آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس سال اگست میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امریکہ کی نئی حکمت عملی کے بارے میں پالیسی بیان دیا تو اس میں پاکستان کے بارے میں کچھ خاص اچھے کلمات ادا نہیں کئے۔ سولہ سال سے جاری افغان جنگ میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہونے کے بعد امریکی مایوسی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ امریکہ اب ہر وقت کسی Scapegoatکی تلاش میں رہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباََدھمکی آمیز انداز میں پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان میں دہشت گردوں، طالبان اور ایسے گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں کو برداشت نہیں کر سکتے جو خطے اور اس سے باہر خطرے کا باعث ہیں ۔۔۔ امریکہ کی جارحانہ حکمت عملی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوںمیں ہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ امریکی صدر کے اس بیان کے پیچھے کارفرما محرکات کے بارے میں ملک میں ایک نئی بحث شروع کی جاتی جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر آ ئندہ کا لائحہ عمل طے کرتے لیکن چونکہ ہمارے ہاں ملکی سا لمیت سے بھی زیادہ اہم موضوع موجود ہیں اسی لئے ہمارے میڈیا نے اس بارے میں کچھ زیادہ شور نہیں کیا۔ ویسے بھی خارجہ امور ٹی وی کی ریٹنگ کے معاملے میں پاناما اور کرپشن کو شکست نہیں دے سکتے۔
امریکی صدر کے بیان سے حکومتی حلقوں میں اگرچہ کافی

ہلچل ہوئی اور یکے بعد دیگرے مختلف وزراء نے اپنے گھر کو صاف کرنے کی ضرورت پر زور دینا شروع کر دیا۔ پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنا وزن اسی پلڑے میں ڈال دیااور اس سب سے ایسا تاثر ملا کہ پاکستان کی منتخب حکومت اپنے گھر کو صاف کرنے کی بات کر کے عالمی سطح پر یہ پیغام دے رہی تھی کہ پاکستان صدق دل سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر آمادہ ہے، لیکن داخلی طور پر حکومت کے اس موقف کے بارے میں کافی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ مخالفین نے حکومت کے وزراء کی جانب سے ایسے بیانات کو دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف قرار دے دیا۔ ایک ایسے وقت پر جب امریکہ ڈو مو ر کے مطالبے کی بجائے پاکستان کو یہ بتا رہا تھا کہ we will do it ourselves" "، ہمارے سیاستدان ہمیشہ کی طرح اپنے سیاسی مخالف کو نیچا دکھانے کی جستجو میں لگے ہوئے تھے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ تمام تر سیاسی اختلافات بھلا کر امریکہ کی ڈیمانڈ اور اپنے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر ایک نئی افغان پالیسی تشکیل دیتیں لیکن ہمیشہ کی طرح سیاسی مخالفت کو ترجیح دی گئی۔ شایدیہی وجہ ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو پایاکہ وزیراعظم اور دیگر وزراء جس گھر کی درستی کی بات کر رہے تھے اس کا دائرہ کار کہاں تک جائے گا؟ کیا صرف پاکستان کو لاحق خطرات کا باعث بننے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی یا پھر اٖفغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی کوئی آپریشن کیا جائے گا؟ کیا پاکستانی حکومت کا خیال ہے کہ داخلی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے عناصر کے خلاف کارروائی سے امریکہ کی تسلی ہو جائے گی؟
ان سب سوالات کے جواب تو ہمیں نہیں ملے مگر اسی مہینے رونما ہونے والے ایک واقعہ سے ہمیں حالات کو سمجھنے میں کافی آسانی پیدا ہو جائے گی۔ افواج پاکستان نے کرم کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے افغانستان میں اغوا کئے جانے والے ایک جوڑے اور ان کے بچوں کو ایک آپریشن کے دوران اس وقت بازیاب کروایا جب اغواکار انہیں افغانستان سے پاکستان منتقل کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئر کی گئی جس کی بنیادپر پاکستانی فوج نے اغواکاروں کے قبضے سے جوڑے کو آزاد کروا لیا۔ یہ ایک اہم کارروائی اس لئے بھی تھی کہ اس سے پتہ چلا کہ اگر پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کریں تو یقیناََ زیادہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس آپریشن کے کچھ عرصہ بعد ہی امریکی پریس میں ذرائع سے منسوب ایسی خبریں آنے لگیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایبٹ آباد میں آپریشن کرنے والے امریکی سیلز کو اسٹینڈ بائی رکھا گیا تھا اور اگر پاکستانی فورسز انٹیلی جنس کو استعمال کرتے ہوئے آپریشن نہ کرتیں تو امریکی سیلز خود ہی پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کر لیتے۔ اگر ان خبروں میں کوئی صداقت ہے تو یہ بہت خطرناک بات ہے، امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ پاکستانی حکومت کی مرضی سے کیے جاتے ہیں۔ ایبٹ آباد آپریشن بھی اگرچہ پاکستان کی سرحدوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا تھا لیکن اس کانشانہ بھی دنیا کا نمبر ون دہشت گرد اسامہ بن لادن تھا۔ لیکن موجودہ کیس میں تو اغوا کاروں میں کوئی اتنا بڑا نام نہیں تھا، پھر امریکہ کیوں ایسے جوڑے کو بازیاب کروانے کے لئے پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی تیاری کیے بیٹھا تھا ،جنہیں پانچ سال پہلے اغوا کیا گیا تھا؟
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیلز کو استعمال کرنے سے امریکہ کا مقصد دراصل پاکستان کو یہ پیغام دینا تھا کہ آنے والے دنوں میں اگر پاکستانی حکام امریکہ کے خدشات دور کرنے میں ناکام رہے تو امریکہ معاملات کو خود دیکھ لے گا۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ تاحال پاکستان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی فورسز کا یہ آپریشن اہمیت کا حامل اس لئے بھی ہے کہ اب امریکی پالیسی ساز اداروں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ ہے۔ کیا امریکہ ہمارے اس بیانیے کو تسلیم کرے گا اس کا علم تو آنے والے دنوں میں ہی ہو گا لیکن اہم بات یہ ہے کہ کم از کم پاکستانی حکومت اور ریاستی اداروں نے اب غالباً درست سمت میں بڑھنا تو شروع کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں