آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابھی تو وہ اپنی ذات کا کھوج لگانے کیلئے پہلا قدم بھی پوری طرح نہ اٹھا پائی تھی کہ ہم نے اس کی ذات کو ذرہ بے نشاں بنا دیا ، ابھی تو وہ خود کو بھی پوری طرح یہ سمجھا نہ پائی تھی کہ وہ ایک لڑکی ہے لیکن ہم نے اس کی معصومیت کو نوچ لیا، ابھی تو اس نے اقراء کا مفہوم بھی اچھی طرح نہ جانا تھا کہ ہم نے اسے جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ابھی تو اس نے اپنی گڑیا کےکھلونے پورے نہیں کئے تھے کہ ہم نے اس سے اس کا بچپن چھین لیا ، ابھی تو اس نے تتلیوں کو پکڑنے کی کوشش بھی شروع نہیں کی تھی کہ ہم نے اس کی زندگی کی قوس قزح کے سارے رنگ چرا لئے،ابھی تواس کی آنکھوں کی مسکراہٹ نے معنی نہیں ڈھونڈے تھے کہ ہم نے انہیں بے نور کر دیا،ابھی تو اسے اعتماد،بھروسے اور سہارے جیسے الفاظ کا مطلب بھی معلوم نہ تھا کہ ہم نے اسے انسان کی حیوانی جبلت سے آشکار کر دیا، زینب کی ذات کی نفی کرنے کے ذمہ دار ہم سب ہیں،ہمارا معاشرہ ہے ہمارا نظام ہے جس کی بے حسی پر زینب جیسا کوئی واقعہ ایک ضرب لگاتا ہے ،تھوڑی دیر کیلئے ہم کسمساتے ہیں اور پھر خواب خرگوش کے مزے لینے لگتے ہیں۔ انسانیت کے منہ پر اس طمانچے کے بعد وہی کچھ ہو رہا ہے جو ہوتا آیا ہے،وہی افسوس،ویسے ہی مذمتی بیانات،پولیس افسران کی وہی معطلی اور تبدیلی، غم زدہ والدین کی اشک شوئی کیلئے

بھرپورتعاون کے وعدے، وہی طفل تسلیاں، ویسی ہی اٹھک بیٹھک ،اسی طرح کی آنیاں جانیاں، ملزمان کی چند گھنٹوں میں گرفتاری کے دعوے، متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کیلئے املاک کو نقصان پہنچانے کیلئے روایتی احتجاج،جلاو گھیراو، اجلاس در اجلاس، نوٹس پر نوٹس، ہدایات اور احکامات،ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کا غیر ذمہ دارانہ رویہ، قراردادوں کے پلندے، کمیٹیوں کا قیام،سوشل اور روایتی میڈیا پر ہاہاکار،جسٹس فار زینب کا مطالبہ،متعلقہ قانون سازی کا عزم اور بوسیدہ نظام کو بدلنے کیلئے زور و شور سے بحث اور پھر چند روز کے بعد کسی نئے سانحےپر یہ سب ری پلے۔ قصور میں زندگی معمول پرآ چکی ، کچھ روزاور گزریں گے زینب ہماری ذلت آمیز تاریخ کا حصہ بن جائے گی اور پھر اس کی برسی پر موم بتیاں روشن کر کے ہم اپنا فرض ادا کر دیا کریں گے۔ زینب کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھانے والوں کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے میں ہم سب پیش پیش ہیں لیکن کیا ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کیلئے تیار ہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے،کیا زینب کے ملزمان کو سزا ملنے سے انصاف ہو جائے گا ،کیا معصوم بچوں کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک تھم جائے گا،آئندہ کسی زینب کی ذات ذرہ بے نشان نہیں بنے گی۔ان سوالات کے جواب کیلئے خود احتسابی ضروری ہے جس کیلئے ہم انفرادی ،اجتماعی،ادارہ جاتی یا حکومتی کسی سطح پر بھی تیار نہیں ہیں۔ وہ پولیس فورس جو آئی جی سے سپاہی تک اب ملزمان کا سراغ لگانے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہے اس نے روایتی غفلت کا مظاہرہ کیوں کیا جب زینب کی گمشدگی یا اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی گئی ،جس علاقے میں صرف ایک ماہ میں بارہ بچیوں کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہو وہاں پولیس پانچ دن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے یہاں تک کہ اسے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی متاثرہ خاندان فراہم کئے،جس پولیس اہلکار کے پاس آج بھی ملزم کو حوالات سے عدالت تک لے جانے کیلئے ذاتی بندوبست کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اس سے کرائم سین کو محفوظ بنانے اور شواہد کو اکھٹاکرنے جیسے سائنٹیفک کام کی توقع کرنا خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے،جس پولیس کو ایف آئی آر میں درج تھانے اور وقوعے کے فاصلے کی اہمیت تک کا ادراک نہ ہو وہاں ہر روز گیارہ بچوں سے جسمانی زیادتی کے واقعات پر کیسا بین کرنا ،پروٹوکول ڈیوٹیوں میں مصروف پولیس سے سیریل کلر جیسے ملزمان کے بارے میں تفتیش کی آس لگانا بے عقلی ہے۔ وہ خادم اعلیٰ جو فرماتے ہیں کہ تین دن سے سو نہیں سکے، ان کی ترجیحات میں ایسا نظام وضع کرنا کہیں موجود ہے جس میں ون مین شو کی جھلکیاں دیکھنے کی بجائے متاثرین از خود انصاف حاصل کر سکیں؟ قصور کی ہی معصوم کائنات جس پر دو ماہ پہلے قیامت ڈھا دی گئی، چلڈرن اسپتال لاہور سے مکمل صحت یاب ہوئے بغیر واپس بھیج دی گئی تب آپ سکون کی نیند کیسے سو گئے؟ آپ ہی کے دور حکومت میں اسی قصور میں سینکڑوں معصوم بچوں کو بد فعلی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی ویڈیوز بنائی گئیں،انہیں زندہ درگور کرنے والے ملزمان آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں تب آپ کی آنکھ کیسے لگ گئی؟ خود احتسابی کی بات کروں گا تومیڈیا جس کامیں بھی حصہ ہوں جس کا ہر بلیٹن زینب سے شروع ہوتا اور اسی پر ختم ہوتا ہے کیا اس نے اس معصوم بچی کے اغواکا ایک ٹکر بھی نشر کیا؟ پانچ دن وہ غائب رہی کیا اس کے بارے میں ایک خبر بھی دی گئی؟ میڈیا کی نشریات میں بچوں سے متعلق کتنا مواد شامل ہوتا ہے؟ کیا بچوں کو ان سے متعلق جرائم سے آگاہی کیلئے رضا کارانہ طور پر کوئی پبلک میسج بھی نشر یا شائع کیا گیا؟ قانون سازی کرنے کے بلند وبانگ دعوے کرنے والے بتا سکتے ہیں کہ جووینائل جسٹس سسٹم جو 2002 میں متعارف کرایا گیا تھا اس پر کتنا عمل درآمد ہوا؟ اسی قانون میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ترمیم کیلئے مسودہ گزشتہ چار سال سے رل رہا ہے لیکن اس کی منظوری کو ترجیح نہیں دی گئی۔ بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن کا قانون گزشتہ سال اگست سے ایکٹ بن چکا ہے لیکن آج تک اس کمیشن کے چیئرمین کی تقرری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ بچوں سے جسمانی زیادتی سے متعلق 2016 میں فوجداری قانون میں ترمیم کی گئی لیکن اس قانون کے بارے میں عوام میں آگاہی کیلئے کبھی تشہیر نہیں کی گئی۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ سچ بولا جائے ، بار بار باور کرایا جاتا ہے کہ قانون بنانا ہماراکام نہیں ہے لیکن بصد ادب گزارش ہے کہ اس وقت ملک میں بحث قوانین کی عدم دستیابی پر ہر گز نہیں ہے بلکہ قوانین پر عمل درآمد کی ہے۔ بچوں سے متعلق جرائم کے حوالے سے گزشتہ ایک دہائی میں اتنی قانون سازی ہو چکی ہے جو کسی بھی ملزم کو سزا دینے کیلئے کافی ہے لیکن اصل مسئلہ عدالتوں میں ملزمان کو سزا دینے کا ہے جس کیلئے رولز بنانا پارلیمنٹ کا نہیں عدلیہ کا کام ہے۔ برسوں تک مقدمات کے زیر التوا رہنے اور متاثرین کو انصاف نہ ملنے کی وجہ رولز نہ ہونا یا ان پر موثر عمل درآمد نہ کرنا ہے۔ چلڈرن کورٹس کے قیام کا قانون موجود ہے لیکن جناب ان کے رولز پارلیمان کو نہیں عدلیہ کو بنانے ہیں جو تاحال نہیں بنائے جا سکے اسی طرح ہم آج تک نصاب میں جسمانی استحصال سے بچنے اور بچوں میں اپنے تحفظ کیلئے آگاہی پرمبنی نصاب شامل نہیں کر سکے،ہم آج بھی اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے یا نہیں اور یہ کہ،ہمیں غیر ملکی نظام تعلیم سے رہنمائی لینی ہے یا اس ضمن میں اسلامی تعلیمات کافی ہیں۔ آخر میں والدین اورعوام جو اپنا کردار ادا کرنے میں کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں، انہوں نے کبھی سوچا کہ بطور والدین ہم بچوں کو کتنا وقت دیتے ہیں ان کی تربیت کن خطوط پر کر رہے ہیں،بطور عوام ہم زینب جیسے واقعے پر چند دن احتجاج کرنے کے بعد بری الذمہ ہو جاتے ہیں،لیکن کیا ہم اپنے اردگرد نظر رکھتے ہیں ،کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع پولیس کو دے کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا فرض ادا کرتے ہیں،ہرگز نہیں اس لئے ہم سب کو یہ اعتراف کرکے آگے بڑھنا ہو گا کہ ہم سب زینب کے قتل میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں