبا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا حلیہ مضحکہ خیز ہو جاتا ہے جبکہ اپنے افسر کے سامنے ان کا سریا موم کی طرح پگھل جاتا ہے کیونکہ دوسری طرف ان کے افسر کی گردن میں فٹ سریا چار انچ لمبا ہو جاتا ہے ۔میرے خیال میں یہ سرکاری فرعون مارکیٹ میں سریے کے سب سے بڑے خریدار ہیں ۔
بہت چھوٹے فرعون:یہ فرعونوں کی ایک اور قسم ہے ۔سیاسی فرعونوں کی طرح یہ بھی خاصے مسکین واقع ہوئے ہیں۔در حقیقت یہ فرعون عام عوام میں سے ہیں ۔ہر وہ شخص جس کے پاس تھوڑا بہت اختیار ہے ،ایک چھوٹے سے فرعون کا روپ دھار لیتا ہے اور پھر اس اختیار کو اس وقت تک استعمال کرتا ہے جب تک اگلا بندہ زچ نہ ہو جائے ۔اس قسم کافرعون بننے کے لئے کسی عہدے کی ضرورت ہے اور نہ کسی پروگرا م کا اینکر بننے کی ،ایک چپڑاسی بھی اپنی کرسی پر فرعون بن سکتا ہے بشرطیکہ اسے اپنا اختیار استعمال کرنا آتا ہو۔چونکہ یہ فرعون کی سب سے بے ضرر اور چھوٹی قسم ہے لہذا اسے مزید ڈسکس کرنے کی ضرورت نہیں۔
میری اتنی حیثیت تو نہیں کہ ان تمام فرعونوں کوکوئی مشورہ دے سکوں البتہ ان کے لئے حضرت علی کا ایک قول ضرور یہاں درج کر سکتا ہوں جس سے شائد انہیں کوئی ہدایت مل سکے ۔آپ نے فرمایا ”دولت ، طاقت اور اختیار ملنے کے بعد لوگ بدلتے نہیں ،صرف بے نقاب ہوتے ہیں ۔“خدا ہمیں تمام قسم کے فرعونوں سے محفوظ رکھے،آمین۔
تازہ ترین