آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نفرت اور انتقام کے بارے میں بجا طور پر کہا جاتا ہےلئے کہ یہ وہ آگ ہے جو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اسے جلاتی ہے جو دوسروں کے بارے میں نفرت اور انتقام کا جذبہ رکھتا ہے ۔ یہ نہ صرف مثبت انسانی صفات کی دشمن ہے بلکہ انسانی صحت اور اس کی معاشرتی ترقی کو بھی غارت کر دیتی ہے۔ یہ انسان کے اندر مستقل طور پر منفی جذبے پیدا کردیتی جیسے غصہ، بے چینی ، نکتہ چینی ، عدم اطمینان اور ڈپریشن وغیرہ ۔ یہ دورِ جہالت کی نشانی وہ کیفیت ہے جس کے تحت غیر مہذّب معاشرے دشمنی کی خاطر اپنی اولاد کو پروان چڑھاتے تھے اور دشمنی پر ہی انہیں قربان کردیتے تھے۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے جس کامطلب کچھ یوں ہے کہ دشمن کی بھینس مارنے کے لئے اس کے اوپر اگر اپنی دیوار بھی گرادی جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ماضی میں انسانوں کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ یہی سوچ تھی۔ جس نے کئی معاشرے تباہ کردئیے کئی ممالک تقسیم ہوگئے اور کئی تو صفحہ ء ہستی سے ہی مٹ گئے یہی وہ سوچ ہے جو انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے ۔ انتہا پسندی کی بنیادی خصوصیت ہی یہ ہے کہ خود کو عقلِ کل اور دوسرے کو جہل ِ کل سمجھا جاتا ہے۔ اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی اور مثبت تنقید کو اپنے اوپر جارحیّت گردانا جاتا ہے اور زبان کی بجائے ہتھیار استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں دوسروں کے

بارے میں غیر حقیقی اور انتہا پسند جذبے فروغ پاتے ہیں۔ جو انسان کو انسان نہیں رہنے دیتے اسے یا تو فرشتہ بنا دیتے ہیں یا شیطان ۔ کیونکہ اس جذبے کا حامل شخص جس سے محبت یا عقیدت رکھتا ہے اس میں اسے کوئی خامی نظر نہیں آتی اور جس سے نفرت کرتا ہے اس میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی ۔ تمام مذاہب اور معاشرتی مکاتبِ فکر نے اس رجحان کی مذمّت کی ہے اور انسان کو برداشت اور اعتدال پسندی کا درس دیا ہے ۔ تاکہ معاشرے میں تشدّد ، قتل و غارت گری اور بد امنی کو روکا جا سکے۔ مذہب اسلام اس مسئلے میں اعتدال پسندی ، مصلحت اور مصالحت کا سب سے بڑا داعی ہے کیونکہ پیغمبر ِ اسلامؐ نے اپنی ذاتی زندگی میں اس کی روشن مثالیں چھوڑی ہیں جب انہوں نے اپنے بدترین دشمنوں سے بدلہ لینے کی بجائے انہیں معاف فرما دیا اور فتح مکّہ کے بعد اسلام کے بدترین دشمن ابو سفیان کے گھر کو پناہ گاہ قرار دے دیا کہ نہ صرف ابو سفیان کو بلکہ اس کے گھر میں پناہ لینے والے کو بھی معاف کر دیا گیا۔ اسی طرح حضورِ اکرم ؐکے سیاسی فیصلوںنے بھی مصلحت اور مصالحت کی وہ مثالیں قائم کیں جن کی اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ صلح حدیبیہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے ۔ جس میں ایک شرط یہ بھی شامل تھی کہ اگر مدینے سے کوئی مسلمان غلطی سے بھی مکّہ چلا گیا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا لیکن اگر کوئی کافر مکّہ سے مدینے آگیا تو اسے مسلمان واپس کرنے کے پابند ہوں گے گو کہ چند صحابہ ء کرام نے اس پر اعتراض بھی کیا لیکن حضورِ اکرم نے یہ شرط مان لی ۔ کیونکہ مسلمان اس وقت تک اتنے طاقتور نہیں تھے کہ وہ غیر ضروری طور پر کفّارِ مکّہ سے چھیڑ چھاڑ کرتے۔ اس بظاہر غیر منصفانہ فیصلے نے انہیں اتنی مہلت دے دی کہ وہ اپنے آپ کو معاشی اور عسکری لحاظ سے اتنا مضبوط بنانے کے قابل ہو گئے کہ چند سالوں کے بعد اسی سرزمین ِ مکّہ پر فاتح کی حیثیت سے داخل ہوگئے جہاں سے انہیں کفّار نے نکال باہر کیا تھا۔
افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اسلام کے سب سے زیادہ دعویدار ملک میں ذاتی ، ملکی اور سیاسی سطح پر ایسے فیصلے کئے گئے جو اسلامی تعلیمات کے برعکس تھے۔ کشمیر کے معاملے پر بھارت سے اختلاف کو دشمنی ، نفرت اور انتقام تک لے جانے کی ریاستی پالیسی نے کس کا نقصان کیا؟ اگر ہم چین کی طرح اپنے دشمنوں کے مقابلے میں خود کو پہلے معاشی اور فوجی لحاظ سے مضبوط بناتے تو شاید ہانگ کانگ کی طرح کسی دن کشمیر خودہماری جھولی میں آگرتا۔ آج بھی اگر چین چاہے تو وہ تائیوان کو چند گھنٹوں میں فتح کر سکتا ہے ۔لیکن وہ ایسا نہیںکرتا کیونکہ جنگیں تباہی کے ایسے دروازے کھول دیتی ہیں کہ لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں پاکستان معاشی اور عسکری لحاظ سے کمزور ہونے کے باوجود اپنے دشمنوں کے مقابلے میں اعتدال اور عقلمندی کا مظاہر ہ نہیں کرسکا ۔ پہلے کشمیر بزورِ شمشیر لیتے لیتے مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو نے پڑ ے اور آج ایسی ہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ وہ بلوچستان میں دشمن ملک کو تخریب کاری کے مواقع مل رہے ہیں جس کا شکار بیگناہ پاکستانی عوام بن رہے ہیں۔ اور اندرونی طور پر وہ انتہا پسند گروہ مضبوط ہورہے ہیںجن کو ایک عرصے سے نفرت اور انتقام کا سبق پڑھایا جا تا رہا۔ ایک طرف ریاست انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے اور دوسری طرف ایسے لوگوں کو من مانی کارروائیوں کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس سے ملک مزید کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ صرف یہی نہیں اسی انتقام اور نفرت کو ملکی سیاست کا بھی حصّہ بنا دیاگیا ہے۔ پہلے ذوالفقار علی بھٹو کو جس نے پاکستان کو پہلا متفقہ دستور دیا اور ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد رکھی اسے نفرت کی سولی پر چڑھا دیا گیا اور بھٹو کے مقابلے کے لئے جعلی لیڈر پیدا کئے گئے اور انہیں ہر طرح کی بے اصولی کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ۔ جب ان سے جان چھڑانے کی ضرورت پیش آئی تو اسی نفرت اور انتقام کو برئوے کار لایا گیا ایک وقت میں نواز شریف کو انتہا پسندمذہبی جنونی قوتوں کالیڈر بنایا گیا ۔ اور آئی جے آئی کے ذریعے قوم پر مسلّط کیا گیا اور پھر اب انہیں مذہب دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے ورنہ تاریخ اپنے آپ کو دہرانے سے گریز نہیں کرتی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں