آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان امریکہ کا پھرسے’’احترام‘‘ کرےگا؟

 پانچ برسوں سے دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسے کینیڈین خاندان کو آزادی دلانے کے کامیاب آپریشن کے محض چند منٹوں بعد بالآخر صدر ٹرمپ نہ صرف پاکستان کو مان گئے بلکہ معترف بھی ہوگئے بولے ’’پاکستان اور اس کے رہنمائوں کے ساتھ ہم بہت بہتر تعلقات کو فروغ دینے کی ابتدا کر رہے ہیں، میں مختلف محاذوں پران کے تعاون کا شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں‘‘ جی ہاں یہ وہی ٹرمپ ہیں جو صدر بننے سے پہلے اور صدر بننے کے بعد سے چند روز پہلے تک انتہائی نفرت آمیز انداز میں کہتے تھے کہ ’’دہشت گرد تنظیموں کے لئے پاکستان محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے امریکہ اس پر خاموش نہیں رہےگا،‘‘ یہاں تک کہہ گئے تھے کہ ’’سیدھی بات ہے، پاکستان ہمارا دوست نہیں!‘‘ شاید ان کا یہ یو ٹرن، خطے بالخصوص افغانستان میں پاکستان کی امن کوششوں اور دوستی کے نئے باب کھولنے سے عبارت ہے جبکہ ان کی نئی جنوب ایشیائی پالیسی کےجواب میں تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی وعسکری قیادت کے ہمت و حوصلے اور استقامت کے ساتھ امریکہ کے ڈومور کے مطالبے کو مسترد کیا جانا بھی اہم وبنیادی وجوہات میں شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اس جرات مندانہ جواب کے پیچھے مضبوط بازو چین کا سہارا ہے۔ میری رائے میں امریکہ افغانستان میں طویل عرصہ رہنے کے باوجود قدم جمانے اور امن کی کسی بھی کوشش

میں مسلسل ناکام رہا ہے جبکہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے اندر اور سرحدوں سمیت علاقائی امن کے لئے کلیدی کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں جو یقیناً امریکہ کے پالیسی سازوں کے لئے کڑا امتحان اور پاکستان کے بارے میں سخت دبائو کم اور بھارت نواز پالیسی پر نظرثانی کا سبب بھی ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی باامر مجبوری دفاعی امداد کا امریکہ پر انحصار تقریباً ختم کرنے کی حکمت عملی بھی کارگر ثابت ہوئی ہے اور اب پاک فوج نے امریکہ پر یہ بھی واضح کر دیا ہےکہ باہمی تعاون اور اعتماد ہی قیام امن کے لئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے لیکن سوال ابھر رہے ہیں کہ کیا واقعی امریکہ کا پھر یکایک فریفتہ ہونا کسی خلوص پر مبنی ہے یا پھر مطلبی و دھوکے باز یار کے مصداق ’’دکھاوے کا پیار‘‘، ملکی سیاسی قیادت اس سے مطمئن ہے یا نہیں لیکن نئے نویلے وزیرخارجہ کبھی پاکستان میں مشترکہ آپریشن کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں اور کبھی خود کو بہت طاقتور سمجھنے والے ’’جمہوری‘‘ وزیر داخلہ اپنی ہی فوج اور اس کے اہم اداروں کو للکارتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ اب کی بار جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کا وقت آن پہنچا ہے۔
ایک مرتبہ سابق امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر نے اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو سے کہا تھا ’’امریکہ کے دشمنوں سے زیادہ امریکہ کے دوستوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے‘‘ یہ سفارتی جملہ بے رحم وقت نے ہمیشہ ہی سچ ثابت کیا۔ تاریخ کا جائزہ لیں تو قیام سے ہی پاکستان کو بھارت کے منافقانہ و مخالفانہ رویوں سمیت ملک دشمنی پر مبنی حکمت عملی کا سامنا رہا ہے، افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ برطانوی راج سے آزادی کے بعد پورا خطہ امریکہ کی غلامی میں غرق ہوتا چلا گیا، کمیونسٹ نظام کے روسی توسیعی منصوبے کی ناکامی کے نتیجہ میں امریکی معاشی اور زور آور فوجی تسلط بھی قائم ہوا تو پاکستان اس کا پہلا نشانہ بنا۔ بدقسمتی تھی کہ آزادی کے بعد سے ہی بدترین معاشی حالات، تباہ حال انفراسٹرکچر، دگرگوں اقتصادی وتجارتی صورت حال اور جدید ہتھیاروں سے محروم کمزور فوجی طاقت سمیت مفلوک الحال سیاسی نظام امریکہ کی ’’جبری دوستی‘‘ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ صاحب بہادر کا مفاد ہواتو ’’باوردی جمہوریت پسند‘‘ مسلط کر دئیے گئے اور ناخلف قرار پائے تو موت وگرنہ ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنا دی گئی۔ خود امریکی نقاد لکھتے ہیں کہ ابتداء ہی میں لیاقت علی خان کا قتل ہو، تین بڑے طاقتور مارشل لا یا بھٹو، ضیاء اور بے نظیر بھٹو سمیت کبھی آنکھوں کا تارا رہنے والی اہم شخصیات کا قتل، کہیں نہ کہیں انکل سام کا ذکر ضرور آتا ہے۔ ان تحریروں اور تجزیوں کو مبالغہ آرائی یا سازشی تھیوری ہی مانا جائے تو بھی بعض زمینی حقائق ناقابل تردید ہیں، تاہم یہ سب اندرونی مدد کے بغیر کبھی ممکن نہیں ہوا۔ پاکستان ہی نہیں مسلم ریاستوں میں بادشاہت، شہنشاہیت اور آمریت کی حمایت اور منتخب جمہوری حکومتوں کو لمحوں میں اپاہج کرنے کا ہنر بھی کوئی اس ظالم محبوب سے سیکھے۔ سوڈان ہو یا ایسٹ تیمور، کویت ہو یا عراق، مصر ہو یا شام، سعودی عرب ہو یا ایران، امریکی مرضی کا نظام لانا کمزوری سے کہیں زیادہ مشغلہ دکھائی دیتا ہے، اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں ملٹی اسٹینڈرڈ ہے اور پاکستانی قوم تو اس کی ازل سے شناسا ہے، ایوب کے مارشل لا کو سند عطا کرنا ہو یا بھٹو کو ایک سویلین دور پورا کرنے کی چھوٹ دینا، اسٹرٹیجک مجبوری قرار دیا جاتا ہے، تبھی تو جوہری نظام کی بنیاد رکھنے کی دیر تھی کہ مسٹر بھٹو کو کہنا پڑا کہ سفید مست ہاتھی میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔ وفا شعار شریف آمر ضیاء بھی کیا انتخاب تھا، پہلے افغان جہاد (وار) کا قابل اعتبار کپتان اور دشمن روس کے حصے بخرے کرنے کا سرخیل، لیکن جیسے ہی جوہری نظام کو چھپ کرمضبوط بنانے کی چوری پکڑی جاتی ہے، سفیر کی قربانی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے، ایک امریکی سفارتکار نے یہی لکھا تھا کہ ’’ضیاءکا قتل ہمیشہ راز ہی رہےگا‘‘۔ پھر1990 میں نیو ورلڈ آرڈر کا آغاز ہوتا ہے، دو منتخب وزراء اعظم پر ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کا دبائو بڑھتا ہے نا کرنے پر سیاسی ابتری اور معاشی پابندیوں کا سخت جواب ملتا ہے، ایک وزیراعظم ایٹمی دھماکہ کرنے پر اقتدار ہی نہیں دیس نکالا سہتا ہے اور ایک خاتون وزیراعظم جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ نائن الیون کے بعد ایک اور ڈکٹیٹر آنکھ کا تارا اور قریبی اتحادی بن جاتا ہے، ’’اپنی‘‘ القاعدہ قابو سے باہر ہوتی ہے تو افغان جنگ پاکستان شفٹ کردی جاتی ہے۔ حیران کن امر ہے کہ بھارت افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی آڑ میں پاکستان کو غیر مستحکم کرے یا دہشت گرد کلبھوشن یادیوپکڑا جائے، اس جرم کی پکڑ تو دور کی بات الٹا سول نیوکلیئر ڈیل کر کے اس کو علاقے کا تھانیدار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
قارئین کرام ان بہت ساری کھٹی میٹھی باتوں میں چشم کشا اور بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ جوڑ توڑ اور لڑنے لڑانے کے کھیل تماشے کے دوران چین ایک نئی معاشی، اقتصادی اور جوہری طاقت بن کر ابھرتا ہے اور اپنے محل وقوع کے سبب پاکستان اس کی ضرورت بن جاتا ہے، اب غور کریں تو فرق صاف ظاہر ہے کہ جنگی و اسٹرٹیجک نوعیت کے حالات کے سبب امریکہ کا پاکستان سے وار فیئر اور ملٹری الائنس تھا جو ڈسٹرکٹو بھی تھا جبکہ محض اپنی نہیں پورے خطے کی معاشی،اقتصادی، تجارتی ترقی و خوش حالی کے سمجھوتے سمیت سی پیک کا گزرنا چین کا پاکستان سے اکنامک اور کنسٹرکٹو الائنس ہے۔ عسکری و معاشی نوعیت کے تعلقات کا فرق خطے میں ’’طاقت‘‘ کو بھی متوازن کررہا ہے۔ اس تیزی سے بدلتی صورت حال پر امریکہ کی گہری نظر اور پریشانی کا واضح اظہار امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے بیان نے کیا ہے، جس میں انہوں نے بھارتی موقف کی تائید میں کہا ہے کہ سی پیک کو متنازع علاقوں سے گزارنے کی اجازت نہیں دیں گے، امریکہ کا خیال ہے کہ سی پیک سے چینی بالادستی اور پاکستان کا کلیدی و مضبوط کردار خطے سمیت پوری دنیا میں معاشی و فوجی طاقت کا توازن بگاڑ کر رکھ دے گا اور گریٹر کنٹرول کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔ موجودہ پاک امریکا کشیدہ تعلقات کی طویل تاریخ کے باوجود نفرت ومحبت نے کئی نشیب وفراز دیکھے ہیں، دونوں ملک ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے پاکستان اکیلا اور مجبور تھا اور اب کی بھی بار ایک مضبوط دوست چین اس کے ساتھ کھڑا ہے، یہی نہیں روس بھی قربت کو بے قرار ہے، اس کے باوجود امریکی انٹیلی جنس کی بنیاد پرایک اہم ترین ملٹری آپریشن پاک امریکا بداعتمادی و سردمہری کی حدوں کو چھوتے تعلقات کو واپس گرمجوشی کی طرف لا رہا ہے، لیکن شاید اب یہ نیا موڑ کہیں زیادہ حساس ہے اور قابل فہم سمجھداری کا تقاضا کر رہا ہے، سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے سیکورٹی، اسٹرٹیجک معاملات اور خارجہ پالیسی کے امور پر ایک صفحے پر نہ ہونا اور سی پیک پر کریڈٹ گیم کا مقابلہ کسی ان دیکھی مشکل صورت حال سے بھی دو چار کر سکتا ہے جبکہ امریکہ کےساتھ تعلقات کی بحالی اور ’’احترام‘‘ کے رشتے کی بحالی دیرینہ دوست چین کی بے چینی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے لہٰذا برے وقت کے ساتھی کو تکمیل سفر کی خاطر اعتماد میں لینا از حد ضروری ہے کیونکہ چین پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا اور کھڑا ہے، یہی دونوں ملکوں کا مقدر اور وقت کی ضرورت بھی ہے، دوسری طرف امریکہ بہادر پر واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور مشکوک سرگرمیاں پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ اور ون بیلٹ ون روڈ پر تشویش بلاجواز ہے۔