آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سو میلاد النبیؐ کی صدائیں ہیں اور میں اپنی خلوت میںھُو ھُو کا ورد کیے جا رہا ہوں۔ ابنِ عربی نے منصور حلاج کے ھُوھُو کو حقیقتِ محمدیہ، عقلِ اوّل، روح العرش، انسانِ کامل اور آدمِ حقیقی سے پکارا ہے۔ اور کہا کہ حقیقتِ محمدیہ کائنات کا سبب ہے اور وحدت حقیقتِ محمدیہ ہے۔ انا من نور اللہ و الخلق کلھم من نوری‘‘، جس کے مظاہر عین و عیاں اور روح و ارواح ہیں۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے یا ایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدہ۔ سر ذات محمد فردیت ہے کیونکہ آپ نوعِ انسان کے کامل ترین فرد ہیں۔ اس لئے حقیقی معنوں میں نبوت آپؐ سے شروع ہوئی اور آپ ہی پر ختم ہو گئی۔‘‘ (ابنِ عربی)۔ ابنِ عربی بھی ذوالنون مصری اور رابعہ بصری کی طرح عشقِ حقیقی کے قائل تھے۔ لہٰذا، اُنہوں نے کہا: ’’آج سے پہلے میرا یہ حال تھا کہ جو بندہ میرے دین سے انکار کرتا تھا، میں اسے اپنے سے بیگانہ سمجھتا تھا۔ لیکن اب میرا دل ہر صورت کو قبول کر لیتا ہے۔ وہ چراگاہ بن گیا ہے ہر قسم کے ہرنوں کے لئے، وہ عبادت خانہ ہے عیسائی تارکوں کا، مجوسیوں کا آتش کدہ، حاجیوں کا کعبہ ہے، توریت کی الواح ہے، قرآن کا صحیفہ ہے۔ اب میں عشق کے مذہب کا پیروکار ہوں اور عشق کا قافلہ بھلے مجھے کہیں لے جائے، میرا دین بھی عشق، میرا ایمان بھی عشق‘‘۔ خواجہ فرید نے اسے یوں

بیان کیا ہے: ’’مینڈا عشق وی توں، مینڈا یار وی توں‘‘۔ ابنِ عربی کے لئے عشق وہ اکسیر ہے جو دل کے کھوٹ دور کر کے اعلیٰ اخلاق میں بدل دیتی ہے۔ وہ رنگ و نسل اور مذہبی تفریق اور بندھنوں سے ماورا ساری خدائی سے پیار دکھاتی ہے۔ صوفیا کا عقیدہ ہے کہ سارا جہاں ایک ہی وجودِ مطلق ہے اور سب انسانوں میں اُس کی روح سمائی ہے۔ دُنیا کی ہر شے کی خوبصورتی محبوبِ ازلی کے حسن کی چمکار ہے۔ وہ کسی انسان سے نفرت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ خود کو نہ صرف نوعِ انسانی کا فرد بلکہ ساری کائنات کا جُز خیال کرتا ہے۔ مولانا روم کہتے ہیں
مذہب عشق از ہمہ دیں ہاجرا ست
اور اقبال کہتے ہیں:
اگنی ہے وہ جو نرگن، کہتے ہیں پیت جس کو
دھرموں کے یہ بکھیڑے اس آگ میں جلا دیں
ہمارے صوفیائے کرام ’’وحدت الوجود‘‘ کے قائل ہیں۔ فارسی میں اسے ’’ہمہ اوست‘‘ (سب خدا ہے) اور ہندی میں ہر میں ہر (ہر شے میں خدا ہے)۔ صوفی ازم یا سریت (Mysticism) کا آغاز وحدت الوجود سے ہوا۔ اڑھائی، تین ہزار سال پہلے کائنات کے گنجلکوں کا بھید پانے کی جستجو میں فلسفیوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کائنات کی بظاہر کثرت کی بنیاد وحدت میں ہے۔ اس سوچ نے چین، یونان اور ہندوستان میں سریت کو جنم دیا۔ اس سے خدا کی ذات کے پہلو سامنے آئے: ایک یہ کہ خدا کائنات سے ماورا ہے (Transcedent)، دوسرا یہ کہ خدا کائنات میں رچا بسا ہے۔ اس لئے خدا اور کائنات ایک ہی ہیں۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا خدا ایک ایسی طاقت ہے جس نے کائنات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ لیکن تاؤمت، ویدانت اور سریت کا خدا کائنات سے علیحدہ نہیں، بلکہ کائنات اُس ذات سے یوں نکلی ہے جیسے سورج سے شعاعیں۔ لیکن قدیم یونان کے الیاطی فلسفیوں زینوفینس اور پارمی نائینڈس کے وجودی نظریئے، چین کے تاؤ، افلاطون کے اشراق، شنکر کے ویدانت اور ابنِ عربی کے وحدت الوجود کے نظریات میں ایک سانجھ نظر آتی ہے کہ ان کا خدا غیرشخصی ہے جو کائنات سے علیحدہ نہیں۔ پاکستان کے صوفی شعرا کے کلام میں تصوف کے ساتھ ساتھ، یونانی اشراق اور بھگتی لہر کے ناطے ویدانت کی روایتیں جمع ہو گئی ہیں۔ فارسی کے شاعر ویدانت اور بھگتی لہر سے بے خبر رہے اور بھگت کوی تونانی اشراق کی ریت سے فیض نہ پا سکے۔ البتہ برصغیر کے صوفیاکے کلام میں تین روایتیں مجتمع ہو گئیں۔ (۱) یونانی سریت اور اشراق، (۲) ہندی ویدانت اور بھگتی لہر، (۳) مسلمانوں کا تصوف اور عرفان۔ (ماخذ وحدت الوجود تے پنجابی شاعری)
صوفی اسلام کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ ابو ریحان البیرونی کے خیال میں لفظ صوفی صوف (Soph) سے نکلا ہے جس کے معنی دانش کے ہیں۔ علامہ لطفی جمعہ کے مطابق صوفی کا لفظ یونانی تھیو صوفیأ سے نکلا ہے، جس کے معنی ’’حکمتِ الٰہی‘‘ کے ہیں۔ عام طور پر صوفیوں کو کھدر پوش کہا جاتا ہے جو مادی دُنیا کی چمک دمک سے بیزار رہے۔ تصوف بارے تین نظریے ہیں۔ (۱) تصوف اسلام ہی کا پرتو ہے جس کا ماخذ قرآن و سنت ہے، (۲) تصوف فلاطونیت کے فلسفے کی بدلی ہوئی صورت ہے، (۳) تصوف کے ماخذوں میں بدھ مت اور ویدانت شامل ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی تصوف پہ بدھ مت کے اثر کا کھوج لگایا ہے۔ زُہد اور تقویٰ مسلمانوں کا پرانا شیوہ رہا ہے۔ رسولِ کریمؐ اور اُن کے صحابیؓ فقر اور زُہد کے بڑے امین تھے۔ حضور کا فرمان ہے الفقر فخری (فقر میری بڑائی ہے)۔ آپ سارے عرب کے مالک تھے، پر گھر میں کئی کئی روز چولہا ٹھنڈا رہتا تھا۔ وہ روکھی سوکھی کھا کے گزارا کرتے، جنگل سے خود لکڑیاں لاتے اور اپنے کپڑے خود سیتے تھے۔ آپؐ کے خلفاء کا بھی یہی حال تھا۔ بادشاہی میں فقیری اور فقیری میں بادشاہت کی ریت اب محبوبِ خدا کے نام پر کٹ مر جانے کے دعویداروں میں کہاں؟
تصوف کے اکثر سلسلے خواجہ حسن بصری سے امیر المومنین علی ؓبن ابی طالب تک جاتے ہیں۔ قانون اسلام میں جعفر شریف اور ابوالفضل علوی نے تصوف کا ذکر کرتے ہوئے چار پیروں اور چودہ خاندانوں کا ذکر کیا ہے۔ پہلے پیر امیر المومنین علیؓ بن ابی طالب، دوسرے خواجہ حسن بصری، تیسرے خواجہ حبیب عجمی، چوتھے پیر عبدالواحد بن زید گونی۔ چودہ خاندانوں میں یہ بزرگ شامل تھے: (۱) حبیبیاں: پیروان حبیب عجمی، (۲) طیغوریاں: پیروان بایزید بسطامی، (۳) پیروان جنید بغدادی۔ (۴) کرخیاں: پیروان معروف کرخی، (۵) سقطیاں: پیروان سقطعی، (۶) گازرونیاں: پیروان حنیف گازرونی، (۷) فردوسیاں: پیروان نجم الدین کرخی، (۸) طرطوسیاں: پیروان عبدالفرح طرطوسی، (۹) سہروردیاں: پیران شیخ ضیاء الدین ابو نجیب سہروردی، (۱۰) زیدیاں: پیروان عبدالواحد بن زید کوفی، (۱۱) عیافیاں: پیروان فیصل بن عیاض، (۱۲) ادھمیاں: پیران ابراہیم ادھم بلخی، (۱۳) ہبیریاں: پیروان امین الدین الہبیری، (۱۴) چشتیاں: پیروان ابو اسحق چشتی شامی۔ ان صوفیوں کی اکثریت عجمی تھی۔
بارہویں صدی عیسوی میں صوفیوں کے سلسلے چل نکلے۔ سب سے پہلے قادریہ سلسلہ بنا، جس کے بانی شیخ عبدالقادر گیلانی تھے۔ چشتیہ سلسلے کے بانی شیخ ابو اسحاق شامی تھے۔ سہر ہ وردیہ سلسلہ کے بانی شیخ شہاب اور سہروردی تھے۔ خواجہ بہاؤ الدین زکریا نے ملتان سے بغداد جا کر شیخ شہاب الدین سے خلافت حاصل کی۔ نقشبندیہ سلسلہ خواجگان ترکستان میں قائم ہوا جسے خواجہ بہاؤ الدین نقش بندی نے آگے بڑھایا۔ اُن کے خلیفہ شیخ احمد سرہندی نے اس سلسلے کا نام مجددیہ رکھ دیا۔ صوفیہ کے یہ چاروں سلسلے ہندوستان میں پھیل گئے۔ ان میں نقش بندی اور سہرہ وردی زیادہ نہ پھیل سکے۔ لیکن سلسلۂ چشتیہ اور قادریہ بہت پھلے پھولے کیونکہ فلسفہ صلح کل اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے احترام و رواداری کا تھا۔ مولانا جلال الدین رومی سے جلالیہ سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی ہم گھومتے درویشوں کی صورت میں دیکھتے ہیں اور یہ ترکی اور شام میں بہت مقبول ہیں۔ یہی صوفیاء تھے جنھوں نے ذات پات کے نظام، جاگیردارانہ شاہی حکومتوں اور فرقہ وارانہ نفرت، جاہ و جلال اور دُنیاوی جھمیلوں سے خود کو دُور رکھا۔ اُنہوں نے خلقِ خدا کو سینے سے لگایا۔ محبتوں، رواداریوں اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ وہ نہ تشدد کے قائل تھے نہ دوسروں کے عقائد پہ حملہ آور ہوتے تھے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور سیرت اُن کی زندگی کی رہنما تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں اسلام اُن کے انسان دوست پیغام کے باعث پھیلا۔ اور آج وقت ایسا آیا ہے کہ ان اولیائے کرام اور صوفیائے کرام کے ماننے والے نہ گفتار میں نہ کردار میں، کسی صورت ان سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ذرا ان کی زبان، عادات، رویے، اطوار، رہن سہن، شان و شوکت، جاہ و جلال کو دیکھیں اور صوفیاء و اولیاء کے انداز کو۔ تضادات پر رونا آتا ہے۔ حضور پُرنور بارے اپنی مثنوی میں الطاف حسین حالی نے کیا خوب لکھا تھا جو تحریک لبیک یا رسول اللہ، سنی تحریک اور اسی طرح کی دوسری بریلوی مکتب کی جماعتوں کی نذر کرتا ہوں۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجی ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطاکار سے درگزر کرنے والا
بداندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں