لندن (مرتضیٰ علی شاہ) لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں بشمول کیپٹن (ر) صفدر کے وارنٹ گرفتاری موصول ہوگئے جوکہ فی الوقت حسن نواز کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں قیام پذیر ہیں۔ دی نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ حسن، حسین اور مریم نواز اور صفدر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ’’فیکس اور پارسل‘‘ سے بھیجے گئے تھے جبکہ پاکستان ہائی کمیشن کے افسران نے پاکستان کے دفتر خارجہ سے ’’وصولی‘‘ کی تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وارنٹ گرفتاری پی آئی اے کی پرواز سے ایک سفارتی بیگ میں آئے اور دونوں ذریعوں سے وصول کر لئے گئے۔ تاہم پاکستان ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے وارنٹ گرفتاری وصول ہونے کی سرکاری طور پر تصدیق سے انکار کر دیا۔ ترجمان نے اس ضمن میں سوال پر جواب دیا ’’نوکمنٹ‘‘۔ ذرائع نے بتایا کہ ہائی کمیشن پر ہر ملزم کے لئے وارنٹس کی دوکاپیاں موصول ہوئی تھیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک سینئر سفارت کار یہ سمنز ذاتی طور پر ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر پہنچائیں گے جبکہ رپورٹ بھیجے جانے تک ملزمان کو وارنٹس نہیں دیئے گئے تھے۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے استقبالیہ پر ایک شخص24گھنٹے کی بنیاد پر موجود ہوتا ہے تاہم اسی بلاک میں موجود درجنوں فیلٹس تک کوئی براہ راست رسائی نہیں جن میں سے چار فلیٹس پاناما ٹرائل تنازع کا مرکز ہیں۔ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ چاروں ملزمان میں سے ایک نے ان سمنز کی وصولی کی رسید پر دستخط کر دیئے ہیں یا نہیں۔
سمنز پر دستخط نہ ہونے کی صورت میں یہ ٹیکنیکل طور پر یہ سمنز ’’غیروصول شدہ‘‘ تصور کئے جائیں گے اور یہ قانونی مسائل کا سبب بنیں گے۔ پاکستان ہائی کمیشن کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ برطانوی دائرہ قانون میں پاکستانی عدالت کے سمن کی تعمیل کرسکے۔ واضح رہے کہ نواز شریف بدھ کے روز نیب عدالت می ںپیش ہوگئے مگر جیو نیوز نے گذشتہ ہفتہ ہی یہ رپورٹ دے دی تھی کہ نواز شریف کے بچے احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوں گے جبکہ نواز شریف عدالت میں پیشی سے استثنیٰ کے خواہشمند ہیں۔ نیب عدالت یہ اعلان کر چکی ہے کہ شریف فیملی کے خلاف پارک لینز کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ اور عزیزیہ سٹیل ملز کے سلسلے میں سابق وزیراعظم پر2اکتوبر کو فرد جرم عائد ہوگی۔