• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سستا خون اور مہنگا پانی .... سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیرخان

سستا خون اور مہنگا پانی ایک بہت پرانی کہاوت ہے مگر اس کا صحیح ظہور کربلا کے واقعہ میں ہوا۔ جب یزیدی فوج نے نواسئہ رسولﷺ حضرت امام حسین اور ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو کربلا کے میدان میں گھیر کر پانی بند کر دیا اور پیاس کا عذاب نازل کر دیا۔ حضرت عباس بچوں کوپیاس سے تڑپتا نہ دیکھ سکے اور تمام خطرات کو نظر انداز کرکے دریا کی راہ لی۔ ظالموں نے آپ کو نر غہ میں لے لیا اور حملہ کر کے آپ کے ہاتھ کا ٹ دیے۔آپ نے مشکیزہ کو دانتوں سے پکڑ لیا جس کو مشہور مرثیہ گو میرا نیس # نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
”مشکیزہ تھا کہ شیر کے منہ میں شکار تھا“
یہ مصیبت آج بھی ہے اور ہمارے ملک پر مکمل طور پر یہ بات صادق آتی ہے ۔ ضروریات زندگی نا پید تو نہیں لیکن غریب اور کم آمدنی والے عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔ یہاں یہ روایت بن گئی ہے کہ جو چیز بھی ذرا کم قیمت پر نظر آئے اور عوام کی بڑی تعداد اس کی جانب راغب ہو تو منافع خوروں کی عقابی نظریں اس کو بھانپ لیتی ہیں ۔ اس کا جعلی قحط پیدا کردیتے ہیں اور پھر بہت زیادہ قیمت پر بازار میں لے آتے ہیں۔ عوام نے زندہ تو رہنا ہے وہ کسی نہ کسی طرح پیٹ کاٹ کر یہ اشیاء خریدنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ تازہ ترین مثال چینی کی ہے۔ ستائیس روپیہ سے چالیس پینتالیس روپیہ فی سیر اور اب تقریباََ ستر روپیہ فی سیر بک رہی ہے۔ جب غریب لوگوں نے مرغی کو سستا سمجھ کر کھانا شروع کیا تو اس کی قیمت بھی ان کی دسترس سے باہر ہو گئی۔ گائے کا گوشت اور بکری کا گوشت تو اب صرف امیروں کی عیاشی کے لئے رہ گئے ہیں۔

پرانے زمانے میں غریب قانع ہوتے تھے اور ان کو یہ کہنے میں شرم نہیں آتی تھی کہ اللہ کا شکر ہے دال روٹی مل جاتی ہے، گزارہ ہو جاتا ہے۔ اب تو دال بھی سو روپیہ فی کلو ہوگئی ہے اور سبزی فروشوں نے اب کلو گرام کے بجائے ایک پاؤ کی قیمت بتانا شروع کر دی ہے کہ گاہک خوفزدہ ہو کر بھاگ نہ جائے اور پھل تو اب عدد کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔
یہاں اشیائے خوردونوش کا ذکر ہو رہا ہے تو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مختلف قسم کے گھی، تیل بنانے والے انسانی نفسیات سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ روز ٹی وی پر لا تعداد اشتہارات دکھا ئے جاتے ہیں اور یہ مختلف تیلوں اور گھی سے تیار کردہ ”لذیذ “ کھانوں سے سجائے جاتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ دو تین افراد کھانے کی میز پر بیٹھے ہیں اور آٹھ دس قسم کے کھانوں سے بھری بڑی بڑی ڈشیں میز کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہاں موجود افراد مزے لے لے کر اپنے پلیٹ بھر بھر کر یہ چیزیں کھا رہے ہیں۔ آپ ذرا تصور کریں ان غریب اور کم دسترس والے عوام کی جن کو بمشکل ایک وقت روکھی روٹی بھی مل جائے تو خوش قسمت ہیں ۔ مجھے یہ اشتہارات دیکھ کر بے حد دکھ ہوتا ہے اور اشتہار بنانے والوں کی بے حسی پر سخت تعجب ہوتا ہے۔ خدارا اس قسم کے اشتہارات بند کیجئے یہ غریبوں کی غربت کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔
سبزی ، گوشت ، دال وغیرہ کی گرانی کی تو بات ہو گئی آئیے ان سے بھی زیادہ زندگی کی ضرورت کی چیز یعنی پانی کی بات کرتے ہیں۔ اس کا یہ حال ہے کچھ تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور کچھ واٹر بورڈ کی مہربانی سے نلکوں میں پانی نہیں آتا اور غریب عوام ہاتھوں میں بالٹیاں اور کنستر لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ سب کا انحصار ٹینکرز کے پانی پر منحصر ہے جو مافیا کنڑول کرتا ہے اور پھر یہ پانی کس قسم کا ہوتا ہے وہ خدا ہی جانتا ہے یا ٹینکر والا۔ بہت سے غریب لوگ ٹیوب ویل کے ذریعے پانی نکال کر استعمال کرتے ہیں اور یہ عموماََ کھارا پانی ہوتا ہے یا پینے کے قابل نہیں ہوتا۔ لیکن ماشاء اللہ حیثیت دار لوگ مہنگی منرل واٹر کی بوتلیں بے دردی سے استعمال کرتے ہیں۔ ہر کام کیلئے یہی پانی استعمال ہوتا ہے۔بڑے بڑے فریج ان بوتلوں سے بھرے رہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد منرل واٹر ضروری نہیں کہ خالص ہی ہو۔ ٹی وی پر اکثر گندے نالوں اور جھیلوں سے یہ بوتلیں بھرتے دکھایا گیا ہے۔ بہرحال پینے والے نفسیاتی طور پر مطمئن رہتے ہیں۔
یہ تو صرف ہمارے ملک میں ضروریات زندگی یعنی روٹی، پانی وغیرہ کا ہے مگر اس ملک میں سب سے ارزاں ، پانی سے بھی ارزاں ، انسانی خون اور انسانی زندگی ہے۔ کوئی انسان جب کسی کام سے گھر سے باہر جاتا ہے تو یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سلامتی سے واپس آئے گا یا پھر اس کی لا ش آئے گی کیونکہ اس مملکت خداداد پاکستان میں اب انسانی زندگی اتنی ارزاں ہے کہ ایک دو نہیں بلکہ لاتعداد خطرات تاک میں لگے رہتے ہیں۔ پہلا خطرہ تو ٹریفک کا حادثہ ہے، گاڑی سے گاڑی کی ٹکر، بس کی ٹکر، بس کا الٹ جانا یا کھائی میں گر جانا روزمرہ کا معمول ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک دہشت گردوں کی کارروائی ہے جو حکومت، با اثر لوگوں اور اپنے مخالفین سے ناراض ہوکر گولی کا سہارا لیتے ہیں اور معصو م لوگوں کو بھی قتل کرنے سے نہیں جھجھکتے۔ اس سے بھی زیادہ خطر ناک و ہ کام ہے جس کو حکومت دہشت گردی کے انسداد کے نام سے اندرونی طورپر فوج یا پولیس سے کرواتی ہے۔ اس میں لوگ اپنے مخالفین کو دہشت گرد بتا کر راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔اسی کی زیادہ بہتر کارروائی ڈرون حملے ہیں۔ یہاں ایک غیر ملک جارحانہ حملے کر کے ہماری سرحدوں کی دھجیاں اڑا کر ہمارے شہریوں کو قتل کرتا ہے اور حملہ کے فوراً بعد بیان آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ اتنے غیر ملکی(ملکوں کے نام بھی لئے جاتے ہیں) دہشت گرد مارے گئے۔ جب حقائق سامنے آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مقتول سب بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے تھے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور کھلے عام جاری ہے اور وہ لوگ جو حلف اٹھاتے ہیں کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے جان دے دیں گے اس میں اس جارحانہ قوت کے مدد گار و حامی ہیں۔ بہتریہ ہے کہ ہم اس حلف کی عبارت بدل دیں اور لکھ دیں کہ ہم حکمرانوں کے احکام کی بلا حیل و حجت تعمیل کریں گے۔
ان ہلاک کردینے والے ذرائع کی تباہی کافی نہیں تھی کہ ایک اور مہلک شعبہ غارتگری نکل آیا جس کا نام انھوں نے ٹارگٹ کلنگ یعنی قتل ہدف رکھ دیا ہے ۔بد قسمتی سے یہ پاکستان کے روشنیوں سے بھر پور اور زندہ دل شہر کراچی میں پورے زور و شور سے جاری ہے اور وہاں مقیم تین بڑے طبقے یا پارٹیاں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی مل کر حکومت کر رہے ہیں اور تقریباً اسّی فیصد عوام کی نمائندگی کرتے ہیں مگر کراچی میں لاتعداد لوگ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوچکے ہیں اور ہر پارٹی دوسرے پر الزام لگاتی ہے۔ حقیقتاً مرنے والے اب بھی غریب ، بے سہارا لوگ ہیں ، تینوں پارٹیوں کے لیڈروں میں سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا۔ قتل صرف زبان اور صوبہ کی بنیاد پر ہورہے ہیں۔ ہم حضرت عمر  یا حجاج کی آمد کی خواہش یا تمنا نہیں کر سکتے مگر جنرل نصیر اللہ بابر بھی چند ماہ میں امن و امان قائم کرسکتے تھے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اکثر بے چارے لاوارث ، لا پتہ ، غریب لوگ مارے جاتے ہیں اور ہر پارٹی ان کو اپنا مقتول بنا کر اپنے ”شہیدوں “ کی تعداد بڑھا بڑھا کر بتاتی ہے۔ انتظام ، امن و امان اور سکیورٹی مہیا کرنے والے تمام ادارے ان ہی حکومتی پارٹیوں کے ماتحت ہیں۔ روز میٹنگز ہوتی ہیں، کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں مگر نتیجہ صفر۔ کوئی قاتل نہیں پکڑا جاتا، ٹی وی پر لوگ فائرنگ کرتے دندناتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں مگر پکڑے نہیں جاتے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر پارٹی اپنے غنڈوں اور قاتلوں کی سربراہی کر رہی ہے اور انھوں نے اپنے اپنے کمانڈو گروپ بنا رکھے ہیں جو غیر قانونی اور ناجائز اسلحہ سے لیس ہیں۔
اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو مسلمان کے خون کی حیثیت کئی مواقع پر پانی کی حیثیت یا قیمت سے بھی کم ظہور پذیر ہوئی ہے۔سب سے پہلے جب خوارزم شاہ نے چنگیز خان کے سفارتی نمائندوں کو سفارتی آداب و اصول کے خلاف قتل کردیا تھا تو چنگیز خان نے اسلامی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور تاشقند ، سمر قند، بخارا سے لے کر بغداد تک تباہی پھیلا کر لاکھوں مسلمانوں کو بھیڑ بکری کر طرح کاٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الظہیر بیبرس کو نجات دہندہ بنا کر بھیجاجس نے منگولوں کو شکست دے کر مسلمانوں کا قتل عام روکا۔ اس سے پیشتر جنگ جمل اور جنگ صفین میں مسلمانوں نے خود ہی مسلمانوں کا خون پانی سے ارزاں کردیا۔ بیت المقدس پر قبضہ کے وقت عیسائیوں نے تقریباً اسیّ ہزار مسلمان گاجر مولی کر طرح قتل کر دیے۔ تیمور ، احمد شاہ ابدالی، نادر شاہ نے دہلی میں مسلمانوں کا خون پانی سے سستا کر دیا تھا اور ان کی اس حرکت سے ہی مسلمان اتنے کمزور ہو گئے کہ بعد میں انگریزوں نے باآسانی قبضہ کر لیا۔ ماضی قریب میں 1857کی جنگ آزادی اور تقسیم ہند دو ایسے واقعات ہیں کہ جہاں مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بے دردی سے قتل ہوئے اور یہاں بھی مسلمانوں کا خون پانی سے ارزاں ہو گیا تھا۔ اور موجودہ دور میں ہمارے اپنے ملک میں سوات ، وزیر ستان وغیرہ میں اور فلسطین میں بھی مسلمانوں کا خون اب پانی سے ارزاں ہے۔ خدا رحم کرے اب مستقبل قریب میں ہمیں اور کیا دیکھنا ہے یہ وقت ہی بتلائے گا۔






تازہ ترین