آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں عدالتیں انصاف کی علامت سمجھی جاتی ہیں، ترقی پذیر ممالک میں جہاں دوسرے ریاستی اداروں کی ساکھ کچھ اچھی نہیں ہوتی وہاں عوام عدلیہ سے ہی داد رسی کی اپیل کرتے دکھائی دیتے ہیں،، ہمارے ملک میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زمانے میں عدالت عالیہ نے مفاد عامہ کو بنیاد بنا کر بہت سے کیسز کو سنا،، پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین میںدیئے گئے اختیارت کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان نے بہت سارے معاملات میں ازخود نوٹس لینا شروع کر دیا،، پاکستان کے قانونی حلقوں میں جوڈیشل ایکٹوازم کی صدائیں سنائی دینے لگیں،، مارگلا کی پہاڑیوں میں پتھر توڑنے والی فیکٹریوں سے لیکر لاہور کی نہر کو ہیریٹیج پارک بنانے تک،سپریم کورٹ نے سینکڑوں کیسزاز خود نوٹس کی بنیاد پر سنے،، پچھلی حکومت کے آخری دنوں میں تو حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ سرکاری افسران سپریم کورٹ میں طلب کئے جانے سے خوفزدہ ہو کر امور سرکار نبٹانے سے تقریبا انکاری ہی تھے،، اورطلب کیا جانا بھی ہر چند کو ئی مشکل کام نہیں تھا،،یہاں ٹی وی چینل پر خبر چلی، وہاں سپریم کورٹ کی طرف سے بلاو آگیا،، ہر طرف فوری اورسستے انصاف کا بول بالا تھا،، سپریم کورٹ کے جوڈیشل ایکٹوازم کا زیادہ تر نقصان اس وقت کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو ہوا،، حکومتی وزرا

کی ایک بڑی تعداد وقتاًفوقتاً سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوتی رہی،، پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت عالیہ نے توہین عدالت کا مرتکب ٹھہر اکر انہیں وزرات عظمی ٰکے منصب کیلئے نا اہل قرار دیدیا،، پیپلز پارٹی کے ہی وزیر مذہبی امور کو مبینہ طور پر حج آپریشن میں کرپشن کرنے کی پاداش میں جیل تک بھیج دیا گیا،،اس وقت کی سپریم کورٹ نے جوڈیشل ایکٹوازم کو بنیاد بنا کر پاپولر فیصلے کرنے شروع کر دیئے تھے،، اور جب عوامی مقبولیت حاصل کرنا مقصود ہو تو پھر بہت سے قانونی پہلووں کو نظر انداز کیا ہی جا سکتا تھا،وزیر مذہبی امور کا قصہ ہی دیکھ لیں،حج اسکینڈل کی سپریم کورٹ میں سماعت سے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے حامد سعید کاظمی کچھ نہ کچھ کرتے پکڑے گئے ہیں،، لیکن بعد ازاں جب ان پر کیس چلایا گیا تو کچھ بھی نہیں ملا،، آخر کار حامد سعید کاظمی کو باعزت بری کر دیا گیا،، حامد سعید کاظمی سپریم کورٹ کی پاپولسٹ اپروچ کا نشانہ بننے والے واحد فرد نہیں تھے،، اس وقت کئے گئے پاپولر فیصلوں سے صرف افراد ہی متاثر نہیں ہوئے،،ریاست پاکستان کو بھی ان فیصلوں سے کافی نقصان پہنچا،، چاہے بلوچستان میں معدنیات سے متعلق کیس ہو یا پھر ترکی سے آنیوا لا پاور پلانٹ ،، غیر ملکی کمپنیوں سے کئے جانیوالے معا ہد وں کا خیال نہ کرتے ہوئے ایسے فیصلے کئے گئےجن کہ معاشی نتائج ریاست پاکستان کو بھگتنے ہوں گے،،ریکوڈک کیس میں ہی اربوں ڈالر کے ہرجانے کئے جانے کا امکان ہے جبکہ ترکی کی کمپنی کو بھی ایک عالمی عدالت نے ایک سو ساٹھ ارب روپے ہرجانے میں دینے کا فیصلہ دیدیا ہے، عوامی مقبولیت کے فیصلے کرنے کی جلدی میں اس وقت کی سپریم کورٹ نے بہت سے ایسے فیصلے کئے جو شایدا پنی قانونی کمزوریوں کے باعث کبھی پریسی ڈینٹ کے طور پر استعمال نہ کئے جاسکیں، ،
جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے پاپولر فیصلے کرنے کی جو روایت ڈالی اسے بعد میں آنے والے چیف جسٹس صاحبان اس حد تک قائم نہ رکھ سکے جسکی بنیاد افتخار چوہدری نے رکھی تھی،، دو ہزار تیرہ کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے لئے جانے والے از خود نوٹسز کی تعداد بھی بہت حد تک کم ہو گئی،،ایسا محسوس ہوا کہ جیسے بطور ادارہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی خاطر کئے گئے فیصلوں میں قانونی تقاضے پورے نہ کر پانے کے باعث سپریم کورٹ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،،شاید یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے دو ہزار تیرہ کے بعد سے خود کو سپاٹ لائٹ سے ہٹانے کی کوشش شروع کر دی تھی،، بہت سے مراحل پر سپریم کورٹ نے اپنے رویے سے یہ احساس بھی دلانے کی کوشش کی کہ سیاسی معاملات سے سپریم کورٹ کو دور ہی رکھا جائے اور فریقین کسی دوسرے فورم پر اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں،، اسی طرح ایڈمنسٹریٹو معاملات میں عمل دخل کے معاملے میں بھی دو ہزار تیرہ کے بعد والی سپریم کورٹ نے بہت تحمل سے کام لیا،،
لیکن اب اس رویے میں پھر سے کچھ تبدیلی آرہی ہے،، شاید اسکا آغاز پانامہ کیس سے ہوا، ، جب دیگر ریاستی ادارے پاناا کے بارے میں کچھ بھی کرنے میں ناکام رہے تو پھر سپریم کورٹ نے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت اس کیس کو سننے کی حامی بھر لی،، پھر جوں جوں کیس چلتا گیا دیگر ریاستی اداروں کی ناکامی مزید واضح ہوتی گئی،، ایسے میں سپریم کورٹ کا انتظامی معاملات کو قا نون کے تا بع چلا نے میں نا کا می کا نوٹس لینا بہت نیچرل تھا،، اگر پاناما فائلز کے آنے کے بعد سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کی سطح پر ہی اس مسلئے کا بہتر حل نکال لیتیں تو شاید معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ ہی نہ پاتا،،اسی طرح اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں صاف پانی کی فراہمی اور ملاوٹ کے خاتمے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں سنجیدہ ہوتیں تو شاید پھر سپریم کورٹ کو سرکاری افسران کی سرزنش کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی قانون سے آگا ہ کر نے کیلئے شہر کے کھمبو ں پر اشتہا ر لگا دینے اور میڈیامیں اربو ں کی پبلیسٹی کر نے سے ریا ستی ذمہ داریا ں پو ری نہیں ہو تیں ۔بنیادی سی بات ہے کہ ہر خلا کو کوئی نہ کوئی پر ضرور کر دیتا ہے،، اگر ریاستی ادارے اپنے فرائض کو سر انجام دینے میں ناکام ہو جائیں تو پھر عوام کی نظریں عدلیہ جیسے ریاستی اداروں کی طرف ہی اٹھتی ہیں جن سے انہیں امیدیں وابستہ ہوں ،، ایسے حالات میں عدالت عالیہ کے لئے بھی خود کو معاملات سے دور رکھنا ممکن نہیں رہتا،، میر ی پو تی نے پچھلے دنو ں مجھ سے یہ پو چھا کہ کیا اس شہر میں فٹ پا تھ نہیں ہیں ؟میں اس کو کیسے سمجھا سکتا تھا کہ وہ تو ما فیہ کے قبضے میں ہیں جن کی بنا پر مقا می اداروں کے کا رندوں کو ہر سا ل اربو ں روپے کی آمد نی ہو تی ہے البتہ اب میں اس کو شا ید سمجھا نے میں کامیا ب ہو جا ئو ں کہ پا کستا ن کی سپر یم کو رٹ کہتی ہے کہ کسی کے گز رنے کا را ستہ بند نہیں کر نے دیں گے۔ مجھے اس با ت کا بھی احساس ہے کہ بیو رو کر یسی اور سیاستدانو ں کی خوا ہش اور کو شش ہو گی کہ اعلی عدلیہ کے اس آئینی اختیا ر کو ختم کر نے کا را ستہ ڈھونڈا جا ئے بد قسمتی یہ ہے کہ اگرمحکمے کا سر براہ معا ملا ت کو چلانے کیلئے مو جو د قو انین پر عمل درآمد نہ کر واسکے تو اس سے پیدا ہو نے وا لی انا رکی کا خا تمہ کر نا کس کی ذمہ دا ری ہے مقا می حکو متو ں کے ارا کین لا وارث اور محض تا لیا ں بجا نے کیلئے رہ گئے ہیں حا لا نکہ یہ انتخا با ت بھی سپر یم کو رٹ کے حکم سے ہو ئے تھے تا کہ یہ مقا می سطح پر عوام کے مسا ئل کو حل کر نے کیلئے کا م کر سکیں عدا لت کہتی ہے کہ لو گو ں کو پینے کا صا ف پا نی میسر نہیں …وہا ں مو جو د اعلیٰ افسرا ن اس کو تسلیم بھی کر تے ہیں لیکن ان کے پاس اس سوا ل کا جوا ب نہیں ہے کہ اس صورتحال میں غر یب منرل واٹر کی کتنی بو تلیں خرید کر اپنی ضروریا رت پو ری کر سکتا ہے… ملک میں ٹیکس وصو ل کر نیوا لے ادارے نا کا م ہو چکے ہیں کیا ریا ست کی آمدنی کے ذرائع پر خامو شی اختیا ر رکھی جائیگی یا اپنی خود مختاری کا سودا کر کے بیرونی امداد سے ملک چلایا جائیگا ۔جب یہ سوال اٹھا یا جاتا ہے تو ملک کو خطر ہ لا حق ہو جاتا ہے اگر کسی روز عدا لت نے ان سے یہ بھی پو چھ لیا تو کیا کڑورو ں روپے کا معا وضہ لیکر حکو مت کے مقدمات کا تحفظ کر نیوالے قا نو نی ما ہر ین کے پاس اسکا کو ئی جواب ہو گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں