• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں پیداا ہونے والے بچوں کی شہریت!! امیگریشن قوانین…ڈاکٹرملک کے ساتھ

برطانیہ میں جنوری 1983ء سے قبل پیدا ہونے والے ہر بچے کو اس کی برطانیہ میں پیدائش کی بنیاد پر برطانوی شہریت دی جایا کرتی تھی۔ قانون کی اس سہولت ، جو کہ صرف بچوں کے لئے ایک خصوصی سہولت تھی، سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا گیا۔ اس قانون یا سہولت کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی والدین برطانیہ میں سکونت پذیر ہیں اور ان کے گھربچے کی پیدائش ہوتی ہے تو ایسے بچے کے پیدائشی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے برطانوی حکومت ایسے بچے کو برطانوی پاسپورٹ دے دیتی تھی لیکن معاملہ کچھ یوں ہوا کہ بیرون ممالک سے لوگ صرف بچے پیدا کرنے کے لئے برطانیہ آنے لگے۔ بچے کی پیدائش اور ہسپتال کے علاج معالجہ کی مفت سہولت لے کر یہ لوگ بچے اور اس کے برطانوی پاسپورٹ کے ساتھ اپنے ممالک کو واپس چلے جاتے یا پھر بچے کو برطانوی شہری ہونے کی بنیاد پریہاں رک جاتے چونکہ یہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولت کا صریحاً ناجائز فائدہ اٹھانے والی صورتحال تھی اس لئے حکومت نے یکم جنوری1983ء کو یہ قانون ختم کردیا۔ اس کے بعد برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی نقل کرتے ہوئے آئرلینڈ اور امریکہ نے بھی ایسے قوانین ختم کردیئے جن کے ذریعے بچوں کو پیدائش کی بنیاد پر سہولت ملتی تھی۔ اس کے بعد نیا قانون بنا جو یہ ہے کہ بچوں کو ان کے والدین کی بنیاد پر شہریت ملنے لگی ۔ یعنی اگر کسی بچے کے والدین کی برطانوی شہریت تھی یا ہے تو ان کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ برطانوی شہری کہلاتا ہے حتیٰ کہ برطانیہ میں اگر کسی شخص (مرد یا عورت) کے پاس برطانوی شہریت نہیں بھی ہے اور صرف برطانیہ کی مستقل سکونت یعنی کہ INDFINITE LEAVE TO REMAIN ہے تو یہی ان کا برطانیہ میں پیدا ہونےوالا بچہ برطانوی پاسپورٹ کا حق دار ہوتا ہے۔ اس طرح ایک یہ بھی قانون ابھی تک موجود ہے کہ اگر کوئی بچہ برطانیہ میں پیدا ہوتا ہے اور دس سالوں تک یہاں پرسکونت پذیر رہتا ہے تو ایسا بچہ برطانیہ میں دس سالوں کی سکونت کے بعد برطانوی شہریت کا حق دار قرار پاتا ہے۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والے باقی سب بچوں کو ان کے والدین کی شہریت کی بنیاد پر شہریت ملتی ہے یعنی جو بچوں کے والدین کی شہریت ہوتی ہے، بچے بھی اسی شہریت کے حق دار قرار پاتے ہیں اور اپنے ملک کے سفارت خانہ یا ہائی کمیشن سے اپنا پاسپورٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور ایسا قانون بھی ہے جو کہ بغیر کسی شہریت یعنی کہ STATE LESS بچوں کے لئے ہے۔اس قانون کا پس منظر یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا بچہ ملتا ہے جس کے بارے میں علم نہیں ہے کہ اس کے والدین کی شہریت کیا ہے تو ایسا بچہ اگر برطانیہ میں پیدا ہوتا ہے اور یہا ں پانچ سالوں تک قیام کرلیتا ہے اور پھر بھی کسی شہریت کا حامل نہیں (یعنی STATE LESS ) ہے تو ایسے بچے کو بھی برطانیہ کی شہریت مل سکتی ہے۔ کافی عرصہ سےلوگوں کی کوششیں رہی ہے کہ وہ اگر برطانیہ میں غیر قانونی طورپر قیام پذیر ہیں یا پھر ان کے پاس برطانیہ کی مستقل نہیں ہے تو وہ کسی طرح پانچ سالوں تک برطانیہ میں قیام کرکے اپنے بچوں کو STATE LESS قرار دلوا کر ان کی شہریت کے حصول کے لئے سعی کریں۔ اس ضمن میں ایک معاملہ بعنوان JM VS HOME OFFICE 2015 VKUT676 برطانوی ہائی کورٹ تک بھی گیا لیکن اس مقدمہ میں ہائی کورٹ نے زمبابوے (ZIMBABWEAN) کی شہری ماں اور پرتگال (PORTUGESC) کی شہریت کے حامل باپ کے برطانیہ میں پیدا ہونے والے اور پانچ سالوں تک قیام کرنے والے بچے کو STATE LESS ماننے سے انکار کردیا باوجود اس کے کہ اس بچے کے پاس ان دونوں ممالک میں سے کسی کا پاسپورٹ نہیں تھا۔ البتہ حال ہی میں ہائی کورٹ نے ایک اپیل بعنوان MK VS HOME OFFICE میں ایک بھارتی نژاد بچے کو جس کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے ۔STATE LESS قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ہوم آفس نے کورٹ آف اپیل میں اپیل دائر کردی ہے لیکن اس ضمن میں جب تک کہ کورٹ آف اپیل یا بعد ازاں سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا۔ہوم آفس نے ایک نئی پالیسی بنا دی ہے جس کے تحت اگر (۱) کوئی بچہ جنوری 1983ء کے بعد پیدا ہوا ہے۔ (۲) اس کی کوئی شہریت نہیں ہے اور متعلقہ سفارت خانہ یا ہائی کمیشن اس کی تصدیق کردیتے ہیں۔ (۳) اس کی عمر22سالوں سے کم ہے۔ (۴) پانچ سالوں تک برطانیہ میں قیام پذیر رہا ہے۔ تاہم ان پانچ سالوں میں چار سو پچاس دنوں سے زائد برطانیہ سے باہر نہیں رہا ہے تو وہ بغیر کسی شہریت کا حامل یعنی کہ STATE LESS ہونے کی بنیاد پر برطانوی شہریت کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔ اگر برطانوی ہوم آفس مطمئن ہو جاتا ہے کہ واقعی ایسے بچے کے پاس کوئی شہریت نہیں ہے تو وہ ایسے بچے کو برطانوی شہریت دے سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ برطانوی شہریت کا ملنا حکومت یا ہوم آفس کی صوابدید پر ہوتا ہے۔

تازہ ترین