آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عجیب کنفیوژن ہے کچھ سمجھ آ رہا ہے نہ کچھ سجھائی دے رہا ہے کہ کیا لکھا جائے،ایسے مناظر دیکھنے کو اور ایسے جملے سننے کو مل رہے ہیں کہ نہ آنکھوں کو یقین آتا ہے اور نہ سماعت اسے قبول کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے کینیڈین شہریت کے حامل قائد سے ملنے والے سیاسی اور مذہبی رہنماوں کی لائن لگی ہوئی ہے، ہر کوئی ’’لبیک‘‘ کہتا ہوا اپنی حاضری لگوانے کیلئے دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہے۔ جس کے فوری پہنچنے میں ذرا ’انا‘ آڑے آ رہی ہے وہ ٹیلی فون پر قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں، کی یقین دہانیاں کرا رہا ہے۔ کوئی یہ جتا کر اپنا بھرم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ انہیں ملاقات کرنے کی دعوت علامہ صاحب نے خود دی ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار سال سے جن کا مشغلہ ہی دھرنا رہا ہے ان کی تو ایک بار پھر لاٹری کھلنے والی ہے جبکہ دیگرسیاسی ’طفیلیوں‘ کی تو بقا ہی ساتھ چمٹ جانے میں ہے اس لئے کنفیوژن یہ نہیں کہ تانگہ پارٹیاں اپنے تانگے سمیت کنٹینر پہ چڑھنے کو بے تاب ہیں بلکہ کنفیوژن تو یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جیسی جمہوری جماعت بھی اس دوڑ میں شامل ہے،وہ پیپلز پارٹی جو طاقت کا سرچشمہ عوام کو قرار دیا کرتی تھی آج سجدہ ریز ہو چکی ہے۔ کنفیوژن اسی لئے ہے کہ کیا یہ لکھا جائے کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے بارے میں جسٹس باقر نجفی کی

رپورٹ کو جواز بنا کر پاکستانی نژاد کینیڈین شہری کے پاس چل کر جانے والے یہ وہی آصف علی زرداری ہیں جن کی حکومت کے خلاف دھرنا دیتے ہوئے موصوف نے ایسا زہر اگلا تھا کہ اب جادو کی ایک جپھی سے اس کی کڑواہٹ ختم ہو گئی ، وہ لب اتنے شیریں لگنے لگے کہ زبان کو گدی سے کھینچنے جیسی گالیاں بھی بے مزا نہ کر سکیں، جسے جوکر کہا گیا اس کے ہاتھ میں ایسے ہاتھ دے دیا گیا ، ہنسی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی، اپنے خلاف دھرنے کے دوران جس کو سڑکوں سے اٹھانے کیلئے وزیر داخلہ کے ذریعے مبینہ طور پہ اغواءکا منصوبہ بنایا گیا تھا اب اسی کے ساتھ مل کر سڑکوں پر آنے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں،جن کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کئےتھے اب انہی سے استعفے مانگے جا رہے ہیں،کیا ایک بار پھر ثابت کرنا ہے کہ واقعی معاہدے قرآن وحدیث نہیں ہوتے۔ جنہیں ایمپائرکی انگلی پر ناچنے کے طعنے دئیے جاتے تھے اب اسی تماشے میں خود بھی پتلی بننے پر بھی راضی۔ کیا یہی جمہوریت کا بہترین انتقام ہے۔ یہی کنفیوژن ہے کہ کیا یہ لکھوں کہ خورشید شاہ جیسا جہاندیدہ سیاست داںجو کل تک انہی علامہ صاحب کو پارلیمنٹ اور جمہوریت پر دھاوا بولنے پر مورد الزام ٹھہراتا تھا ،بار بار جتاتا تھا کہ انہوں نے ہی مسلم لیگ ن کو مشورہ دیا تھا کہ دھرنا دینے والی غیر جمہوری قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا کر اسے غیر معینہ مدت کیلئے جاری رکھا جائے آج وہ ہاتھ باندھے اور سر جھکائے صرف اس لئے ہاں میں ہاں ملانے کیلئے تیار کیوںکہ پارٹی قیادت کا یہی حکم۔ کیا قمر زمان کائرہ کی ان نقلوں کا ذکر کروں جو قادری صاحب کی اتارتے ہوئے نہ صرف خود محظوظ ہوتے تھے بلکہ ساتھیوں کو بھی لوٹ پوٹ ہونے پر مجبور کر دیتے تھے یا اس بے بسی کا الفاظ کے ذریعے اظہار کیا جائے جو منہاج القرآن کے ہیڈ آفس میں بیٹھے ان پرطاری تھی۔ کنفیوژن تو یہ بھی ہے کہ کیا پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر منائے جانے والے اس کامیاب جشن کا ذکر کروں جس نے برسوں بعد جیالوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا یا اس پیپلز پارٹی کا نوحہ لکھوں جس نے جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کیلئے جشن مناتے جیالوں کو وہاں لا کر کھڑا کر دیا جہاں انہیں بی بی کی میراث یا زرداری کی موقع پرستی میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کڑوا گھونٹ پینا ہے۔ جیالوں کی اسی شہید بی بی نے اپنی کتاب ’’ری کنسیلی ایشن‘‘ میں ایک جگہ اپوزیشن کی حدود کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ’’جمہوری حکمرانی یہ نہیں ہے کہ صرف اکثریت کو حکمرانی کا حق ہو بلکہ اس میں ایک قانونی اور باضابطہ اختلاف کیلئے بھی موقع فراہم کیا جاتا ہے، اپوزیشن پرتشدد بغاوت کے ذریعے حکومت کے خاتمے سے لے کر حکمران جماعت سے اختلافات تک وسیع ہوتی ہے، مزید لکھتی ہیں کہ پرتشدد بغاوت کسی طور قبول نہیں کرنی چاہئے لیکن ہر طرح کی پر امن مخالفت قابل قبول ہے جس میں اپوزیشن کو انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے کا موقع بھی دستیاب ہو۔’’ شہید بے نظیر بھٹو نے لکھا کہ ان جیسے مسلمانوں کیلئے جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اسلام ایک اتفاق رائے اور عوامی شرکت کا نام ہے، اسلام اور جمہوریت ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں‘‘ کنفیوژن تب بھی پیدا ہوتا ہے جب میں شہید بی بی کی اسی کتاب میں آصف علی زرداری کا اپنی شریک حیات اور ان کے بچوں بلاول،بختاور اور آصفہ بھٹو کا اپنی شہید والدہ کو پیش کیا گیا خراج تحسین پڑھتا ہوں جس میں وہ کہتے ہیں کہ’’ اس کتاب میں جمہوریت ،برداشت، سمجھداری، امید اور سب سے بڑھ کر اسلام کے حقیقی پیغام کے بارے میں وہ سب کچھ موجود ہے جو انہیں قتل کرنے والے کبھی نہیں سمجھ سکتے، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہ سب جانتے ہوں اور ان چیزوں اور بی بی سے خوف زدہ ہوں کیونکہ وہ جنونیوں کیلئے ایک ڈراونا خواب تھیں۔’’ آصف علی زرداری اور ان کے بچے ساتھ ہی یہ عزم بھی ظاہر کرتے ہیں کہ’’ جنہیں شہید بے نظیر سے محبت ہے اور جو ان سے ہمیشہ محبت کرتے رہیں گے وہ ان چیزوں کیلئے اپنی جدجہد جاری رکھیں جن پر بی بی کا مکمل ایمان تھا اور جن کیلئے انہوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ہم جمہوریت کیلئے جنگ جاری رکھیں گے ،انتہا پسندی اور نفرت کے خلاف لڑتے رہیں گے، ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنی زندگیاں اس کتاب میں دئیے گئے پیغام کو ان کی میراث میں ڈھالنے اور جمہوری پاکستان کا مستقبل بنانے کیلئے وقف کر دیں گے، ہمیں یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے کیوںکہ شہید بی بی کے الفاظ میں وقت،انصاف اور تاریخ کی تمام طاقتیں ہمارے ساتھ ہیں ۔ جناب آصف علی زرداری اور شہید بے نظیر بھٹو کے بچے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آج وہ اپنے اس عہد کی پاسداری کر رہے ہیں۔ آج وہ جس جنگ کیلئے کمک فراہم کرنیکی تیاریاں کر رہے ہیں کیا یہ جمہوریت کی جنگ ہے۔ کیا وہ جمہوریت اور پارلیمان کو پاکستان کے تمام مسائل کا حل قرار دینے والے میاں رضا ربانی، سید خورشید شاہ، فرحت اللہ بابر،یوسف رضا گیلانی ،نیئر حسین بخاری،سید نوید قمر اور تاج حیدر جیسے پارٹی رہنماوں کو قائل کر سکتے ہیں کہ جس گاڑی میں سوار ہونے کیلئے وہ لائن میں لگ چکے ہیں اس کا پڑاو جمہوریت ہی ہوگا۔ کنفیوژن اس لئے بھی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے دس شہداء پر آنسو بہانے والی پیپلز پارٹی کے اپنے دور حکومت میں بلدیہ ٹاون جیسا اندوہناک ظلم برپا کیا گیا جس میں ڈھائی سو معصوم اور غریب انسانوں کو زندہ جلا دیا گیا تب انہیں انصاف دینے کیلئے سڑکوں پرکیوں نہیں نکلا گیا۔ اگر وہاں انصاف کی فراہمی کو عدالتوں پرچھوڑا جا سکتا تھا تو ماڈل ٹاون کے سانحے میں انصاف کیلئے عدالتوں کے فیصلوں کا انتظار کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ عوام اتنے بھولے نہیں ہیں کہ سمجھ نہ پائیں کہ یہ سب کچھ سینیٹ کی دس نشستوں کی جدوجہد ہے ۔ جناب آصف زرداری صاحب آپ نے بالکل بجا فرمایا تھا کہ آپ چار سال خاموش رہیں گے اور آخری سال سیاست کریں گے لیکن درخواست ہے کہ اس سیاست کیلئے پیپلزپارٹی کی پچاس سالہ تاریخ کو گرہن نہ لگائیں،جمہوریت کی خاطر پھانسی کے پھندے پرجھولنے،بدترین اذیتیں برداشت کرنے ،ننگے بدن پر کوڑے کھانے اور کال کوٹھریوں میں اپنی جوانی بیتانے والے جیالوں کی قربانیوں کا کچھ تو خیال کریں۔ یہ کنفیوژن ختم کردیں کہ شہید بھٹو،شہید بی بی اور جیالوں کی پیپلز پارٹی کبھی کسی کا آلہ کار بھی بن سکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں